فصل ....رافضی کا قول کہ ’’بھلا یہاں کون سی شرکت ہے؟‘‘ اور…

فصل ....رافضی کا قول کہ ’’بھلا یہاں کون سی شرکت ہے؟‘‘ اور اس کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 18

یہی وجہ ہے کہ یہ آیات ثلثِ قرآن کے مساوی ہیں ۔ کیونکہ ان میں رب رحمن کی صفت کی بیان ہے۔

قرآن کے ایک ثلث میں توحید، دوسرے ثلث میں قصص اور تیسرے ثلث میں امر و نہی کا بیان ہے۔ کیونکہ یہ کلام اللہ ہے اور کلام یا تو خبر ہوتی ہے یا انشاء ۔ پھر خبر یا تو خالق کے بارے میں ہوتی ہے یا مخلوق کے بارے میں ۔ یوں یہ تین اجزاء ہو گئے۔ ایک خبر میں امر، نہی اور اباحت کا بیان ہے۔ یہ انشاء ہوا۔ دوسرے جز میں مخلوق کی خبر ہے، یہ قصص ہوا۔ اور تیسرے خبر میں خالق کی خبر ہے۔ یہ توحید ہوئی۔ جیسے سورۂ اخلاص میں توحید مذکور ہے۔ جو صرف رب رحمن کی صفت کابیان ہے ہم نے ارشاد نبوی کہ ’’یہ سورت ایک ثلث قرآن کے برابر ہے‘‘[البخارِیِ۶؍۱۸۹کتاب فضائِلِ القرآنِ، باب فضلِ قل ہو اللّٰہ أحد:۵؍۱۱۵۔۱۱۴ِکتاب التوحِیدِ، باب ما جاء فِی دعائِ النبِیِ۔ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ۔ أمتہ ِإلی توحِیدِ اللّٰہِ تبارک وتعالی، مسلِم:۵۵۷، ۵۵۶ کتاب صلاِۃ المسافِرِین، باب فضلِ قِراِۃ قل ہو اللہ أحد، سننِ أبِی داؤود:۲؍۹۷،۹۸ کتاب الوِترِ، باب فِی سورۃِ الصمدِ، سننِ التِرمِذِیِ۲؍۲۴۰،۲۴۳کتاب فضائِلِ القرآنِ، باب ما جاء فِی سورۃِ الإِخلاصِ....، سننِ ابنِ ماجہ: ۲؍۱۲۴۴کتاب الأدبِ باب ثوابِ القرآنِ، المسندِ، ط المعارِفِ:۸۱؍۱۵۲،۱۵۳۔]کی تفسیر میں مفصل کلام ایک مستقل جلد میں کر دیا ہوا ہے۔رہی عبادت، ارادہ اور عمل میں توحید تو جیسے سورۂ کافرون میں ارشاد ہے:

﴿قُلْ ٰٓیاََیُّہَا الْکٰفِرُوْنَo لَا اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَo وَلَا اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَا اَعْبُدُo وَلَا اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدتُّمْo وَلَا اَنْتُمْ عَابِدُوْنَ مَا اَعْبُدُo لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِo﴾ (الکافرون)

’’کہہ دے اے کافرو! میں اس کی عبادت نہیں کرتا جس کی تم عبادت کرتے ہو اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں ۔ اور نہ میں اس کی عبادت کرنے والا ہوں جس کی عبادت تم نے کی۔ اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں ۔ تمھارے لیے تمھارا دین اور میرے لیے میرا دین ہے۔‘‘

سو پہلی توحید یہ رب تعالیٰ کے لیے صفات کمال کے اثبات کو متضمن ہے، وہ یوں کہ اس میں رب تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ اور صفاتِ کمالیہ کا بیان ہے اور دوسری توحید اخلاصِ دین کو متضمن ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہے:

﴿وَمَا اُمِرُوْٓا اِِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ﴾ (البینۃ: ۵)

’’اور انھیں صرف یہ حکم دیا گیا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں دین کواس کے لیے خالص کرتے ہوئے۔‘‘

اب پہلی توحید میں تعطیل سے براء ت ہے تو دوسری توحید میں شرک سے براء ت ہے اور شرک کی اصل یا تو تعطیل ہے جیسے فرعون کی موسی کے سامنے تعطیل اور جناب ابراہیم علیہ السلام سے ان کے رب کے بارے میں جھگڑنے والے کی ان کے سامنے تعطیل، دجال مسیح ضلالت کی اپنے خصم جناب عیسیٰ بن مریم مسیح ہدایت کے سامنے تعطیل۔

