Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شام پہنچنے کے بعد باب جابیہ پر خطبہ

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے باب جابیہ پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ جس طرح آج میں یہاں کھڑا ہوں اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مرتبہ کھڑے ہوئے اور فرمایا:

 اِسْتَوْصَوْا بِأَصْحَابِیْ خَیْرًَا ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ ، ثُمَّ یَغْشُوا الْکَذِبُ حَتّٰی إِنَّ الرَّجُلَ لَیَبْتَدِیْ بِالشَّہَادَۃِ قَبْلَ أَنْ یُّسْأَلَہَا فَمَنْ أَرَادَ مِنْکُمْ بَحْبَحَۃَ الْجَنَّۃِ فَلْیَلْزَمِ الْجَمَاعَۃَ فَإِنَّ الشَّیْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ، وَہُوَ مِنَ الْاِثْنَیْنِ أَبْعَدُ لَایَخْلُوَنَّ أَحَدُکُمْ بِامْرَأَۃٍ فَإِنَّ الشَّیْطَانَ ثَالِثُہُمَا وَمَنْ سَرَّتْہُ حَسَنَتُہُ وَسَائَ تَہُ سَیِّئَتُہُ فَہُوَ مُؤْمِنٌ۔

 (مسند أحمد، الموسوعۃ الحدیثیۃ: حدیث 117۔ یہ حدیث صحیح ہے، اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔)

ترجمہ: ’’میرے صحابہ سے بہتر برتاؤ کرو، پھر ان سے جو ان کے بعد ہوں گے، پھر ان سے جو ان کے بعد ہوں گے، پھر جھوٹ عام ہو جائے گا، یہاں تک کہ ایک آدمی گواہی کا مطالبہ کیے جانے سے پہلے گواہی دے گا ، لہٰذا جسے جنت کی نعمتیں چاہئیں اس کے لیے ضروری ہے کہ مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہے، کیونکہ تنہا رہنے والے کے ساتھ شیطان رہتا ہے اور اس کی بہ نسبت دو آدمیوں سے دور رہتا ہے۔ تم میں کوئی مرد کسی (اجنبی) عورت کے ساتھ تنہائی میں ہرگز ہرگز نہ ہو، کیونکہ اس وقت شیطان ان دونوں کا تیسرا ساتھی ہوتا ہے اور جو شخص اپنی نیکیوں سے فرحت پائے اور برائیوں سے غمزدہ و رنجیدہ ہو جائے وہ کامل مومن ہے۔‘‘