Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

احادیث مبارکہ سے خلافت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دلائل

  امام ابنِ تیمیہؒ

احادیث مبارکہ سے خلافت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دلائل 

ایک گروہ کا کہنا ہے کہ : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت اس نص مذکور سے ثابت ہوتی ہے جو کہ گزشتہ احادیث میں بیان ہوئی ہے۔ مثال کے طور پریہ حدیث :

’’ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !گر میں لوٹ کر آؤں اور آپ موجود نہ ہوں تو پھر کیا کروں ؟.... اس کا مطلب یہ تھا کہ آپ فوت ہو جائیں تو پھر کیا کروں .... فرمایا :’’ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو جائیے۔‘‘[تخریج گزر چکی ہے۔]

اور صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو مخاطب کرکے فرمایا:

’’ تم اپنے والد اور بھائی کو بلاؤ تاکہ میں ابوبکر کے لیے ایک عہد نامہ لکھ دوں ؛ تاکہ میرے بعد آپ کے معاملہ میں لوگ اختلاف نہ کریں ۔ مگر اللہ تعالیٰ اور مومنین ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سوا کسی کو( خلیفہ) تسلیم نہیں کر سکتے۔‘‘[سبق تخریجہ]

’’ایک روایت میں ہے : ’’ اللہ تعالیٰ اور انبیاء کرام ابو بکر کے علاوہ کسی کو خلیفہ نہیں مانتے ۔‘‘

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’ میں سو رہا تھا تو میں نے اپنے آپ کو ایک کنوئیں پر دیکھا جس پر ایک ڈول پڑا ہوا تھا۔ میں نے اس سے پانی کے ڈول نکالے ۔پھر ابن ابی قحافہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ڈول لے لیا۔ انہوں نے ایک دو ڈول پانی کے نکالے اللہ تعالیٰ ان کی کمزوری کو معاف کرے۔ اس کے بعد وہ ڈول مغرب کی طرف کوہٹ گیا اور عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کو لے لیا۔ تو میں نے لوگوں میں کسی قوی و مضبوط شخص کو ایسا نہ پایا جو عمر رضی اللہ عنہ کی طرح رہٹ کھینچتا۔ اس نے بڑی قوت سے اس قدر ڈول نکالے کہ سب لوگوں کو سیراب کردیا۔‘‘ [صحیح بخاری:کتاب مناقب انبیاء علیہم السلام کا بیان ::ح881 ۔ ]

جیسا کہ یہ روایت : ’’ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔‘‘

اس معاملہ میں آپ سے یکے بعد دیگر کئی مرتبہ تکرار کیا گیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا عرصہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی لوگوں کو نمازیں پڑھاتے رہے۔ ایک جمعرات سے دوسری جمعرات اور پھر پیر کے دن تک ۔ اورایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے؛ اور لوگوں کو بیٹھ کر امامت کروائی۔ اور باقی نمازیں آپ کے حکم سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی پڑھاتے رہے۔ اور جس دن آپ کا انتقال ہوا؛ اس دن آخری بار آپ نے پردہ اٹھا کر دیکھا؛ اس وقت لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے۔اس پر آپ کو بہت خوشی محسوس ہوئی۔ [سِیرۃ ابنِ ہِشام 4؍298؛ جوامِع السِیرۃِ لِابنِ حزم، ص 262، البخاری 1؍139 ؛ کتاب الأذانِ، باب من سمع الناس تکبِیر الإِمامِ ،1؍147. 2؍63 کتاب التہجدِ، باب من رجع القہقری فِی صلاتِہِ]

اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری با جماعت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے ادا کی ہے۔ اور بعض نے کہا ہے : ایسا نہیں ہے۔صحیحین میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منبر پر ارشاد فرمایا:

’’ اگر میں اہل زمین سے کسی کو گہرا دوست بنانے والا ہوتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا۔ البتہ اسلامی اخوت و مودّت کسی شخص کے ساتھ مختص نہیں ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سوا کسی شخص کی کھڑکی مسجد کی جانب کھلی نہ رہے۔‘‘ [الحدِیث بِہذِہِ اللفاظِ فقد جاء عن أبِی سعِید الخدرِیِ فِی البخاری 1؍96 ِکتاب الصلاِۃ، باب الخوخۃِ والممرِ فِی المسجِد؛ مسلِم 4؍1854 ؛ کتاب فضائل الصحابۃ، باب مِن فضائِلِ أبِی بکر ؛ سننِ التِرمِذِیِ 5؍278؛ کِتاب المناقِبِ، باب مناقِبِ أبِی بکر الصِدِیقِ.] [اس کی تخریج گزر چکی ہے]

