فصل ....رافضی کا قول کہ ’’بھلا یہاں کون سی شرکت ہے؟‘‘ اور…

فصل ....رافضی کا قول کہ ’’بھلا یہاں کون سی شرکت ہے؟‘‘ اور اس کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 8 از 18

اگر فرض کیا کہ اسے صرف وہی ارادہ اور فعل ہی ممکن ہے جو دوسرے کا ارادہ اور فعل ہے تو اس میں دونوں کا عجز لازم آیا۔ بلکہ یہ بھی ممتنع لنفسہٖ ہوا۔ اسی طرح اگر دوسرا جب تک قادر نہ ہو یہ پہلا قادر نہ ہو گا تو یہ ممتنع لذاتہ ہو گا اور اگر یہ تب ہی ممکن ہو جب دوسرا ممکن بنائے تو یہ اس کہنے کے بمنزلہ ہے کہ ’’پہلا تب ہی قادر بنے گا جب دوسرا اسے قادر بنائے گا۔‘‘

دوسرے اس تقریر پر دونوں میں سے ہر ایک کے لیے مانع دوسرا ہو گا۔ پھر دونوں میں سے ہر ایک مانع بھی ہو گا اور ممنوع بھی اور مانع تب مانع ہوتا ہے جب وہ منع پر قادر ہو اور جو دوسرے کو فعل سے منع کرنے پر قادر ہو، تو اس کی فاعل ہونے پر قدرت بدرجہ اولیٰ ہو گی۔ سو دونوں میں سے ہر ایک فاعل نہ بنے گا یہاں تک کہ وہ فعل پر قادر ہو اور جب وہ فعل پر قادر ہو گا تو اس کا ممنوع ہونا ممتنع ہو گا۔ سو دونوں میں سے ہر ایک کا مانع اور ممنوع دونوں ہونا ممتنع ہوا اور یہ دونوں کے ایک فعل پر اتفاق کے وجوب کو لازم ہے۔ سو معلوم ہو گیا کہ دونوں کا ایک فعل کے اتفاق پر وجوب ممتنع ہے اور دونوں کے اختلاف کا امکان ثابت ہو گیا۔ سو جب دونوں کے اتفاق کا لزوم فرض کیا جائے گا تو یہ ممتنع لذاتہ ہو گا۔ ہاں یہ مخلوقین میں ممکن ہے۔ کیونکہ ان کی قدرت غیر سے مستفاد ہوتی ہے۔

اگر یہ کہا جائے کہ یہ ایک قادر نہ ہو گا یہاں تک کہ وہ دوسرا قادر ہو۔ تو یہاں ایک تیسرے کا ہونا ممکن ٹھہرا جو دونوں کو قادر بنائے۔ یہیں سے ایک مخلوق کا دوسری مخلوق کے لیے معاون ہونا ممکن ہوا۔ جبکہ خالقوں پر معاونت ممتنع ہے۔ کیونکہ معاون مخلوق میں سے ہر ایک کو غیر سے قدرت حاصل ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ قادر بنتا ہے۔ کیونکہ دونوں میں سے ہر ایک کو دوسرے کی اعانت سے قبل قدرت تھی اور دونوں کے اجتماع کے وقت دونوں میں سے ہر ایک کی قدرت دوسرے کی قوت سے مل کر اور زیادہ ہو جاتی ہے۔ جیسے دو ہاتھ جو ایک دوسرے سے مل کر وقت میں بڑھ جاتے ہیں کیونکہ دونوں میں سے ہر ایک کی قدرت ہوتی ہے جو ملنے پر بڑھ جاتی ہے۔ سو دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کو دینے والا بھی ہے اور اس سے لینے والا بھی ہے۔ جس سے اجتماع کے وقت قوت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔جبکہ یہ خالقوں میں ممتنع ہے۔ کیونکہ خالقِ قدیم واجب لنفسہ کی قوت اس کی ذات کے لوازم میں سے ہے جس کا غیر سے مستفاد ہونا جائز نہیں ۔ کیونکہ اگر دونوں میں ہر ایک انفرادی طور پر قادر ہے تو عندالانفراد اسے ممکن ہے کہ جس پر اسے قدرت ہو، وہ اس کو کر لے اور اس کے فعل میں دوسرے کی معاونت مشروط نہ ہو گی اور اس وقت دونوں میں سے ہر ایک کو وہ کرنا ممکن ہو گا جو دوسرے کا اراد ہو۔ یا وہ کرنا ممکن ہو گا کہ دوسرے کا ارادہ اس کے خلاف ہو۔ اور اگر انفراد کے وقت وہ قادر نہیں تو اجتماع کے وقت دونوں کو قوت حاصل ہونا ممتنع ہو گا کیونکہ اس میں دور ہے۔ کیونکہ ایک اس وقت تک قادر نہیں یہاں تک دوسرا قادر ہو اور تیسرا کوئی ہے نہیں جو ان دونوں کو قادر بنائے۔ لہٰذا دونوں میں سے کوئی بھی قادر نہ بنے گا۔

