فصل ....رافضی کا قول کہ ’’بھلا یہاں کون سی شرکت ہے؟‘‘ اور…

فصل ....رافضی کا قول کہ ’’بھلا یہاں کون سی شرکت ہے؟‘‘ اور اس کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 18

ان لوگوں کے قول کی حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں کہ یہ رب العالمین کے وجود کا انکار کرتے ہیں ۔پس یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو رب العالمین ثابت نہیں کرتے؛ بلکہ ان کے عقیدہ کی انتہاء و غایت اسے اس عالم کے وجود کے لیے شرط قراردینا ہے۔ اور حقیقت میں یہ رب العالمین کو معطل کہتے ہیں ۔ جیسے ان فلاسفہ کا بھی عقیدہ ہے جوفلک کو واجب الوجود بنفسہٖ ٹھہراتے ہیں ۔

البتہ یہ لوگ علت کو ثابت کرتے ہیں ۔ یا تو علت غائیہ کو جو ان کے قدماء کے نزدیک ہے، یا علت فاعلیہ کو جو ان کے متاخرین کے نزدیک ہے۔ جس کی عند التحقیق کوئی حقیقت نہیں ، اس لیے ان میں سے طبائعیوں نے اس پر انکار کیا ہے۔

جب یہ فرض کیا کہ فلک اپنے اختیار سے حرکت کرتا ہے اور اللہ اس کی حرکت کا خالق نہیں تو اس بات پر کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ اس متحرک کی علت علت معشوقہ ہے جو اس کے مشابہ ہے۔ بلکہ یہ جائز ہے کہ متحرک ہی خود محرک ہو۔ یہ بات اپنی جگہ مفصل مذکور ہے۔ جہاں ارسطو کے علم الٰہی کے متعلق عقیدہ کے بطلان کو کئی طرح سے واضح کیا گیا ہے؛ اس سے یہ حقیقت ابھر کر سامنے آتی ہے کہ فلاسفہ ذات باری کے متعلق جاہل مطلق ہیں ۔ اور انہیں اللہ کی ہستی کا کچھ علم نہیں ۔ فلاسفہ میں سے کچھ لوگ بعض مذاہب کی طرف منسوب ہیں ؛ جیسے کہ کچھ اسلام کی طرف نسبت رکھتے ہیں ؛ مثلاً فارابی، ابن سینا، موسیٰ بن میمون؛اوردیگر یہودی ملحدین اورمتی بن یحییٰ بن عدی اور ان جیسے عیسائی ملحدین۔ یہ ملاحدہ اہل ملل میں سے ہونے کے باوجود الحادو دہریت کے ساتھ ساتھ فہم و فراست سے بیگانہ اور ارسطو کے اتباع سے بھی گئے گزرے ہیں ۔۔ اگرچہ ان لوگوں نے امور طبعیہ و ریاضیہ میں متعدد امور میں ان ملاحظہ سے سبقت کی ہے۔

غرض یہاں یہ بتلانا مقصود ہے کہ یہ لوگ امور الٰہی سے ازحد جاہل اور بے حد گمراہ ہیں کہ ان لوگوں کو اہل ملل کے نور، عقل اور ہدایت سے ایک قسم مل گئی۔ یوں یہ لوگ ان ارسطو وغیرہ سے کم گمراہ رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابن سینا نے علت اولیٰ کے اثبات میں اپنے اسلاف کے طریق سے عدول کر کے معروف طریق کو اختیار کیا جو وجود کی واجب اور ممکن میں تقسیم کا طریق ہے اور یہ کہ ممکن واجب کو مستلزم ہے۔

اس کا اور اس کے متبعین کا یہی طریقہ معروف ہے؛جیسے سہروردی مقتول اور دیگر فلاسفہ ؛ اور ابوحامد، اوررازی، اور آمدی اور دیگر متاخرین اہل کلام کایہی طریقہ ہے۔ جنھوں نے فلسفہ اور کلام کو خلط ملط کر دیا تھا۔

جن نے فلسفہ اور کلام کو خلط ملط کر دیا تھایہ لوگ شدید اضطراب، شکوک اور حیرت میں مبتلا رہے اور جوں جوں ان کا فلسفہ اور کلام میں خلط ملط بڑھتا گیا ان کی ظلمت میں اضافہ ہوتا گیا۔ جبکہ اہل ملت کے کلام میں داخل ہونے کی بنا پر ان کی ظلمت کم ہوتی گئی جب کہ ان لوگوں کے فلسفیوں کے کلام میں گھستے چلے جانے کی وجہ سے ان کی ظلمت میں اضافہ ہی ہوتا گیا۔

