فصل ....رافضی کا قول کہ ’’بھلا یہاں کون سی شرکت ہے؟‘‘ اور…

فصل ....رافضی کا قول کہ ’’بھلا یہاں کون سی شرکت ہے؟‘‘ اور اس کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 7 از 18

غرض یہاں ان فلسفیوں کی توحید پر تنبیہ کرنا مقصود ہے۔ یہ لوگ لفظ واجب میں اسی بات کو پہنچے جس کو معتزلہ لفظ قدیم میں پہنچے۔ سو انھوں نے کہا کہ واجب ایک ہی ہو گا۔ اس کی کوئی صفت ثبوتیہ نہ ہو گی۔ جیسا کہ ان لوگوں نے کہا کہ قدیم صرف ایک ہو گا اور اس کی کوئی صفت ثبوتیہ نہ ہو گی۔ جس سے ان فلسفہ زدہ متاخرین متکلمین کے کلام کا بطلان ظاہر ہو گیا۔ جنھوں نے فلسفہ اور کلام کو ایک کر دیا اور ان کے کلام کی خطا و غلطی بھی سامنے آ گئی جنھوں نے تصوف میں فلسفہ گھسا دیا۔ جیسے ’’صاحب مشکاۃ الانور‘‘ اور ’’الکتب المضنون بہا علی غیر اہلہا‘‘ وغیرہ۔اور ان جیسی دیگر کتب۔ اس مسئلہ پر کئی مقامات پر تفصیل سے گفتگو ہوچکی ہے۔ 

برہان تمانع:

حتی کہ یہ متاخرین اپنے متقدمین کی دلیل توحید کی تقریر تک نہ پہنچ سکے اور وہ ہے دلیل تمانع ۔ انھیں اس دلیل میں اشکال پیش آیا اور یہ سمجھے کہ شاید یہ دلیل قرآن کی اس آیت میں مذکور ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿لَوْ کَانَ فِیْہِمَآ اٰلِہَۃٌ اِلَّا اللّٰہُ لَفَسَدَتَا﴾ (الانبیاء: ۲۲)

’’اگر ان دونوں میں اللہ کے سوا کوئی اور معبود ہوتے تو وہ دونوں ضرور بگڑ جاتے۔‘‘

حالانکہ بات یوں نہیں ۔ بلکہ یہ لوگ معرفت قرآن سے قاصر رہ گئے ہیں اور یہ متاخرین ان کوتاہ بینوں کے کلام کے سمجھنے سے بھی قاصر رہے ہیں ۔ سو جب یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی تعلیمات کو سمجھنے سے قاصر رہے تو ان باتوں کی طرف پھرے جنھوں نے انھیں سوائے حیرت و شک ضلالت و غوایت کے اور کچھ نہیں دیا۔ جس کی تفصیل اپنے مقام پر موجودہے۔ لیکن ہم یہاں اس پر تنبیہ کریں گے۔

متکلمین کے نزدیک مشہور دلیل تمانع یہ ہے کہ اگر اس عالم ارضی کے دو صانع ہوتے تو ان میں سے ایک کسی بات کا ارادہ کرتا تو دوسرا اس کی مخالفت کرتا، مثلاً ایک چاہتا کہ آفتاب مشرق سے طلوع ہو اور دوسرا چاہتا کہ مغرب سے، ظاہر ہے کہ دونوں کا ارادہ پورا نہیں ہو سکتا، اس لیے کہ یہ جمع بین الضدین ہے، بنا بریں جس کی بات پوری نہ ہو گی، وہ رب نہیں ہو سکتا۔ یا دونوں میں سے کسی ایک کی مراد حاصل ہوتی اور دوسرے کی نہ ہوتی۔ تو رب وہ ٹھہرتا جس کی مراد حاصل ہوئی ہے نہ کہ دوسرا۔ اس کی تاکید یہ کہہ کر ہو سکی ہے کہ جب ایک نے ایسی بات کا ارادہ کیا کہ محل دونوں سے خالی نہ ہوتا۔ اسی طرح دونوں خداؤں میں سے ایک جب کسی چیز کو حرکت دینا چاہے اور دوسراا سی چیز کو ساکن کرنا چاہے تو بھی یہی صورت ہوگی۔یا تو دونوں کی مراد پوری ہونا ممتنع ٹھہرے گی۔ جبکہ دونوں کی مراد کا عدم بھی ممتنع ہے۔کیونکہ جسم حرکت اور سکون دونوں سے خالی نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا دونوں میں سے ایک کی مراد کا حصول متعین ہو گیا اور وہی رب کہلائے گا۔

اس تقریر پر ایک مشہور سوال ہوتا ہے، وہ یہ کہ ہو سکتا ہے کہ:

