فصل ....رافضی کا قول کہ ’’بھلا یہاں کون سی شرکت ہے؟‘‘ اور…

فصل ....رافضی کا قول کہ ’’بھلا یہاں کون سی شرکت ہے؟‘‘ اور اس کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 18

یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ متکلمین میں سے جو لوگ تقدیر کے قائل ہیں وہ منکرین تقدیر معتزلہ و شیعہ کی نسبت اثبات توحید و صفات کمال میں ان سے کہیں بہتر ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قائلین تقدیر باری تعالیٰ کے لیے کمال قدرت، کمال مشیت، کمال خلق اور اس کے منفرد ہونے کا اثبات کرتے ہیں ؛ اور کہتے ہیں کہ وہ تنہا تمام اعیان و اعراض کا خالق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی رائے میں قوت اختراع اللہ تعالیٰ کی خصوصی صفت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قدرت اختراع اللہ تعالیٰ کے جملہ خصائص میں سے ایک ہے اور صرف یہی صفت اس کی خصوصی صفت نہیں ۔

بخلاف ازیں تقدیر کا انکار کرنے والے شیعہ و معتزلہ حیوان کے احوال کو اللہ کی مخلوق قرار نہیں دیتے، دراصل ان کے نزدیک ان حوادث کا کوئی بھی خالق نہیں ، بلکہ ان کو انجام دینے والے اللہ کے شریک ہیں ، جو ان حوادث کے فاعل ہیں ۔ متاخرین قدریہ میں سے بہت سے لوگ بندوں کو ان کا خالق قرار دیتے ہیں ، البتہ متقدمین قدریہ اس سے احتراز کرتے تھے۔

پھر متکلمین اہل اثبات رب تعالیٰ کے لیے خیات، علم، قدرت، کلام، سمع اور بصر جیسی صفاتِ کمال کا اثبات کرتے ہیں ۔ ان لوگوں نے ان صفات کو ثابت تو کیا ہے لیکن بعض صفات کی بابت کوتاہی کر گئے ہیں ۔ چنانچہ ان لوگوں نے توحید میں کوتاہی کی اور یہ سمجھے کہ کمالِ توحید توحید ربوبیت ہے اور اس توحید الوہیت کی جانب نہ بڑھے جس کو اللہ کے پیغمبر لے کر آئے اور جس کو لے کر آسمانی کتابیں اتریں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کا زیادہ تر کلام معتزلہ سے ماخوذ ہے اور معتزلہ اس باب میں بے حد کوتاہ ہیں ۔ کیونکہ ان لوگوں نے توحید ربوبیت کا حق ادا نہیں کیا تو بھلا توحید الوہیت کا حق کیونکر ادا کیا ہو گا؟

اس کے باوجود معتزلہ کے شیوخ و ائمہ اور اشعریہ و کرامیہ کے ائمہ توحید ربوبیت کی تضریر میں ان فلسفہ زدہ اشعریہ سے پھر بہتر ہیں جیسے رازی، آمدی اور ان جیسے دوسرے لوگ کہ ان لوگوں نے اس توحید کو ابن سینا جیسے لوگوں کی بیان کردہ توحید کے ساتھ خلط ملط کر دیا ہے۔ جس کا کلام تحقیق توحید سے سب سے زیادہ بعید ہے۔ اگرچہ خود ان کا کلام ان کے اپنے قدماء ارسطو وغیرہ سے بہتر ہے۔

کیونکہ ان لوگوں نے زیادہ سے زیادہ واجب الوجود کو ثابت کیا ہے۔ بے شک یہ بات حق ہے جس میں نہ معطلہ کا اختلاف ہے اور نہ کسی مشرک کا، بلکہ سب کے سب لوگ واجب کے وجود کے اثبات پر متفق ہیں ۔ سوائے چند لوگوں کے جو کہتے ہیں کہ یہ عالم ازخود وجود میں آیا ہے۔ البتہ یہ کسی معروف جماعت کا قول نہیں ۔ اسے صرف مقدر مانا جاتا ہے، جیسے شبہ سو فسطائیہ تاکہ اس کی تحقیق کی جائے۔ یہ بعض لوگوں پر گزرنے والا ایک خیال ہے جیسے جیسا کہ سفسطہ جیسے خیالات لوگوں کے دلوں پر گزرتے ہیں ۔ غرض یہ کسی معرفو جماعت کا قول نہیں ہے۔ اس قول کا فساد اتنا ظاہر ہے کہ کسی دلیل کی ضرورت نہیں ۔ کیونکہ بلا محدث کے حدوث حوادث کا امتناع سب سے زیادہ ظاہر ہے اور یہ نہایت واضح علم ضروری ہے۔

