فصل ....رافضی کا قول کہ ’’بھلا یہاں کون سی شرکت ہے؟‘‘ اور…

فصل ....رافضی کا قول کہ ’’بھلا یہاں کون سی شرکت ہے؟‘‘ اور اس کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 6 از 18

اگر ہر ایک دوسرے کو لازم ہو تو مشترک کا مختص کی علت ہونا جائز نہ ہو گا۔ کیونکہ جہاں بھی علت پائی جاتی ہے معلول بھی پایا جاتا ہے۔ سو لازم آیا کہ جہاں بھی مشترک پایا جائے گا تو مختص اور مشترک اس میں اور اس میں بھی پایا جائے گا۔ تو لازم آئے گا کہ جو ایک کا مختص ہے وہ دوسرے میں پایا جائے اور یہ محال ہے جو اختصاص کو اٹھا دیتا ہے۔

ابن سینا نے ’’الاشارات‘‘ میں اور اشارات کے شارحین جیسے رازی اور طوسی وغیرہ نے جو کلام ذکر کیا ہے، یہ اس کا اختصار ہے۔ فارابی اور سہروردی وغیرہ فلاسفہ نے بھی ان دونوں دلائل کو اختصار کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ ابو حامد غزالی نے بھی ’’تہافت الفلاسفۃ‘‘ میں ان دلائل کو ذکر کیا ہے۔ رازی اور آمدی نے وجوب کے صفت ثبوتیہ ہونے کے منع ہونے کی بابت ان دونوں دلائل کا جواب دیا ہے۔ اگرچہ وہ جواب ہمیں پسند آیا ہے۔ لیکن اس کا جواب دو طرح سے ہے:

۱۔ معارضہ کے طور پر۔ وہ یوں کہ وجود کی دو قسمیں (۱) واجب (۲) اور ممکن ۔اور دونوں میں سے ہر ایک وجود اپنے ایک خاصہ کی وجہ سے دوسرے سے ممتاز ہوتا ہے۔ جس سے لازم آئے گا کہ واجب اس چیز سے مرکب ہے جو اس میں مشترک ہے اور جو اس میں ممتاز ہے۔ اور یہ بھی لازم آئے گا کہ وجود واجب معلول ہو اور معارضہ حقیقت کے ذریعے بھی ہے۔ کیونکہ حقیقت بھی واجب اور ممکن میں تقسیم ہوتی ہے اور واجب اپنے خاصہ کی بنا پر ممکن سے ممتاز ہوتا ہے۔ سو لازم آیا کہ حقیقت واجبہ مشترک اور مختص سے مرکب ہو اور یہ بھی لازم آیا کہ حقیقت واجبہ معلول ہو۔اور معارضہلفظ ماہیت کے ذریعے بھی ہو سکتا ہے، وہ یوں کہ ماہیت واجب اور ممکن میں تقسیم ہوتی ہے۔ الی آخر الکلام۔

۲۔ دوسرا حل شبہ کے طور پر۔ وہ یوں خارج میں موجود دو چیزیں ، چاہے وہ دونوں واجب ہوں یا ممکن، اور چاہے وہ دونوں موجود جسم ہوں یا جوہر، حیوان ہوں یا انسان وغیرہ وغیرہ کہ خارج میں دونوں میں سے کوئی ایک چیز دوسری کو اپنے خصائص میں شریک نہ کرے گی۔ نہ وجوب میں ، نہ وجود میں ، نہ ماہیت میں اور نہ کسی اور چیز میں ۔ وہ صرف اس کے ساتھ اس چیز میں مشابہ ہو گی۔

وہ مطلق جس میں وہ شریک ہوں گی، وہ خارج میں کلی مشترک نہ ہو گا مگر ذہن میں ۔ اور وہ خارج میں کلی عام مشترک نہ ہو گا بلکہ جب یہ کہا جائے گا کہ دو واجب جب وجوب میں مشترک ہوتے ہیں تو لازم ہے کہ ہر ایک دوسرے سے اپنی خصوصیت کے ساتھ ممتاز ہو اور یہ اس کہنے کی طرح ہے: جب دونوں حقیقت میں مشترک ہوں گے تو ضروری ہے کہ ہر ایک اپنی خصوصیت کے ساتھ دوسرے سے ممتاز ہو۔

سو حقیقت حقیقت عامہ بھی ہوتی ہے اور حقیقت خاصہ بھی۔ جیسا کہ وجوب عام بھی ہوتا ہے اور خاص بھی۔ اب عام مشترک نہ ہو گا۔ مگر ذہن میں اور خارج میں صرف خاص ہو گا جس میں کوئی اشتراک نہیں ہوتا اور جس میں اشتراک ہو اس میں کوئی امتیاز نہیں ہوتا اورجس میں امتیاز ہو، اس میں اشتراک نہیں ہوتا۔ سو اب خارج میں ایسی کوئی شے واحد نہ رہ گئی جس میں مشترک اور ممیز دونوں ہوں ۔ البتہ اس میں وصف ہوتا ہے جس میں دوسرا اس کے مشابہ ہوتا ہے اور ایسا وصف بھی ہوتا ہے جس میں دوسرا اس کے مشابہ نہیں ہوتا۔