صفات باری میں دوسروں کو شریک قرار دینا، یہ عقیدہ امم و اقوام میں تعطیل کی نسبت زیادہ پایا جاتا ہے۔ اور مشرک جمہور انبیاء کرام علیہم السلام کے دشمن رہے ہیں جبکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مخالفین میں معطلہ اور مشرکین دونوں فریق پائے جاتے تھے۔ تعطیل ذات کا عقیدہ تعطیل صفات کی نسبت کم رائج ہوا، تعطیل صفات کا نظریہ تعطیل ذات کو مستلزم ہے، تعطیل صفات کے قائل واجب الوجود کو ان صفات سے متصف کرتے ہیں جو ممتنع الوجود کا خاصہ ہیں ۔

یہ امر قابل غور ہے کہ سلف صالحین میں سے جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ و تابعین کرام سے جتنا بھی زیادہ قریب تھا، وہ اسی قدر توحید و ایمان اور عقل و عرفان سے قریب تر تھا۔ اور جو شخص ان سے جتنا بھی زیادہ دور تھا وہ اسی قدران اوصاف سے بعید تر تھا۔ بنا بریں متکلمین میں سے جو لوگ متاخر تھے، اور جنہوں نے علم الکلام کو فلسفہ سے گڈ مڈ کر دیا۔مثلاً امام رازی، علامہ آمدی اور ان کے نظائر و امثال۔ یہ لوگ اثبات توحید و صفات کمال میں امام جوینی رحمہ اللہ سے کم درجہ کے تھے۔ علی ہذا القیاس اس ضمن میں امام جوینی، قاضی ابوبکر، ابن الطیب رحمہم اللہ اور ان کے معاصرین سے فروتر درجہ کے تھے، اور یہ لوگ کسی طرح بھی امام ابو الحسن اشعری رحمہ اللہ کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتے۔ [متکلمین کے احوال و کوائف سے واقفیت رکھنے والا ہر شخص دو حقیقتوں سے کلیۃً آگاہ ہے: ۱۔ پہلی بات یہ ہے کہ متکلمین اسلامی حقائق کو شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھنے والوں کے مقابلہ میں کلامی فلسفہ کے اسالیب کو ایک شرعی ضرورت تصور کیا کرتے تھے، البتہ عرصہ دراز تک اسے جاری رکھنے کی بنا پر وہ ان اسالیب و اطوار کے خوگر ہو گئے تھے۔ ۲۔ دوسری حقیقت یہ ہے کہ آگے چل کر جب ان میں پختگی کے آثار پیدا ہوئے تو نور الٰہی کی بدولت ان پر یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ ان کلامی مباحث سے فائدہ کم اور نقصان زیادہ لاحق ہورہا ہے، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان میں ان اسالیب کو ترک کرنے کا میلان پیدا ہوا، اور وہ عقائد میں سلف صالحین کی پیروی کرنے لگے۔ قبل ازیں بیان کیا جاچکا ہے کہ امام جوینی کی کتاب ’’الرسالۃ النظامیۃ‘‘میں ہے کہ جب ابو جعفر ہمدانی نے علو کے موضوع پر آپ سے تبادلہ افکار کیا تو امام جوینی طریق سلف کی جانب لوٹ آئے تھے، اس سے بھی عمدہ ترین واقعہ یہ ہے جو امام اشعری کو ان کی زندگی کے تیسرے دور میں پیش آیا اور اسی پر۳۲۴ھ میں ان کی زندگی کا خاتمہ ہوگیا، یہ واقعہ ان کی تصنیف ’’کتاب الابانۃ ‘‘ میں مذکور ہے جو ان کی آخری کتاب ہے۔ (شذرات الذہب: ۲؍ ۳۰۳ نیز مجلۃ الازھر، م:۲۶ ؍ ۳۱۔ ۳۳)۔یہ تیسرا دور ۳۰۳ہجری سے شروع ہوتاہے؛جس میں انہوں نے سلف کی موافقت کی ہے۔]جبکہ امام اشعری کا درجہ ابو محمد بن کلاب سے نیچے ہے اور ابن کلاب اس ضمن میں ائمہ سلف کی ہم سری کا دعویٰ نہیں کر سکتے ۔

صفحہ 4 از 18