پھر جب ان لوگوں نے واجب بذاتہ کو مان لیا تو اسے ایک اور اکیلا ٹھہرانے کا ارادہ کیا کہ جو صرف اذہان میں پایا جائے نہ کہ اعیان میں اور یہ اطلاق کی شرط کے ساتھ وجود مطلق ہے۔ جس کی خارج میں کوئی حقیقت نہیں ۔ کیونکہ وجود مطلق بشرط الاطلاق صرف اذہان میں پایا جاتا ہے نہ کہ اعیان میں ۔ یا تو سلوب و اضافات کے ساتھ مقید ہوتا ہے جیسا کہ ابن سینا اور اس کے پیروکاروں کا قول ہے اور یہ پہلے قول سے بھی زیادہ تعطیل پر مشتمل قول ہے۔

ان لوگوں نے ان معتزلہ کی مشابہت میں اسے خالص توحید سمجھا جو نفی صفات میں ان کے شریک ہیں اور اسے توحید کا نام دیا۔ پھر یہ لوگ تعطیل میں جسے وہ توحید سمجھتے ہیں ، ایک دوسرے کا مقابلہ اور فخر کرنے لگے کہ کون اس باب میں زیادہ حاذق ہے۔ حتیٰ کہ ان کے اگلوں نے بھی ان کی طرح باہم فخر کیا جیسے ابن سبعین اور جیسے فلسفہ کے پیروکار۔ اور ابن تومرت جیسے جو جہمیہ کے پیروکار ہیں ۔ یہ سب وجود مطلق کے قائل ہیں ۔

پھر ایک دوسرے پر تعطیل کے بارے میں زیادہ باریک بینیاں کر کے فخر کرتے ہیں ۔

چنانچہ ان کے چند لوگ میرے پاس بھی آئے تھے۔ میں نے ان سے بات کی تھی اور میں نے کتابیں لکھ کر ان کے کشف اسرار معرفت توحید اور ان کے فساد کو بیان کیا۔ یہ سمجھتے تھے کہ ان کا کلام لوگ سمجھ نہیں سکتے اور مجھے بھی یہ کہا کہ اگر تم ان کے کلام کی حقیقت کو کھول نہ سکے اور اس کے فساد کو واضح نہ کر سکے تو اس بارے لوگوں کے ردّ کو نہ مانیں گے۔

سو میں نے ان کے مقاصد کے حقائق کو ان پر کھولا اور انھوں نے مانا کہ ان کی مراد یہی ہے اور ان کے سرداروںنے بھی ان کی موافقت کی۔ پھر میں نے ان کے کلام کے فساد و الحاد کو بیان کیا۔ جس پر انھوں نے اپنے عقائد سے رجوع کر لیا اور اب اپنے ملحد اسلاف کے ردّ میں کتابیں لکھنے لگے۔ جو کبھی ان کے نزدیک تحقیق، توحید، عرفان اور یقین کے ائمہ تھے۔

فلاسفہ اور دلائل توحید:

ان فلاسفہ کے پاس اپنی تعطیل زدہ توحید کے زیادہ سے زیادہ اور وزنی دلائل دو ہیں :

اول:....اگر واجب بالذات دو ہوتے تو وجوب میں شریک ہوتے اور ہر ایک دوسرے سے اپنا ایک امتیازی وصف رکھتا اور وصف مشترک، امتیازی وصف سے جدا ہوتا۔ جس سے واجب الوجود کا مرکب ہونا لازم آتا اور مرکب اپنے اجزا کا محتاج ہوتا ہے اور اجزاء مرکب کا غیر ہوتے ہیں اور غیر کا محتاج واجب بالذات نہیں ہو سکتا۔

دوم:....یہ کہ جب وہ دونوں ذاتیں وجود میں متفق ہوں گی اور ہر ایک اپنے امتیازی وصف کے ساتھ دوسری ذات سے جدا ہو گی تو لازم آئے گا کہ مشترک مختص کے ساتھ معلول ہو۔ جیسے دو آدمی انسانیت میں مشترک ہوں اور دونوں میں سے ہر ایک دوسرے سے اپنی شخصیت کی وجہ سے ممتاز ہو گا۔ پس مشترک یہ مختص کے ساتھ معلول ہو گا اور یہ باطل ہے۔ کیونکہ مشترک اور مختص میں سے ہر ایک اگر دوسرے کے عارض ہو تو وجوب کا واجب کو عارض ہونا یا اس کا معروض ہونا لازم آئے گا اور دونوں صورتوں میں وجوب واجب کی صفت لازمہ نہ ہو گی اور یہ محال ہے کیونکہ واجب کا غیر واجب ہونا ممکن نہیں ۔

صفحہ 5 از 18