Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھنا

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کعب سے فرمایا: میں کہاں نماز پڑھوں، تمہاری کیا رائے ہے؟ انہوں نے کہا: اگر آپؓ میری بات مانیں تو صخرہ کے پیچھے پڑھیں تاکہ پورا قدس سیدنا عمرؓ کے سامنے رہے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لگتا ہے تمہارے دل میں یہودیت کے لیے نرم گوشہ ہے، میں وہاں نماز پڑھوں گا جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی تھی، پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ قبلہ کی طرف آگے بڑھے اور نماز پڑھی۔ نماز سے فارغ ہو کر صخرہ کے پاس آئے، اپنی چادر بچھائی اور صخرہ کو جھاڑ پونچھ کر صاف کیا، لوگوں نے بھی اسے صاف کیا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 57)

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پوری مسجد کا نام مسجد اقصیٰ ہے، بعض لوگ صرف اس حصہ کو اقصیٰ کہتے ہیں جسے آگے بڑھ کر سیدنا عمر فاروق نے تعمیر کیا تھا۔ اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ جس حصہ کو سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے تعمیر کیا تھا، مسجد کی دوسری جگہوں کے بالمقابل وہاں نماز پڑھنا افضل ہے۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جس وقت بیت المقدس فتح کیا تھا اس وقت صخرہ پر بہت زیادہ گرد و غبار پڑا ہوا تھا، اس لیے کہ نصاریٰ اسے توہین کی نگاہ سے دیکھتے تھے، جب کہ یہودیوں کے نزدیک وہ سب سے محترم پتھر تھا اور وہ اسی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے۔ سیدنا عمرؓ نے گردوغبار اور آلودگیوں سے اسے صاف کیا اور کہا: اے کعب! تمہاری رائے میں مسلمانوں کے لیے مسجد کہاں بناؤں؟ انہوں نے کہا: صخرہ کے پیچھے۔ سیدنا عمرؓ نے فرمایا: اے یہودی کی اولاد، تو نے یہودیت کو جوڑ دیا، بلکہ اسے صخرہ کے آگے بناؤ، ہمارے لیے مسجدوں کے اگلے حصے ہوا کرتے ہیں۔

(مجموعۃ الرسائل الکبرٰی: جلد 6 صفحہ 57، 58)

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بے شمار یادگار و بے مثال مواقف میں سے ایک اہم موقف یہاں بھی نمایاں ہے۔ سیدنا عمرؓ نے عملاً یہ ثابت کر دیا کہ اسلام تمام ادیان سماویہ کا احترام کرتا ہے اور تمام مقدس مقامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ صخرہ نامی جس پتھر سے عمر رضی اللہ عنہ نے گردوغبار اور غلاظتوں کو صاف کیا تھا اور اسے اپنی چادر میں بھر کر باہر پھینکا تھا یہ یہودیوں کا قبلہ تھا اور ان کے نزدیک معظم و محترم تھا، کیونکہ ان کے عقیدہ کے مطابق اسی پتھر پر حضرت یعقوب علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوئے تھے، پس جس طرح نصاریٰ کے لیے سیدنا عمرؓ کا موقف مثالی اور قابل احترام تھا کہ آپؓ نے انہیں عقیدہ کی آزادی دی، ان کی صلیبوں اور گرجاؤں کا تقدس باقی رکھا، اسی طرح صخرہ کی صفائی کر کے یہود کے لیے بھی بے مثال رواداری اور صخرہ کے احترام و تقدس کا ثبوت دیا، جب کہ یہودیوں نے اپنی تاریخ میں مسلمانوں کے خلاف بے شمار ناقابل معافی جرائم کا ارتکاب کیا تھا۔

(جولۃ فی عصر الخلفاء الراشدین: صفحہ 203، 204)