البتہ یہ بھی ملحوظ رہے کہ ان اہل ملل کے متکلمین میں بھی متعدد اشیاء میں شک و اضطراب ہے اور متعدد مواقع میں حق سے خروج بھی پایا جاتا ہے جبکہ متعدد مواقع میں ہوائے نفس کی اتباع اور حق میں کوتاہی پائی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے علمائے ملت اور ائمہ دین نے ان کی مذمت بیان کی ہے ؛کیونکہ وہ ان دلائل عقلیہ کی معروفت میں کوتاہ اندیشی سے کام لیا ہے جن کو اللہ نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے۔ اور ان بدعتی طرق کی طرف چلے گئے جن میں باطل ہے اور اس کی وجہ سے بعض اس حق سے نکل گئے جو ان میں اور دوسروں میں مشترک تھا۔

لطف یہ ہے کہ بعض متکلمین ان کے زمرہ میں شامل ہو کر توحید باری اور اسماء و صفات الٰہی کے اثبات جیسے اسلامی عقائد کو چھوڑ بیٹھے ۔یہ لوگ صرف توحید ربوبیت کو تسلیم کرتے ہیں ، توحید ربوبیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق و رب ہے ظاہر ہے کہ مشرکین بھی اس توحید کے قائل تھے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ لَئِنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ﴾ (لقمان: ۲۵)

’’یقیناً اگر تو ان سے پوچھے کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو ضرور ہی کہیں گے :اللہ نے۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿قُلْ مَنْ رَبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِo سَیَقُوْلُوْنَ لِلَّہِ﴾ (المومنون: ۸۷)

’’کہہ ساتوں آسمانوں کا رب اور عرش عظیم کا رب کون ہے؟ ضرور کہیں گے اللہ ہی کے لیے ہے۔‘‘

اور ان مشرکوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:

﴿وَ مَا یُؤْمِنُ اَکْثَرُہُمْ بِاللّٰہِ اِلَّا وَ ہُمْ مُّشْرِکُوْنَo﴾ (یوسف: ۱۰۶)

’’اور ان میں سے اکثر اللہ پر ایمان نہیں رکھتے، مگر اس حال میں کہ وہمشرک ہوتے ہیں ۔‘‘

اسلاف کی ایک جماعت کا قول ہے: ان سے پوچھا جائے کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے اور اس اقرار کے باوجود وہ بتوں کو پوجا کرتے تھے۔

جو توحید بندوں سے مطلوب ہے دراصل وہ توحید الوہیت ہے جس میں توحید ربوبیت بھی داخل ہے۔ تو حید الٰہی کا مطلب یہ ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے، اسی سے ڈرا جائے اور اسی کو پکارا جائے۔ اسی اللہ کو پکارے اور اللہ اسے ہر شے سے زیادہ محبوب ہو۔ اللہ کے لیے دوسرے سے محبت کریں ۔اور اسی پر بھروسہ کریں ۔ عبادت میں جہاں غایت درجہ کی محبت ہوتی ہے، وہیں اللہ کے آگے غایت درجہ کی ذلت و انکساری بھی ہوتی ہے ۔ لہٰذا مومن بندے اس کی محبت بھی کمال کے ساتھ کرتے ہیں اور اس کے آگے ذلت بھی کمال کی اختیار کرتے ہیں ۔ نہ اس سے منہ موڑتے ہیں ، ان کے ہم سر تجویز کرتے ہیں اور نہ اس کے سوا کسی دوست اور سفارشی بناتے ہیں ۔ قرآن کریم نے اس توحید کو متعدد مقامات پر بیان کیا ہے۔ یہ قرآن کی وہ مرکزی پلی ہے جو پورے قرآن کا مرکزی محورہے۔ یہ علم اور قول میں اور ارادہ اور عمل میں توحید کو متضمن ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان گرامی ہے:

﴿قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌo اَللّٰہُ الصَّمَدُo لَمْ یَلِدْ ۵ وَلَمْ یُوْلَدْo وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌo﴾ (سورۃ الاخلاص)

’’کہہ دے وہ اللہ ایک ہے۔ اللہ ہی بے نیاز ہے۔ نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا۔ اور نہ کبھی کوئی ایک اس کے برابر کا ہے۔‘‘

صفحہ 3 از 18