Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

معاہدہ بیت المقدس سے متعلق چند باتیں

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جو صلح نامہ تحریر کیا تھا وہ اس بات کا حقیقی ثبوت ہے کہ اسلام رواداری کا دین ہے، اس میں کوئی جبر و اکراہ نہیں۔ اس کے عدل وانصاف کی یہ شہادت ہے کہ قدس کے نصرانی باشندوں کے ساتھ اس نے ایسا برتاؤ کیا جسے انہوں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ فاتح بیت المقدس سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ چاہتے تو ان پر تاوان عائد کر دیتے، اپنی مرضی پر چلنے کے لیے مجبور کرتے، لیکن سیدنا عمرؓ نے ایسا کچھ نہیں کیا، اس لیے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اسلام کے نمائندہ تھے اور اسلام کسی کو جبراً مسلمان نہیں بناتا، بلکہ جب تک کوئی آدمی اپنی رضا مندی اور پسند سے اسلام نہ لائے وہ قابل قبول ہی نہیں، ایمان ایسی چیز ہے ہی نہیں کہ جس پر لوگوں کو مجبور کیا جائے کیونکہ اس کا تعلق براہ راست دل سے ہے اور دل کے بھیدوں کو اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ آپ ایسے لوگوں کو دیکھتے ہیں جو بظاہر مومن ہیں حالانکہ معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے، ا یسے انسان مومنوں کے لیے ان کافروں سے زیادہ نقصان دہ ہوتے ہیں جو علی الاعلان کفر والحاد کرتے ہیں۔ اسی لیے مسلمانوں نے ہمیشہ اس بات کو ترجیح دی کہ تمام انسانوں کو عبادت و بندگی کی آزادی دیں اور ان کے پسندیدہ امور میں انہیں امان دیں، تاکہ وہ مسلمانوں کی حفاظت و حمایت میں زندگی گزار سکیں بشرطیکہ وہ لوگ حفاظت اور دفاع کے بدلے جزیہ ادا کرتے رہیں۔ مزید یہ کہ خوشگوار زندگی کے سائے میں رہنے، باہمی تعلقات کے استوار ہونے، پڑوس کے بہتر برتاؤ سے متاثر ہونے، مسلمانوں کی حفاظت میں زندگی گزارنے اور ان کے عادلانہ نظام سے مستفید ہونے کی وجہ سے غیر مسلم افراد قریب سے اسلام کی رونق، رواداری اور عدل و انصاف کو دیکھ لیں اور دور رہنے کی وجہ سے اسلام کی جو خوبیاں اور حقائق ان کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں وہ سب جان لیں اور پھر فطرت کی دعوت سے متاثر ہو کر یقیناً اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوں گے جیسا کہ مسلمانوں کے تمام مفتوحہ شہروں میں یہ چیز واقع ہوئی اور مسلمانوں نے نہایت کشادہ دلی سے انہیں امان دی۔

(جولۃ فی عصر الخلفاء الراشدین: محمد سید الوکیل: صفحہ 200، 201)