اور اس پرابو داؤد اور دیگر محدثین کی روایت کردہ وہ حدیث بھی دلالت کرتی ہے جو ابوبکر بن مالک نے روایت کی ہے ۔ مسند امام احمد میں حماد بن سلمہ سے روایت ہے ‘ وہ علی بن زید بن جدعان سے ‘ وہ عبد الرحمن بن ابی بکرہ رضی اللہ عنہ سے اوروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک روز سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:

’’کیا تم میں سے کسی نے خواب دیکھا ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا:یارسول اللہ! میں نے دیکھا کہ آسمان سے ایک ترازو لٹکایا گیا ہے پھر آپ کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ وزن کیا گیا اور آپ بھاری نکلے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ و ابوبکر رضی اللہ عنہماکو تولا گیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ والا پلڑا جھک گیا۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مقابلہ میں وزن کیا گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ وزنی ثابت ہوئے۔ پھر ترازو اٹھا لیا گیا۔میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور پر ناراضگی کے آثار دیکھے‘‘۔[مسند احمد(۵؍۴۴،۵۰) سنن ابی داؤد۔ کتاب السنۃ۔ باب فی الخلفاء (حدیث: ۴۶۳۴۔۴۶۳۵) تاہم اس میں خواب دیکھنے والے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نہیں تھے بلکہ ایک دوسرے صحابی تھے۔ واللّٰہ اعلم) ]

مسند امام احمد میں ہی حضرت حماد بن سلمہ سے روایت ہے ‘ وہ علی بن زید بن جدعان سے ‘ وہ عبد الرحمن بن ابی بکرہ رضی اللہ عنہ سے اوروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ؛ اور پھر ایسی ہی روایت بیان کی۔ لیکن اس نے کراہیت کے الفاظ ذکر نہیں کئے۔ بلکہ اس نے یہ کہا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ چیز ناگوار گزری ۔ اور آپ نے فرمایا:

’’ یہ خلافت نبوت ہوگی؛ اور پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ جس کو چاہیں گے شاہی عطا فرمائیں گے۔‘‘

تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان کردیا کہ ان حضرات کی ولایت خلافت نبوت ہوگی۔ اور پھر اس کے بعد بادشاہی ہوگی۔ اس روایت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں ہے۔ کیونکہ آپ کے زمانے میں لوگوں کا ایک خلیفہ پر اجماع نہیں ہوا ؛ بلکہ لوگ متفرق رہے۔ آپ کے عہد میں نہ ہی خلافت منظم ہونے پائی اور نہ ہی بادشاہی۔

سنن ابو داؤد میں ابن شہاب کی روایت ہے ؛ وہ عمرو بن ابان سے روایت کرتے ہیں کہ: حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’آج ایک نیک آدمی نے خواب دیکھا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے باندھ دیا گیا ہے، اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ابوبکر رضی اللہ عنہ سے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے وابستہ کردیا گیاتھا ۔‘‘ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب ہم بارگاہ رسالت سے اٹھے تو ہم نے کہا نیک آدمی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس مراد ہے۔ اور ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ کرنے کے معنی یہ ہیں کہ یہ آپ کے خلفاء ہیں ۔‘‘[سنن ابی داؤد۔ کتاب السنۃ۔ باب فی الخلفاء(حدیث:۴۶۳۶)]

ابو داؤد نے حماد بن سلمہ کی حدیث سے روایت کیا ہے؛ وہ اشعث بن عبدالرحمن سے ؛ وہ اپنے والد سے وہ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا:

