فصل ....رافضی کا قول کہ ’’بھلا یہاں کون سی شرکت ہے؟‘‘ اور…

فصل ....رافضی کا قول کہ ’’بھلا یہاں کون سی شرکت ہے؟‘‘ اور اس کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 9 از 18

یہ سب باتیں تصور کرنے کے بعد عقل بدیہہ کے نزدیک ممتنع ہیں ۔ لیکن بعض لوگ اس کو عمدہ طریق سے تصور نہیں کرتے۔ بلکہ اس کے ذہن میں لوگوں کے دو شریک آتے ہیں جو ایک فعل میں مشترک ہوں اور دو مشترک میں سے کسی نے بھی وہ فعل اکیلے پورے کا پورا نہیں کیا ہوتا اور نہ اس کی قدرت اشتراک کی وجہ سے حاصل ہوئی ہوتی ہے۔ بلکہ اشتراک سے اس کی قدرت میں اضافہ ہو جاتا ہے اور دونوں میں سے ہر ایک کو عندالانفراد ایک شی کرنا ممکن ہوتا ہے اور وہ دوسرے کے ارادہ کے خلاف ارادہ کر سکتا ہے۔ پھر اگر اس نے اس کے خلاف کا ارادہ کیا اور دونوں کی قدرت ایک دوسرے کے ہم پلہ ہے، تو دونوں منع ہو جائیں گے اور دونوں کچھ نہ کریں گے اور ایک زیادہ قوی ہوا تو وہ دوسرے پر غالب آجائے گا اور اگر عندالانفراد دونوں میں سے ایک کو قدرت نہیں تو اسے اجتماع کے وقت جو قدرت حاصل ہو گی وہ دوسرے سے ہو گی۔ باوجود یہ کہ اس کا وجود معروف نہیں ۔ بلکہ معروف ی ہے کہ عندالانفراد دونوں میں سے ہر ایک کو قدرت حاصل ہو۔ جو اجتماع کے وقت کامل ہو جائے گی۔

یہ بھی کہ فعل اور مفعول میں مشترک کے لیے لازم ہے کہ ہر ایک کا فعل دوسرے سے ممتاز ہو اور بعینہ شیء واحد مشترک نہ ہو۔ وہ یوں کہ دونوں نے اس کو کیا ہو۔ کہ یہ بھی ممتنع ہے جیسا کہ گزرا۔ پھر اگر دو رب ہوتے تو دونوں میں سے ہر ایک کی مخلوق دوسرے کی مخلوق سے ممتاز ہوتی۔ جیسا کہ رب تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿اِِذًا لَذَہَبَ کُلُّ اِِلٰہٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ﴾ (المومنون: ۹۱)

’’اس وقت ضرور ہر معبود، جو کچھ اس نے پیدا کیا تھا، اسے لے کر چل دیتا اور یقیناً ان میں سے بعض بعض پر چڑھائی کر دیتا۔‘‘

اس آیت میں رب تعالیٰ نے دو مفعول کے امتیاز کے وجوب کو دونوں میں سے ایک کے دوسرے پر غالب آ جانے کے وجوب کو ذکر کیا ہے۔ جیسا کہ اس کی تقریر گزر چکی ہے اور یہ دونوں باتیں ممتنع ہیں ۔

غرض یہ آئمہ نظار ان جیسے طرق سے توحید ربوبیت کو بیان کرتے ہیں ۔ یہ طرق صحیح اور عقلی ہیں لیکن یہ متاخرین ان طرق کی توجیہ و معرفت کی راہ نہیں پا سکے۔

پھر یہ متقدمین متکلمین گمان کرتے ہیں کہ یہ قرآنی طرق ہیں ، حالانکہ ایسا نہیں ۔ بلکہ قرآن نے اس توحید الوہیت کو پختہ کیا ہے جو توحید ربوبیت کو متضمن ہے اور قرآن نے اس کو ان لوگوں سے زیادہ کامل بیان کیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے:

﴿مَا اتَّخَذَ اللّٰہُ مِنْ وَّلَدٍ وَّمَا کَانَ مَعَہٗ مِنْ اِِلٰہٍ اِِذًا لَذَہَبَ کُلُّ اِِلٰہٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ﴾ (المومنون: ۹۱)

’’اللہ نے نہ کوئی اولاد بنائی اور نہ کبھی اس کے ساتھ کوئی معبود تھا، اس وقت ضرور ہر معبود، جو کچھ اس نے پیدا کیا تھا، اسے لے کر چل دیتا اور یقیناً ان میں سے بعض بعض پر چڑھائی کر دیتا۔‘‘