٭ دونوں خداؤں کے ارادے باہم متحد بھی ہو سکتے ہیں ؟تب کہاں کا اختلاف؟

٭ متاخرین نے اس سوال کے متعدد جوابات دئیے ہیں جو خود یہ ایک دوسرے سے ٹکراؤ رکھتے ہیں ۔ اور یہ لوگ قدماء کی تقریر پر مطلع نہیں ہو سکے۔ جیسے اشعری، قاضی ابوبکر، قاضی ابو الحسین بصری اور قاضی ابویعلی وغیرہ۔ کیونکہ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ارادہ میں دونوں کے اتفاق کا وجوب دونوں کے عجز کو مستلزم ہے۔ جیسے دونوں کا تمانع دونوں کے عجز کو مستلزم ہے۔پھر ان میں سے کسی نے اس تقریر کا ذکر کرنے سے اعراض کیا ہے کیونکہ اس کا مقصود یہ بیان کرنا ہے کہ دونوں کا فرض کرنا دونوں کے عجز کا تقاضا کرتا ہے۔اگر کہا جائے کہ دونوں میں سے کسی ایک کے لیے دوسرے کی مخالفت ممکن نہیں ، تو یہ اس کے عجز میں زیادہ ظاہر ہے ۔ان میں کوئی تو اس کو بیان کرتا ہے، جیسے انھوں نے دونوں میں سے ہر ایک کے استقلال کے امتناع کو بیان کیا ہے۔

اس کے جواب میں یہ بھی کہتے ہیں : دو رب فرض کرنے کی صورت میں یا تو ان میں سے ہر ایک بذات خود قادر ہوگا یا دوسرے کے ساتھ ملے بغیر قدرت سے بہرہ ور نہ ہوگا، بصورت ثانی وہ ممتنع لذاتہٖ ہوگا، نیز اس سے علت و فاعل دونوں میں دور لازم آئے گا۔ اس کی وجہ اس امر کا امکان ہے کہ دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے کو قادر بنایا ہو۔ یہ بات مسلم ہے کہ دونوں خداؤں میں سے ہر ایک اسی صورت میں فاعل ہوسکتا ہے جب وہ قدرت سے بہرہ ور ہو۔ جب دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے کو قادر بنایا ہو تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر ایک نے دوسرے کو فاعل بھی بنایا یعنی رب ہونے میں اس کی مدد کی، کیونکہ رب کا تو خود قادر ہونا لازم ہے۔ سو یہ ایک اس دوسرے کو فاعل قادر اور رب بنائے گا۔ اسی طرح یہ دوسرا اس پہلے کو؛ ظاہر ہے کہ جب دونوں رب واجب و قدیم تھے تو وہ ایک دوسرے کے محتاج کیوں کر ہوئے، یہ بداہۃً ممتنع ہے۔

کیونکہ ان میں سے ایک اس وقت تک قادر، رب اور فاعل نہ بنے گا جب تک اسے وہ دوسرا اس قابل نہ بنائے۔اسی طرح وہ دوسرا پہلے کو جب تک قادر وغیرہ نہ بنائے وہ پہلا رب نہ بنے گا ۔اور یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے کوئی کہے: ’’یہ پہلا اس وقت تک موجود نہ ہو گا جب تک وہ دوسرا اسے موجود نہ بنائے۔‘‘ اور اس کا ممتنع ہونا لازم ہے۔ جیسا کہ گزشتہ میں اس کی طرف اشارہ گزرا ہے۔ وہ یہ کہ دورِ قبلی کے ممتنع لذاتہ ہونے پر عقلاء کا اتفاق ہے۔ جیسے کہ علل اور فاعلین میں دور ممتنع ہے۔ لہٰذا دونوں میں سے ہر ایک کا دوسرے کے لیے علت ہونا یا اس کے لیے فاعل ہونا یا علت اور فاعل کا جزء ہونا ممتنع ہوتا ہے۔ تو جب دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کے بغیر قادر یا فاعل نہیں تو لازم آیا کہ دونوں میں سے ہر ایک علت فاعلہ ہو یا اس کے تمام کی علت ہو جس کے ذریعے دوسرا فاعل قادر بنتا ہے اور یہ عقلاء کا اتفاق ہے کہ بالضرور ممتنع ہے۔ پس لازم آیا کہ رب قادر بنفسہٖ ہو اور جب وہ قادر بنفسہٖ ہو گا۔ پھر اگر تو اسے دوسرے کے ارادہ کے خلاف ارادہ ممکن ہوا تو دونوں میں اختلاف ممکن ہوا اور اگر اسے یہ ممکن نہ وا اور صرف وہی ہو گا جو دوسرا ارادہ کر لے گا تو یہ عاجز ٹھہرا۔

صفحہ 7 از 18