’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم !میں نے خواب دیکھا کہ گویا ایک ڈول آسمان پر لٹکایا گیا۔ پس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے اس ڈول کے کنارے پکڑ کر تھوڑا سا پی لیا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو انہوں نے اس کے کنارے پکڑے اور اتنا پیا کہ پیٹ بھر گیا۔ پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے اس کے کنارے پکڑ کر پیا؛ یہاں تک کہ سیر ہوگئے۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو انہوں نے اس کے دونوں کنارے پکڑے تو وہ ڈول ہل گیا اس کے پانی کے کچھ چھینٹے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر پڑ گئے۔‘‘ [سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر۱۲۳۴۔وفِی النِہایِۃ لِابنِ الأثِیرِ ۳؍۸۸]

حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ مری امت میں تیس سال تک خلافت رہے گی؛ پھر اللہ تعالیٰ جس کو چاہیں گے اپنا ملک عطا کردیں گے۔ یا یہ فرمایا کہ:’’ پھر بادشاہت آ جائے گی ۔‘‘

حضرت سعید کہتے ہیں : مجھ سے سفینہ نے کہا: رک جاؤ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی مدت دو سال؛ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مدت دس سال۔ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارہ سال۔ اور باقی مدت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی۔ سعید نے عرض کیا: بنوامیہ سمجھتے ہیں کہ خلافت انہی میں ہے حضرت سفینہ نے فرمایا کہ:’’ بنوزرقا جھوٹ بولتے ہیں ۔‘‘اس سے مراد بنو مروان ہیں ۔ [الحدِیث فِی سننِ أبِی داود 4؍293 ؛ ِکتاب السنِۃ، باب فِی الخلفائِ؛ سننِ التِرمِذِیِ 3؍341 کتاب الفِتنِ، باب ما جاء فِی الخِلافۃِ وقال التِرمِذِی: ہذا حدِیث حسن قد رواہ غیر واحِد عن سعِیدِ بنِ جہمان ولا نعرِفہ ِلا مِن حدِیثِہ ؛ المستدرِک لِلحاِکمِ 3؍71..]

ان کے علاوہ بھی اس طرح کی احادیث ہیں جن سے وہ لوگ استدلال کرتے ہیں : جنہوں نے کہا ہے کہ : آپ کی خلافت نص سے ثابت ہے۔

یہاں پر مقصود یہ ہے کہ بہت سارے اہل سنت والجماعت کہتے ہیں : حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت نص سے ثابت ہے۔ اس بارے میں وہ صحیح معروف اور مستند احادیث سے دلیل لیتے ہیں ۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان لوگوں کی رائے ان لوگوں کی رائے کی بہ نسبت زیادہ درست ہے جو کہتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ یا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی خلافت نص سے ثابت ہے۔ اس لیے کہ ان لوگوں کے پاس کوئی دلیل موجود نہیں ہے سوائے جھوٹ اور بہتان تراشی کے؛ جس کے باطل ہونے کو ہر وہ انسان جانتا ہے جس کا اسلام سے بہت ہی معمولی سا تعلق بھی ہو۔ یا پھر ایسے الفاظ سے استدلال کرتے ہیں جن میں اس مسئلہ پر سرے سے کوئی دلیل موجود ہی نہیں ہوتی۔جیساکہ غزوہ تبوک میں آپ کو نائب مقرر کرنے کی حدیث۔

اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اگر خلیفہ کے لیے منصوص ہونا واجب ہے تو پھر ان دلائل کی روشنی میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا منصوص ہونا زیادہ اولی ہے ۔ اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر پہلے آپ کے دلائل باطل ٹھہرتے ہیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنانے کی طرف رہنمائی کی تھی۔اوراپنے متعدد اقوال و افعال سے اس جانب اشارے دیے تھے۔اور آپ کو خلافت اپنی رضامندی سے اور آپ کی تعریف کرتے ہوئے دی۔ اور آپ نے یہ ارادہ بھی فرمایا تھا کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے کوئی تحریری عہد نامہ چھوڑ دیا جائے ۔ پھر آپ کو آثار و قرائن سے معلوم ہوچلا کہ مسلمان بالاتفاق حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنالیں گے؛ اس لیے اس پر اکتفاء کرتے ہوئے آپ نے تحریر لکھوانے کا ارادہ ترک کردیا۔ پھر اپنی بیماری کی حالت میں بروز جمعرات نے آپ نے دوبارہ ارادہ کیا کہ کوئی عہد لکھوایا جائے ؛ پھر جب آپ کے ارادہ میں جب بعض لوگوں کو بیماری کی وجہ سے شک گزرا کہ کیا آپ بیماری کی وجہ سے ایسے کہہ رہے ہیں یا پھر آپ کا واجب الاتباع حکم ہے ؟ تو آپ نے پھر اپنا ارادہ ترک کر دیا ۔ اس لیے کہ آپ کو یہ علم ہوگیا تھا کہ اللہ کی مشیت بھی یہی ہے ‘ اور مؤمنین بھی آپ کو ہی خلیفہ بنائیں گے۔اگر آپ کا متعین کیا جانا امت کے لیے ایک مشتبہ امر ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ضروری تھا کہ آپ دو ٹوک الفاظ میں کھل کر بیان فرما دیتے تاکہ کسی کو کوئی عذر نہ رہے ۔ لیکن جب اتنی دلیلیں موجود تھیں جن کی روشنی میں سمجھا جاسکتا تھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی آپ کے خلیفہ ہوں گے تو اس سے مقصود حاصل ہوگیا۔ اسی لیے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مہاجرین و انصار کے اجتماع میں تقریر کرتے ہوئے یہ فرمایا تھا:

’’ اللہ کی قسم ! تم میں ایک بھی ایسا نہیں جو ابو بکر رضی اللہ عنہ کی مانند ہو‘ جس کے لیے گردنیں ماری جائیں ۔‘‘ [البخاری۸؍۱۶۹؛ ِکتاب الحدودِ، باب رجمِ الحبلی مِن الزِنا ِلإذا حصِنت) ؛ ابنِ ہِشام: (السِیر النبوِی 4؍309، القاہِرۃ،1355؍1936؛ المسندِ ط. المعارِفِ) ج 26؛ ص 391؛ وقد وجدت فِی صحیح مسلم 3؍1317؛ ِکتاب الحدودِ، باب رجمِ الثیِبِ مِن الزِنا) قِطعۃ مِن خطبِ عمر ولِکن لیس فِیہا ہذِہِ الجملۃ، وانظر جامِع الأصولِ لِابنِ الأثِیرِ 4؍480.۔ []

نیز صحیحین میں یہ بھی ثابت ہے کہ آپ نے سقیفہ بنی ساعدہ کے موقعہ پر مہاجرین و انصار کے سامنے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے یہ ارشاد فرمایا تھا:

’’ آپ ہمارے سردار ہیں ‘ اور ہم سب سے بہتر ہیں ۔ اور ہم سب سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب ہیں ۔‘‘ [البخاری ۵؍۷۔ فِی البخاری 5؍7 (تاب فضائِلِ أصحابِ النبِیِ ، باب مناقِبِ أبِی بکر الصِدِیقِ، 8؍168 ۔ ؛ ِکتاب الحدودِ، باب رجمِ الحبلی ؛ المسندِ ط. المعارِفِ 1؍323۔]

اس وقت کسی بھی انسان نے اس بات کا انکار نہیں کیا ۔ اور نہ ہی صحابہ کرام میں سے کسی ایک نے یہ کہا کہ :

ابوبکر کے علاوہ مہاجرین وانصار میں سے کوئی ایک ابو بکر رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر خلافت کا حق دار ہے ۔ اورنہ ہی آپ کی خلافت میں کسی نے جھگڑا کیا ۔ ہاں ! بعض انصار کی خواہش تھی کہ ایک امیر انصار میں سے ہواور ایک امیر مہاجرین میں سے۔ اس نظریہ کاباطل ہونا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صادر ہونے والی متواتر نصوص سے ثابت ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ تمام انصار نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کرلی تھی سوائے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے ؛ اس لیے کہ آپ خلافت کے طلبگار تھے۔ اور کسی ایک نے بھی ہرگز یہ بات نہیں کہی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی دوسرے کے خلیفہ ہونے کے بارے میں صراحت آئی ہے۔ نہ ہی حضرت علی کے بارے میں اور نہ ہی حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں ۔ اورنہ ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خود اس کا دعوی کیا اورنہ ہی حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اور نہ ہی کسی دوسرے صحابی نے ؛ رضی اللہ عنہم ۔اور نہ ہی حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ عنہماکے محبین میں سے کسی ایک نے یہ کہا کہ ان دو حضرات میں سے کوئی ایک خلافت کا زیادہ مستحق ہے؛ اورنہ ہی کسی نے ان کے بارے میں نصوص وارد ہونے کا دعوی کیا۔ بلکہ کسی نے یہ بھی نہیں کہا کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ بھی کوئی انسان قریش میں ایسا ہے جو خلافت کا زیادہ حق دار ہو۔ نہ ہی بنی ہاشم میں سے اور نہ ہی غیر بنی ہاشم میں سے ۔ یہ ایسا معاملہ ہے جسے علم حدیث رکھنے والے علماء بہت اچھی طرح جانتے ہیں ‘ اور ان کے ہاں یہ بات اضطراری طور پر معلوم ہے ۔