ان لوگوں نے الٰہیات میں بھی ویسی ہی غلطی کی ہے جیسی انھوں نے منطق کی کلیات: جنس، نوع، فصل، خاصہ اور عرضِ عام وغیرہ میں کی ہے۔ وہ یوں کہ انھیں اس بات کا وہم ہوا کہ خارج میں کلی مشترک پائی جاتی ہے۔ ہم نے اس پر تنبیہ کر دی ہے اور واضح کر دیا ہے کہ خارج میں کلی مشترک کا کوئی وجود نہیں ۔ مگر مختص پایا جاتا ہے جس میں کوئی اشتراک نہیں ہوتا۔ اور اشتراک، عموم او کلیت وجود کو تب عارض ہوتی ہے جب وہ خارج میں نہ ہو بلکہ ذہن میں ہو۔ ان لوگوں نے کلی کی تین اقسام کر دی ہیں : (۱) طبیعی (۲) منطقی اور (۳) عقلی

کلی طبیعی:....یہ مطلق ہے جو کسی شرط کے ساتھ مشروط نہیں ۔ جیسے انسان ’’من حیث ہو ہو‘‘ اپنی جمیع قیود سے قطع نظر۔ 

کلی منطقی:....یہ عام اور خاص اور کلی اور جزئی ہے۔ سو نفس وصف کلی یہ منطقی ہے۔ کیونکہ منطقی میں قضایا پر اس اعتبار سے بحث کی جاتی ہے کہ یہ قضیہ کلیہ ہے یا جزئیہ۔

کلی عقلی:....یہ دو باتوں کا مجموعہ ہے اور یہ انسان کا عام اور مطلق ہونے کے ساتھ موصوف ہونا ہے۔ ان کے نزدیک یہ کلی صرف ذہن میں ہی پائی جاتی ہے۔ البتہ افلاطون کے حواریوں سے امثلہ افلاطونیہ حکایت کی جات یہیں جن کا باطل ہونا بے غبار ہے۔ کیونکہ خارج میں عام نہیں پایا جاتا اور رہی کلی منطقی تو وہ بھی صرف ذہن میں پائی جاتی ہے۔ البتہکلی طبیعی کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ خارج میں پائی جاتی ہے۔ پس جب ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ انسان ہے تو اس میں انسان ’’من حیث ہو ہو‘‘ ہوتا ہے لیکن کہا جائے گا کہ یہ خارج میں ثابت ہے۔ لیکن تعیین اور تخصیص کی قید کے بغیر۔ ناکہ اطلاق کی قید کے ساتھ، اور مطلق لا بشرط ہو گا۔ سو خارج میں نہ تو مطلق لا بشرط ہوتا ہے اور نہ مطلق بشرط الاطلاق ہوتا ہے۔ بلکہ خارج میں معین اور مخصص ہوتا ہے۔

پس ذہن جسے مطلق لا بشرط التقیید مانتا ہے، وہ خارج میں بشرط التقیید ہوتا ہے دراصل ان لوگوں پر اذہان کی چیزیں اعیان کے ساتھ مشتبہ ہو گئی ہیں ۔ ہم نے ایک اور جگہ اس کی تفصیل بیان کر دی ہے اور منطقیوں کی اس غلطی پر تنبیہ کر دی ہے جس کی بنا پر وہ امور الٰہی اور طبیعیہ میں گمراہ ہوئے ہیں ۔ جیسے صرف عقل میں موجود امورِ عقلیہ کو خارج میں موجود امور سمجھ لینا وغیرہ کہ جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ۔

الٰہیات پر بحث کرنے والے منطقی یہ بھی کہتے ہیں کہ کلیات صرف اذہان میں ہوتی ہیں نہ کہ اعیان میں ۔ چنانچہ ان کا ایک جگہ کا کلام خود ان کے دوسری جگہ کے کلام کی خطا کو واضح کرتا ہے۔ کیونکہ اللہ نے اپنے بندوں کو صحت و سلامتی پر پیدا کیا ہے، جبکہ فسادِ فطرت عارضی ہوتا ہے۔ بسا اوقات ایسا بھی ہو جاتا ہے کہ آدمی کے اپنے فاسد کلام میں ہی ایسی بات مل جاتی ہے جو اس کے پہلے کلام کے فاسد ہونے کو بتلاتی ہے۔ یوں دونوں کلاموں میں تناقض سامنے آ جاتا ہے۔

صفحہ 6 از 18