راوندیہ کا عقیدہ: حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی خلافت پر نص -…

راوندیہ کا عقیدہ: حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی خلافت پر نص

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 3

ابن بَطہ رحمہ اللہ نے اپنی سند سے روایت کیا ہے؛ وہ کہتے ہیں :مجھ سے ابو الحسن اسلم الکاتب نے بیان کیا؛ ان سے زعفرانی نے حدیث بیان کی؛ ان سے یزید بن ہارون نے‘وہ محدث مبارک بن فضالہ رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ: بیشک حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے محمد بن زبیرحنظلی کو حسن بصری کی خدمت میں بھیجا ۔اور ان سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر کو خلیفہ مقرر فرمایا تھا؟ ۔تو انہوں نے جواب دیا: کیا تمہارا ساتھی شک میں ہے؟ نیز آپ نے فرمایا: ہاں ! اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر فرمایا تھا۔آپ اس بات سے بہت زیادہ بچ کر رہنے والے تھے کہ ظلم سے خلافت پر قبضہ کرلیتے ۔‘‘

حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ آپ کو لوگوں کی امامت کرنے کا حکم دیا جانا ہی آپ کو خلیفہ مقرر کرنا ہے ۔حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کے نزدیک یہی آپ کو خلیفہ مقررکیا جانا تھا۔

آپ کہتے ہیں : ہمیں ابو القاسم عبداللہ بن محمد نے بتایا؛ وہ کہتے ہیں : ہم سے ابو خیثمہ زہیر بن حرب نے حدیث بیان کی ؛ وہ کہتے ہیں : ہم سے یحییٰ بن سلیم نے ان سے جعفربن محمد( متوفی ۱۴۸ ہجری ) نے حدیث بیان کی؛ وہ اپنے والد سے ؛ اور وہ حضرت عبد اللہ بن جعفر رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں آپ فرماتے ہیں :

’’ ہم پر ابو بکر کو خلیفہ بنایا گیا ۔ آپ بہترین خلیفہ تھے۔آپ ہم پر بہت زیادہ مہربانی و شفقت کرنے والے تھے۔ میں نے معاویہ بن قرہ رضی اللہ عنہ سے سنا آپ فرما رہے تھے:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کیا تھا۔‘‘

پھرجن لوگوں کا نقطہ نگاہ یہ ہے کہ سالار انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صراحتاً حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کو خلافت سے نوازا تھا ۔ ان کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بالاتفاق ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ رسول کہہ کر پکارتے تھے۔ اور خلیفہ وہی ہوتا ہے جس کو کوئی اپنا قائم مقام مقرر کردے۔ اس لیے کہ خلیفہ بروزن فعیل بمعنی مفعول ہے۔تویہ دلیل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو ہی خلیفہ مقرر کیا تھا۔جو لوگ اس دلیل میں جھگڑا کرتے ہیں ‘اور کہتے ہیں : لفظ خلیفہ کا اطلاق دونوں پر ہوتا ہے:

(۱) وہ شخص بھی خلیفہ ہے جس کو کوئی اپنا نائب بنائے۔

(۲)جو دوسرے کا از خود نائب بن جائے وہ بھی خلیفہ ہے۔

تواس صورت میں ’’فعیل بمعنی فاعل ‘‘ کے ہوگا۔جیسا کہ کہا جاتا ہے : فلاں انسان فلاں کا خلیفہ بنا۔جیساکہ حدیث میں آتا ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :

’’جس نے کسی کو جہاد کے لیے تیار کرکے بھیجا گویا اس نے خود جہاد میں شرکت کی اور جو اس کی عدم موجودگی میں اس کا خلیفہ(قائم مقام) بنا وہ بھی غازی ٹھہرا۔‘‘ [صحیح بخاری،کتاب الجہاد۔ باب فضل من جھز غازیاً(حدیث:۲۸۴۳)، صحیح مسلم۔ کتاب الامارۃ۔ باب فضل اعانۃ الغازی فی سبیل اللّٰہ، (حدیث:۱۸۹۵) ]

مذکورہ بالا حدیث سند کے اعتبار سے صحیح ہے۔ مندرجہ ذیل حدیث بھی صحیح ہے۔ آپ دعا فرمایا کرتے تھے:

’’اے اللہ! تو میرا رفیق سفر ہے اور اہل و عیال میں میرا خلیفہ ہے‘‘(یعنی قائم مقام)۔اے اللہ ! سفر میں ہمارا ساتھی رہنا‘ اور ہمارے گھروالوں میں ہمارا خلیفہ رہنا۔‘‘ [صحیح مسلم۔ کتاب الحج۔ باب استحباب الذکر اذا رکب دابتہ،(حدیث:۱۳۴۲]

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ ہُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلَائِفَ الْاَرْضِ وَ رَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَبْلُوَکُمْ﴾ (الانعام۱۶۵)

’’ وہ اللہ ہے جس نے تم کو زمین میں خلیفہ بنایا اور ایک کا دوسرے پر رتبہ بڑھایا تاکہ تم کو آزمائے ۔‘‘

دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:

﴿ثُمَّ جَعَلْنَاکُمْ خَلَائِفَ فِی الْاَرْضِ مِنْ بَعْدِہِمْ لِنَنْظُرَ کَیْفَ تَعْمَلُوْنَ﴾ (یونس:۱۴)

’’پھر ان کے بعد ہم نے تمھیں زمین میں خلیفہ بنا دیا تاکہ ہم دیکھیں کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ اِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓئِکَۃَ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً﴾ (البقرۃ:۳۰)

’’جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا : بیشک میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں ۔‘‘

ایک اور جگہ فرمایا:

﴿یَا دَاؤٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰکَ خَلِیْفَۃً فِی الْاَرْضِ فَاحْکُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِ﴾ (ص:۲۶)

’’اے داؤد! بیشک ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ مقرر کیا ہے پس آپ لوگوں کے درمیان حق کیساتھ فیصلہ کریں ۔‘‘

مذکورہ بالا آیات کا مطلب یہ ہے کہ تجھے ان لوگوں کو خلیفہ بنایاہے جو تجھ سے پہلے تھے۔ یہ مقصود نہیں کہ

حضرت داؤد علیہ السلام اللہ کے نائب تھے۔ جیسا کہ قائلین وحدت الوجود کا نظریہ ہے۔

وحدت الوجود کے قائل یہاں تک کہتے ہیں کہ انسان کو ذات باری سے وہی تعلق ہے جو آنکھ کی پتلی کو آنکھ سے (یعنی دونوں ایک ہیں اور ان میں کچھ فرق نہیں)۔اوریہ اتحاد اور حلول کا نظریہ رکھنے والے ملحدین کا عقیدہ ہے :وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ کا جامع ہے، اس کی دلیل میں وہ درج ذیل آیت پیش کرتے ہیں :

﴿ وَعَلَّمَ آدَمَ الْاَسْمَائَ کُلَّہَا ﴾ (البقرہ:۳۰)

’’اور حضرت آدم علیہ السلام کو سب نام سکھلا دئیے۔‘‘

اہل وحدۃ الوجود کا نقطہ خیال ہے کہ انسان اللہ کی مثل ہے جس کی تشبیہ کی نفی کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ ﴾۔’’اس کی مانند کوئی چیزنہیں ہوسکتی ۔‘‘ 

اس کے علاوہ بھی ان لوگوں کے ایسے فاسد عقائد ہیں جن میں ہی کوئی صحیح عقلی دلیل پائی جاتی ہے ‘ اورنہ ہی نقلی دلیل ۔جس کے تفصیلی بیان کایہ موقع نہیں ۔

مقصود یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ کا نائب نہیں بن سکتا۔ اس لیے کہ نیابت اس شخص کی ہوتی ہے، جو خود موجود نہ ہو۔ اور ذات باری ہمیشہ سے موجود اور مخلوقات کا ناظم و مدبر ہے۔ البتہ بندہ جب اپنے اہل و عیال میں موجود نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کا نائب ہوتا ہے اور اس کی عدم موجودگی میں اہل و عیال کی حفاظت فرماتا ہے۔ مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو’’ یا خلفیۃ اللہ ‘‘ کہہ کر پکارا گیا ؛تو آپ نے فرمایا:

صفحہ 2 از 3