عبد مناف کے کچھ لوگوں ؛جیسے : ابو سفیان ؛اور خالد بن سعید سے نقل کیا گیا ہے کہ ان کا ارادہ یہ تھا کہ خلافت صرف بنو عبد مناف میں ہونی چاہیے۔ اور انہوں نے اس بات کا ذکر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہماسے بھی کیا؛ مگر انہوں نے ان کی بات پر کوئی توجہ نہیں دی۔ اس لیے کہ یہ دونوں حضرات اور باقی تمام مسلمان جانتے تھے کہ اس وقت مسلمانوں میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہم پلہ کوئی دوسری شخصیت نہیں ہے۔

خلاصہ کلام ! انصار اور بنی عبد مناف کے جتنے بھی لوگوں کے بارے میں یہ نقل کیا گیا ہے کہ وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ہٹ کرکسی کو خلیفہ بنانے کے طلبگار تھے؛ تو ان کے پاس کوئی دینی اور شرعی حجت نہیں تھی۔ اور نہ ہی کسی کے بارے میں یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے افضل اور ان سے بڑھ کر خلافت کا حق دار کوئی دوسرا بھی تھا[ان کے پاس کوئی دلیل نہیں تھی]۔ بلکہ اس کلام کی اصل وجہ اپنی قوم و قبیلہ کی محبت تھی۔ اور وہ یہ چاہتے تھے کہ خلافت ان کی قوم میں ہو۔ اور یہ بات سبھی لوگ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کی محبت نہ ہی شرعی دلیل ہوسکتی ہے اور نہ ہی دینی طریقہ ۔ اور نہ ہی اس قسم کی چیزوں کی اتباع کا حکم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل ایمان کو دیا ہے۔ بلکہ یہ بھی جاہلیت کی ہی ایک قسم ہے۔ اور قبیلہ اور نسب کے لیے جاہلی تعصب ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی چیزوں کو ختم کرنے اور انہیں جڑسے اکھاڑ پھینکنے کے لیے مبعوث فرمایا تھا۔

صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ چار باتیں میری امت میں زمانہ جاہلیت کی ایسی ہیں کہ وہ ان کو نہ چھوڑیں گے۔ اپنے حسب پر فخر اور نسب پر طعن کرنا، ستاروں سے پانی کا طلب کرنا اور نوحہ کرنا۔‘‘ [مسلِم 2؍644ِکتاب الجنائِزِ، باب التشدِیدِ فِی النِیاحۃِ؛ المسندِ ط. الحلبِی5؍342؛ المستدرک ِ لِلحاِکمِ 1؍383؛ الأحادِیثِ الصحِیحِۃ لِلألبانِیِ 2؍299 حدِیث رقمِ 734.۔ ]

مسند احمد بن حنبل میں حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے جس کو آپ نے سنیں کہ وہ جاہلیت کے انداز میں عزا داری کررہا ہو ؛ تو اسے اس کی ماں کی شرمگاہ کی گالی دو ؛ اور اس میں کوئی کنایہ نہ کرو۔‘‘ [الحدِیث فِی المسندِ ط. الحلبِیِ 5؍136 ؛ عن أبیِ بنِ کعب رضِی اللّٰہ عنہ . وفِی النِہایۃِ لِابنِ الأثِیرِ 4؍256: ومِنہ الحدِیث: من تعزی بِعزاِء الجاہِلِیۃِ فعِضوہ بِہنِ أبِیہِ ولا تکنوا. أی قولوا لہ: أعض أیر أبِیک . وفِی اللِسانِ: ہن المرئِ: فرجہا]

حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ چار باتیں میری امت میں زمانہ جاہلیت کے اپنے آباء پر فخر کرنا ختم کردیا ہے ۔ انسان صرف دو قسم کے ہیں ۔ یا تو نیک اور متقی یا پھر بد کردار اور فاجر۔‘‘ [فِی سننِ أبِی داود 4؍450 کتاب الأدبِ، باب فِی التفاخرِ بِالأحسابِ؛ والحدِیث ؛ مع اختِلاف فِی الألفاظِ فِی سننِ التِرمِذِیِ 5؍390 ؛ کتاب المناقِبِ، وقال التِرمِذِی: ہذا حدِیث حسن؛ وحسن الألبانِی الحدِیث فِی ؛ صحِیحِ الجامِعِ الصغِیرِ " 2؍119.]

رہ گیا مسئلہ کہ خلافت قریش میں ہوگی؛ اور یہ معاملہ شریعت اور دین میں سے ہے۔ تو پھر اس بارے میں نصوص بڑی معروف اور منقول و ماثور ہیں جنہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بیان کیا کرتے تھے۔ بخلاف اس کے کہ خلافت قریش کی شاخوں میں سے کسی ایک شاخ میں ہو۔ پس بیشک ایسی کوئی روایت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی ایک نے بھی روایت نہیں کی۔ اور نہ ہی کسی ایک نے کوئی ایسی بات کہی ہے کہ قریش میں کوئی ایک ایسا آدمی بھی تھا جو کہ اللہ تعالیٰ کے دین اور شریعت میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر خلافت کا حقدار ہو۔ پس ایسے امور پر جب کوئی عالم غور و فکر کرے اور نصوص شریعت اور سیرت صحابہ پر تدبر کرے ؛ تو اسے ایسا علم ضروری حاصل ہو جائے گا جس کا دل سے انکار کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ کیونکہ یہ معاملہ مسلمانوں کے ہاں انتہائی مشہور ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو باقی تمام حضرات پر تقدیم اور سبقت حاصل تھی۔ اور یہ کہ آپ باقی تمام لوگوں سے بڑھ کر خلافت نبوت کے حق دار تھے۔ اور یہ معاملہ مسلمانوں کے ہاں بالکل واضح ہے۔اس میں کسی ایک کے لیے بھی کوئی شک و شبہ والی بات نہیں ہے۔ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا:

(( یأبی اللہ والمؤمِنون ِإلا أبا بکر ۔))

’’ اللہ تعالیٰ اور اہل ایمان حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ ہر ایک کا انکار کرتے ہیں ۔‘‘

اور یہ کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ صدیق رضی اللہ عنہ کی تقدیم اور افضلیت کا سب کو معلوم تھا۔اور انہیں اس بات کا علم چند امور سے ہوا جو انہوں نے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن اور دیکھ رکھے تھے۔ ان سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو علم ہوگیا تھا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خلافت نبوت کے اس امت میں سب سے زیادہ حق دار ہیں ۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک بھی آپ باقی تمام لوگوں سے افضل و محبوب تھے۔ اور اس امت میں کوئی آپ کا ہم پلہ یا مشابہ نہیں تھا کہ اس کے متعلق کسی سے کوئی مناظرہ کیا جائے ۔

یہ کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی ایک نے یہ نہیں کہا کہ : حضرت عمر رضی اللہ عنہ ابن خطاب یا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ یا حضرت علی رضی اللہ عنہم یا پھر کوئی دوسرا صحابی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے افضل ہیں ؛ یا پھر خلافت کا زیادہ حق دار ہے۔ اس لیے کہ وہ ہمیشہ دیکھتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دوسرے صحابہ پر تقدیم اور افضلیت دیتے ؛ اور بطور خاص آپ کی تعظیم کرتے تھے۔ یہ بات ہر خاص و عام پر ظاہر ہے۔ حتی کہ نبی اکریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنان اہل کتاب ؛مشرکین اور منافقین بھی یہ بات جانتے تھے۔ اور سبھی کو پتہ تھا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان خاص الخواص میں سے ہیں کہ ان جیسا مقام کسی دوسرے کو حاصل نہیں ۔