رب تعالیٰ نے اس آیت میں اس بات پر دو یقینی برہان پیش کیے ہیں کہ اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا الٰہ نہیں ۔ وہ دو برہان یہ ہیں :

﴿اِِذًا لَذَہَبَ کُلُّ اِِلٰہٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ﴾ (المومنون: ۹۱)

یہ بات معروف ہے کہ ہر الٰہ اپنی مخلوق کو نہیں لے گیا اور نہ ایک سے زیادہ الٰہ ایک دوسرے پر غالب آئے ہیں اور اس کے ذکر کو اس لیے ترک کیا کیونکہ مخاطبین اس کو جانتے ہیں اور یہ کہ اس کا ذکر بے جا کی تطویل تھا۔ یہ ہے قرآن کا طریقہ جو صحیح اور فصیح و بلیغ ہے۔ بلکہ خطاب میں خود عوام کا یہ طریق ہے کہ وہ محتاجِ بیان مقدمہ کو تو ذکر کرتے ہیں اور جس کے بیان کی احتیاج نہ ہو اسے ترک کر دیتے ہیں ۔

جیسے یہ کہا جائے کہ تم یہ کیوں کہتے ہو کہ ہر نشہ لانے والی شی حرام ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہو گا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک صحیح حدیث میں ارشاد منقول ہے:

’’ہر نشہ نے والی شی شراب ہے اور ہر شراب حرام ہے۔‘‘[صحیح مسلم: کتاب الاشربۃ، باب بیان ان کل مسکر خمر۔]

یہ بات معلوم ہے کہ قولِ رسول حجت اور واجب الاتباع ہے کہ اس کے ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ۔ اسی کے مثل یہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿لَوْ کَانَ فِیْہِمَآ اٰلِہَۃٌ اِلَّا اللّٰہُ لَفَسَدَتَا﴾ (الانبیاء: ۲۲)

’’اگر ان دونوں میں اللہ کے سوا کوئی اور معبود ہوتے تو وہ دونوں ضرور بگڑ جاتے۔۔‘‘

یعنی جب دونوں نہیں بگڑے تو معلوم ہوا کہ دونوں میں اللہ کے سوا اور الٰہ نہیں ہیں اور یہ بات اس قدر واضح ہے کہ محتاجِ بیان نہیں ۔ کیونکہ خطاب سے مقصود بیان ہوتا ہے اور واضح کو بیان کرنا بسا اوقات ایک قسم کا ضیاعِ وقت بن جاتا ہے اور بیانِ دلیل کبھی ایک مقدمہ کا محتاج ہوتا ہے اور کبھی دو مقدمات کا اور کبھی تین کا اور کبھی اس سے زیادہ کا سو مستبدل اتنے ہی مقدمات بیان کرتا ہے جن کی احتیاج ہوتی ہے۔

رہی منطقیوں کی یہ بات کہ ہ دلیل نظری میں دو مقدمات کا ہونا ضروری ہے کہ نہ اس سے زیادہ کی ضرورت اور نہ اس سے کم پر گزارہ اور جب ایک مقدمہ پر اکتفاء کیا جائے تو کہتے ہیں کہ دوسرا مقدمہ حذف ہے اور اسے قیاسِ ضمیر کا نام دیتے ہیں ۔ اور اگر تین یا چار مقدمات ہوں تو کہتے ہیں : یہ قیاسات ہیں نا کہ ایک قیاس۔ یہ نرا دعویٰ ہے۔ جس کی کوئیعقلی دلیل نہیں اور نہ کس عادتِ عامد کی طرف اس کی استناد ہے۔ ہم نے ایک مقام پر اس بحث کو مفصل بیان کر دیا ہوا ہے۔رب تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :

﴿اِِذًا لَذَہَبَ کُلُّ اِِلٰہٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ﴾ (المومنون: ۹۱)

جب یہ لازم منتفی ہوا تو ملزوم بھی منتفی ہوا۔ جو اللہ کے ساتھ دوسرے الٰہ کا ثبوت ہے اور تلازم کا بیان یہ ہے کہ جب اللہ کے ساتھ دوسرے الٰہ ہوں گے تو اللہ کا خلق عالم میں مستقل ہونا ممتنع ٹھہرے گا۔ جبکہ اللہ ہی خلق عالم میں مستقل ہے۔ جیسا کہ گزرا کہ اس کا فاسد ہونا ہر عاقل کے نزدیک ضروری طور پر معلوم ہے اور یہ کہ یہ جمع بین النقیضین ہے۔

صفحہ 9 از 18