دو مخلوق جنہیں عندالانفراد قوت نہیں ہوتی، انہیں اجتماع کے وقت تبھی قوت حاصل ہو گی جب وہ ان دونوں کے علاوہ سے ہو اور دو خالقوں کے لیے کوئی ایسا تیسرا ہونا ممکن نہیں جو ان دونوں کو قوت دے۔ لہٰذا دونوں کا عندالانفراد قادر ہونا لازم ہوا۔

اگر یہ کہا جائے کہ دونوں میں سے ایک اس پر قادر ہے جس پر دوسرا موافق ہو۔ تو یہ اس دوسرے کی موافقت سے ہی قادر بنے گا۔

اگر یہ کہا جائے کہ ایک اس امر پر قادر ہے جس میں دوسرا مخالفت نہیں کرتا تو دونوں میں سے ہر ایک اپنے مقدور سے دوسرے کو مانع ہو گا، تب بھی دونوں میں سے کوئی قادر نہ ہو گا۔پھر یہ بھی کہ اس کا اُس کو منع کرنا بھی قدرت سے ہی ہو گا اور اُس کا اِسے منع کرنا بھی قدرت سے ہی ہو گا۔ لہٰذا لازم آئے گا کہ تمانع کے حال میں دونوں میں سے ہر ایک قادر ہو گا اور یہ مخالفت کے وقت ہے۔ سو دونوں اتفاق کے وقت اور اختلاف کے وقت قادر ہوں گے۔ پھر یہ کہ ایک اس وقت تک ممنوع نہ ہو گا جب تک کہ اسے دوسرا منع نہ کرے۔ اسی طرح اس کے برعکس ہو گا۔ لہٰذا دونوں میں سے ایک دوسرے کے منع کرنے سے ہی ممنوع ہو گا اور یہ کہ دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کے لیے مانع ہو گا۔ پس دونوں میں سے ہر ایک مانع بھی ہو گا اور ممنوع بھی اور یہ جمع بین النقیضین ہے۔

غرض یہ اور ان کے علاوہ دوسری وجوہ بتلاتی ہیں دو ایسے رب کا ہونا ممتنع ہے کہ دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کا معاون ہو، یا ہر ایک دوسرے کے لیے مانع ہو، سو صرف یہ صورت ہی باقی رہ جائے کہ دونوں میں سے ہر ایک قادرِ مستقل ہو کہ اب دونوں میں اختلاف ممکن ہے اور جب دونوں اختلاف کریں تو لازم آئے گا کہ دونوں میں سے کوئی کچھ نہ کرے۔ کہ اس سے دونوں کا عجز لازم آئے گا اور یہ بھی لازم آئے گا کہ دونوں میں سے ہر ایک مانع بھی ہو اور ممنوع بھی۔

پس دو رب کا ممتنع ہونا واضح ہو گیا۔ چاہے دونوں متفق ہوں یا ایک دوسرے سے اختلاف کرتے ہوں ، اور جب یہ فرض کیا جائے کہ دونوں مستقل بھی ہیں اور خلق عالم میں بھی مستقل ہیں ۔ تو یہ اور بھی زیادہ ممتنع ہے۔ کیونکہ دونوں کا استقلال اس سے مانع ہے کہ خلق عالم میں کوئی اس کا شریک ہو۔ تو اس وقت کیا ہو گا کہ جب دونوں میں سے ایکدوسرے کی وجہ سے مستقل ہو؟ سو دونوں میں سے ہر ایک کو مستقل فرض کرنا اس بات کو مقتضی ہے کہ دونوں میں سے ہر ایک نے یہ فعل مستقل کیا ہو اور دوسرے نے اس میں کچھ بھی نہ کیا ہو۔ سو اس سے دو بار اجتماعِ نقیضین لازم آئے گا۔ اسی لیے یہ بات ممتنع ہو گی کہ دونوں میں سے ہر ایک موثر، تام، مستقل اور ایک اثر پر جمع ہو۔ اس کی مثال میں ہم یہ کہتے ہیں کہ: اس نے یہ کپڑا اکیلے سیا ہے اور اس نے بعینہ وہ کپڑا اکیلے سیا ہے۔ یا: اس نے یہ کھانا اکیلے کھایا ہے۔ یا اس نے بعینہ وہ کھانا اکیلے کھایا ہے۔

صفحہ 8 از 18