بلکہ حدیث کی تمام کتب ؛صحاح ؛ مسانید؛ اور مغازی میں ثابت ہے ؛ اور لوگوں کااس پر اتفاق ہے کہ غزوہ احد کے موقع پر جب مسلمان منہ پھیر کر بھاگ گئے تو اس وقت ؛ تو ابوسفیان نے ایک بلند جگہ پر چڑھ کر پکارا:

’’ اے مسلمانو!کیا محمد زندہ ہیں ؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خاموش رہو؛ جواب نہ دو۔

پھر کہنے لگا :اچھا ابو قحافہ کے بیٹے ابوبکر زندہ ہیں ؟ آپ نے فرمایا: چپ رہو جواب مت دو۔

پھر کہا :اچھا خطاب کے بیٹے عمر زندہ ہیں ؟پھر کہنے لگا کہ معلوم ہوتا ہے کہ سب مارے گئے؛ اگر زندہ ہوتے تو جواب دیتے یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ضبط نہ ہو سکا؛ اور کہنے لگے: او دشمن خدا!تو جھوٹا ہے اللہ نے تجھے ذلیل کرنے کے لئے ان کو قائم رکھا ہے۔ ابوسفیان نے نعرہ لگایا: اے ہبل! تو بلند اور اونچا ہے؛ ہماری مدد کر۔‘‘[فِی البخاری 4؍65 : کتاب الجہاد والسِیرِ، باب ما یکرہ مِن ....]

یہ حدیث صحیحین میں روایت کی گئی ہے۔ اور اس کا مکمل تذکرہ آگے آئے گا۔ان شاء اللہ تعالیٰ۔

حتی کہ میں منافقین کے ایک ایسے گروہ کو جانتا ہوں جو کہتے ہیں کہ : محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک انتہائی عاقل انسان تھے۔ آپ نے اپنے عقل اور ذہانت اور تجربہ سے ریاست تشکیل دی۔ اور وہ کہتے ہیں : اس میں کوئی شک نہیں کہ ابوبکر خفیہ طور پر اس معاملہ میں آپ کے ساتھ تھے؛ اور انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام تر احوال کا علم تھا؛ بخلاف حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہم کے۔

یہ بات عمومی طور پر تمام خلائق پر عیاں ہوگئی تھی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص الخواص میں سے تھے۔ پس یہ اللہ کے نبی ہیں اور یہ آپ صدیق ہیں ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء کرام علیہم السلام سے افضل ہیں تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تمام صدیقین سے افضل ہیں ۔

حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت پر صحیح اور صریح نصوص دلالت کرتی ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود آپ کے لیے اس امر پر راضی تھے۔مسلمانوں کی بیعت و اختیار سے آپ کی خلافت منعقد ہوئی۔اس اختیار میں لوگوں کے پاس اللہ اور اس کے رسول کے ہاں آپ کی فضیلت کے دلائل موجود تھے۔ اور یہ کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں آپ ہی خلافت کے حقدار تھے۔ پس آپ کی خلافت نص اوراجماع سے ثابت ہوتی ہے۔ نصوص میں دلیل موجود ہے کہ اللہ اور اس کا رسول آپ پر راضی تھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ معاملہ آپ کے لیے مقدر کردیا تھاکہ مؤمنین آپ کو خلیفہ منتخب کریں گے۔ یہ بات تحریر نویسی سے زیادہ مضبوط و بلیغ تھی۔اس لیے کہ اگر عہد نامہ لکھا جاتا تو آپ کی خلافت کا ثبوت صرف عہد نامہ ہوتا ۔

جب مسلمانوں نے بغیر کسی عہد نامہ کے آپ کو چن لیا ؛نصوص ان کے اختیار و چناؤ کے درست و حق ہونے پر دلالت کرتی ہیں ۔اوریہ کہ اللہ اور اس کا رسول آپ سے راضی ہیں ۔یہ اس بات کی بھی دلیل ہے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ میں وہ فضائل و مناقب موجود تھے جن کی وجہ سے آپ دوسرے عام مسلمانوں سے ممتاز اور جداگانہ حیثیت رکھتے تھے ؛ اور آپ خلافت کے سب سے زیادہ حق دار تھے۔ پس اس بنا پر آپ کے لیے کسی عہد کے لکھے جانے کی ہر گزکوئی ضرورت نہیں تھی۔جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ابو بکر رضی اللہ عنہ کے لیے وثیقہ لکھنے کا ارادہ کیا تو آپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:

