احادیث مبارکہ سے خلافت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دلائل - ردِ…

احادیث مبارکہ سے خلافت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دلائل

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 5

احادیث مبارکہ سے خلافت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دلائل 

ایک گروہ کا کہنا ہے کہ : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت اس نص مذکور سے ثابت ہوتی ہے جو کہ گزشتہ احادیث میں بیان ہوئی ہے۔ مثال کے طور پریہ حدیث :

’’ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !گر میں لوٹ کر آؤں اور آپ موجود نہ ہوں تو پھر کیا کروں ؟.... اس کا مطلب یہ تھا کہ آپ فوت ہو جائیں تو پھر کیا کروں .... فرمایا :’’ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو جائیے۔‘‘[تخریج گزر چکی ہے۔]

اور صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو مخاطب کرکے فرمایا:

’’ تم اپنے والد اور بھائی کو بلاؤ تاکہ میں ابوبکر کے لیے ایک عہد نامہ لکھ دوں ؛ تاکہ میرے بعد آپ کے معاملہ میں لوگ اختلاف نہ کریں ۔ مگر اللہ تعالیٰ اور مومنین ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سوا کسی کو( خلیفہ) تسلیم نہیں کر سکتے۔‘‘[سبق تخریجہ]

’’ایک روایت میں ہے : ’’ اللہ تعالیٰ اور انبیاء کرام ابو بکر کے علاوہ کسی کو خلیفہ نہیں مانتے ۔‘‘

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’ میں سو رہا تھا تو میں نے اپنے آپ کو ایک کنوئیں پر دیکھا جس پر ایک ڈول پڑا ہوا تھا۔ میں نے اس سے پانی کے ڈول نکالے ۔پھر ابن ابی قحافہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ڈول لے لیا۔ انہوں نے ایک دو ڈول پانی کے نکالے اللہ تعالیٰ ان کی کمزوری کو معاف کرے۔ اس کے بعد وہ ڈول مغرب کی طرف کوہٹ گیا اور عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کو لے لیا۔ تو میں نے لوگوں میں کسی قوی و مضبوط شخص کو ایسا نہ پایا جو عمر رضی اللہ عنہ کی طرح رہٹ کھینچتا۔ اس نے بڑی قوت سے اس قدر ڈول نکالے کہ سب لوگوں کو سیراب کردیا۔‘‘ [صحیح بخاری:کتاب مناقب انبیاء علیہم السلام کا بیان ::ح881 ۔ ]

جیسا کہ یہ روایت : ’’ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔‘‘

اس معاملہ میں آپ سے یکے بعد دیگر کئی مرتبہ تکرار کیا گیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا عرصہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی لوگوں کو نمازیں پڑھاتے رہے۔ ایک جمعرات سے دوسری جمعرات اور پھر پیر کے دن تک ۔ اورایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے؛ اور لوگوں کو بیٹھ کر امامت کروائی۔ اور باقی نمازیں آپ کے حکم سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی پڑھاتے رہے۔ اور جس دن آپ کا انتقال ہوا؛ اس دن آخری بار آپ نے پردہ اٹھا کر دیکھا؛ اس وقت لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے۔اس پر آپ کو بہت خوشی محسوس ہوئی۔ [سِیرۃ ابنِ ہِشام 4؍298؛ جوامِع السِیرۃِ لِابنِ حزم، ص 262، البخاری 1؍139 ؛ کتاب الأذانِ، باب من سمع الناس تکبِیر الإِمامِ ،1؍147. 2؍63 کتاب التہجدِ، باب من رجع القہقری فِی صلاتِہِ]

اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری با جماعت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے ادا کی ہے۔ اور بعض نے کہا ہے : ایسا نہیں ہے۔صحیحین میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منبر پر ارشاد فرمایا:

’’ اگر میں اہل زمین سے کسی کو گہرا دوست بنانے والا ہوتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا۔ البتہ اسلامی اخوت و مودّت کسی شخص کے ساتھ مختص نہیں ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سوا کسی شخص کی کھڑکی مسجد کی جانب کھلی نہ رہے۔‘‘ [الحدِیث بِہذِہِ اللفاظِ فقد جاء عن أبِی سعِید الخدرِیِ فِی البخاری 1؍96 ِکتاب الصلاِۃ، باب الخوخۃِ والممرِ فِی المسجِد؛ مسلِم 4؍1854 ؛ کتاب فضائل الصحابۃ، باب مِن فضائِلِ أبِی بکر ؛ سننِ التِرمِذِیِ 5؍278؛ کِتاب المناقِبِ، باب مناقِبِ أبِی بکر الصِدِیقِ.] [اس کی تخریج گزر چکی ہے]

اور اس پرابو داؤد اور دیگر محدثین کی روایت کردہ وہ حدیث بھی دلالت کرتی ہے جو ابوبکر بن مالک نے روایت کی ہے ۔ مسند امام احمد میں حماد بن سلمہ سے روایت ہے ‘ وہ علی بن زید بن جدعان سے ‘ وہ عبد الرحمن بن ابی بکرہ رضی اللہ عنہ سے اوروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک روز سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:

’’کیا تم میں سے کسی نے خواب دیکھا ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا:یارسول اللہ! میں نے دیکھا کہ آسمان سے ایک ترازو لٹکایا گیا ہے پھر آپ کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ وزن کیا گیا اور آپ بھاری نکلے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ و ابوبکر رضی اللہ عنہماکو تولا گیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ والا پلڑا جھک گیا۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مقابلہ میں وزن کیا گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ وزنی ثابت ہوئے۔ پھر ترازو اٹھا لیا گیا۔میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور پر ناراضگی کے آثار دیکھے‘‘۔[مسند احمد(۵؍۴۴،۵۰) سنن ابی داؤد۔ کتاب السنۃ۔ باب فی الخلفاء (حدیث: ۴۶۳۴۔۴۶۳۵) تاہم اس میں خواب دیکھنے والے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نہیں تھے بلکہ ایک دوسرے صحابی تھے۔ واللّٰہ اعلم) ]

مسند امام احمد میں ہی حضرت حماد بن سلمہ سے روایت ہے ‘ وہ علی بن زید بن جدعان سے ‘ وہ عبد الرحمن بن ابی بکرہ رضی اللہ عنہ سے اوروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ؛ اور پھر ایسی ہی روایت بیان کی۔ لیکن اس نے کراہیت کے الفاظ ذکر نہیں کئے۔ بلکہ اس نے یہ کہا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ چیز ناگوار گزری ۔ اور آپ نے فرمایا:

’’ یہ خلافت نبوت ہوگی؛ اور پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ جس کو چاہیں گے شاہی عطا فرمائیں گے۔‘‘

تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان کردیا کہ ان حضرات کی ولایت خلافت نبوت ہوگی۔ اور پھر اس کے بعد بادشاہی ہوگی۔ اس روایت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں ہے۔ کیونکہ آپ کے زمانے میں لوگوں کا ایک خلیفہ پر اجماع نہیں ہوا ؛ بلکہ لوگ متفرق رہے۔ آپ کے عہد میں نہ ہی خلافت منظم ہونے پائی اور نہ ہی بادشاہی۔

صفحہ 1 از 5