’’میرے پاس اپنے والد اور بھائی کو بلا کرلاؤ تاکہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لیے ایک عہد نامہ لکھ دوں ۔مجھے اندیشہ ہے کہ مبادا کوئی کہنے والا یہ کہے کہ میں (خلافت کا) زیادہ حقدار ہوں یا کوئی آرزو کرنے والا(خلافت کی) تمنا کرے۔ مگر اللہ تعالیٰ اور مومنین ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سوا کسی کو( خلیفہ) تسلیم نہیں کر سکتے۔‘‘

صحیح بخاری کی روایت میں ہے :

’’میں نے ارادہ کیا تھا کہ تمہارے والد اور بھائی کو بلا کر ایک عہد نامہ لکھ دوں مبادا کوئی کہنے والا یہ کہے کہ میں (خلافت کا) زیادہ حقدار ہوں یا کوئی آرزو کرنے والا(خلافت کی) تمنا کرے۔اللہ تعالیٰ اور مومنین ابو بکر رضی اللہ عنہ کے سوا کسی کو( خلیفہ) تسلیم نہیں کر سکتے۔‘‘ 

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح کر دیا تھا کہ آپ اس اندیشہ کے تحت عہد نامہ لکھنا چاہتے تھے ؛ پھر آپ کو اندازہ ہوا کہ معاملہ صاف ظاہر اور واضح ہے ؛ اس میں کسی قسم کا کوئی نزاع نہیں ہوسکتا ۔ اور امت میں ابھی تک خود نبی موجود ہیں ؛ اور اللہ تعالیٰ نے اس امت کو لوگوں کی بھلائی کے لیے پیدا کیا ہے ؛ اور یہ زمانہ بھی بہترین لوگوں کا زمانہ ہے ۔ پس ایسے واضح اور کھلے ہوئے معاملہ میں ان کے مابین کو ئی اختلاف نہیں ہوگا۔ اس لیے کہ نزاع تو اس وقت ہوتا ہے جب علم پوشیدہ ہو۔ یا پھر کسی کا برائی کا ارادہ ہو۔ان دونوں باتوں کا ہونا ناممکن تھا۔ابو بکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا علم بڑا واضح تھا ۔جبکہ برا ارادہ اس خیرالقرون کے جمہور امت سے واقع ہونا محال تھا ۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’اللہ تعالیٰ اور مومنین ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سوا کسی کو( خلیفہ) تسلیم نہیں کر سکتے۔‘‘

اس بنا پر آپ نے عہد نامہ تحریر کرنے کا ارادہ ترک کردیا ؛ اس لیے کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے چرچے نے عہد نامہ تحریر کرنے سے بے نیاز کردیا تھا۔اب اس کی چنداں ضرورت نہ تھی۔اس لیے عہد نامہ تحریر نہ کیا گیا۔[استخلاف ابی بکر رضی اللہ عنہ کے مزید دلائل:۱۔سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہیے کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔‘‘ بخاری۔ باب اھل العلم والفضل احق بالامامۃ (ح ۶۷۹) مسلم۔ کتاب الصلاۃ۔ باب استخلاف الامام (ح۴۲۰)۔چنانچہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی کی تعمیل میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کی بیماری کے دنوں میں وفات تک نماز پڑھاتے رہے۔ ۲۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اگر میں اہل زمین میں سے کسی کو دوست بنانے والا ہوتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دوست بناتا، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سوا مسجد کی جانب کسی کی کھڑکی باقی نہ رہنے دی جائے۔‘‘ صحیح بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ۔ (ح:۳۶۵۴) صحیح مسلم ۔ کتاب فضائل الصحابۃ باب من فضائل ابی بکر الصدیق رضی اللّٰہ عنہ (ح:۲۳۸۲)۔ ۳۔ عبدالرحمن بن ابی بکرہ سے روایت ہے کہ: ’’ [تیس سال تک ]خلافت نبوت ہوگی پھر اس کے بعد اﷲ جسے چاہے سلطنت عطا کرے۔‘‘ سنن ابی داؤد(ح:۴۶۳۵)]

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ امت محمدی کا اتفاق اور اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اظہار خوشنودی کرنا عہد نامہ لکھنے سے بھی زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