احادیث مبارکہ سے خلافت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دلائل - ردِ…

احادیث مبارکہ سے خلافت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دلائل

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 5

سنن ابو داؤد میں ابن شہاب کی روایت ہے ؛ وہ عمرو بن ابان سے روایت کرتے ہیں کہ: حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’آج ایک نیک آدمی نے خواب دیکھا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے باندھ دیا گیا ہے، اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ابوبکر رضی اللہ عنہ سے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے وابستہ کردیا گیاتھا ۔‘‘ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب ہم بارگاہ رسالت سے اٹھے تو ہم نے کہا نیک آدمی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس مراد ہے۔ اور ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ کرنے کے معنی یہ ہیں کہ یہ آپ کے خلفاء ہیں ۔‘‘[سنن ابی داؤد۔ کتاب السنۃ۔ باب فی الخلفاء(حدیث:۴۶۳۶)]

ابو داؤد نے حماد بن سلمہ کی حدیث سے روایت کیا ہے؛ وہ اشعث بن عبدالرحمن سے ؛ وہ اپنے والد سے وہ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا:

’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم !میں نے خواب دیکھا کہ گویا ایک ڈول آسمان پر لٹکایا گیا۔ پس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے اس ڈول کے کنارے پکڑ کر تھوڑا سا پی لیا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو انہوں نے اس کے کنارے پکڑے اور اتنا پیا کہ پیٹ بھر گیا۔ پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے اس کے کنارے پکڑ کر پیا؛ یہاں تک کہ سیر ہوگئے۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو انہوں نے اس کے دونوں کنارے پکڑے تو وہ ڈول ہل گیا اس کے پانی کے کچھ چھینٹے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر پڑ گئے۔‘‘ [سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر۱۲۳۴۔وفِی النِہایِۃ لِابنِ الأثِیرِ ۳؍۸۸]

حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ مری امت میں تیس سال تک خلافت رہے گی؛ پھر اللہ تعالیٰ جس کو چاہیں گے اپنا ملک عطا کردیں گے۔ یا یہ فرمایا کہ:’’ پھر بادشاہت آ جائے گی ۔‘‘

حضرت سعید کہتے ہیں : مجھ سے سفینہ نے کہا: رک جاؤ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی مدت دو سال؛ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مدت دس سال۔ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارہ سال۔ اور باقی مدت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی۔ سعید نے عرض کیا: بنوامیہ سمجھتے ہیں کہ خلافت انہی میں ہے حضرت سفینہ نے فرمایا کہ:’’ بنوزرقا جھوٹ بولتے ہیں ۔‘‘اس سے مراد بنو مروان ہیں ۔ [الحدِیث فِی سننِ أبِی داود 4؍293 ؛ ِکتاب السنِۃ، باب فِی الخلفائِ؛ سننِ التِرمِذِیِ 3؍341 کتاب الفِتنِ، باب ما جاء فِی الخِلافۃِ وقال التِرمِذِی: ہذا حدِیث حسن قد رواہ غیر واحِد عن سعِیدِ بنِ جہمان ولا نعرِفہ ِلا مِن حدِیثِہ ؛ المستدرِک لِلحاِکمِ 3؍71..]

ان کے علاوہ بھی اس طرح کی احادیث ہیں جن سے وہ لوگ استدلال کرتے ہیں : جنہوں نے کہا ہے کہ : آپ کی خلافت نص سے ثابت ہے۔

یہاں پر مقصود یہ ہے کہ بہت سارے اہل سنت والجماعت کہتے ہیں : حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت نص سے ثابت ہے۔ اس بارے میں وہ صحیح معروف اور مستند احادیث سے دلیل لیتے ہیں ۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان لوگوں کی رائے ان لوگوں کی رائے کی بہ نسبت زیادہ درست ہے جو کہتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ یا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی خلافت نص سے ثابت ہے۔ اس لیے کہ ان لوگوں کے پاس کوئی دلیل موجود نہیں ہے سوائے جھوٹ اور بہتان تراشی کے؛ جس کے باطل ہونے کو ہر وہ انسان جانتا ہے جس کا اسلام سے بہت ہی معمولی سا تعلق بھی ہو۔ یا پھر ایسے الفاظ سے استدلال کرتے ہیں جن میں اس مسئلہ پر سرے سے کوئی دلیل موجود ہی نہیں ہوتی۔جیساکہ غزوہ تبوک میں آپ کو نائب مقرر کرنے کی حدیث۔

اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اگر خلیفہ کے لیے منصوص ہونا واجب ہے تو پھر ان دلائل کی روشنی میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا منصوص ہونا زیادہ اولی ہے ۔ اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر پہلے آپ کے دلائل باطل ٹھہرتے ہیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنانے کی طرف رہنمائی کی تھی۔اوراپنے متعدد اقوال و افعال سے اس جانب اشارے دیے تھے۔اور آپ کو خلافت اپنی رضامندی سے اور آپ کی تعریف کرتے ہوئے دی۔ اور آپ نے یہ ارادہ بھی فرمایا تھا کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے کوئی تحریری عہد نامہ چھوڑ دیا جائے ۔ پھر آپ کو آثار و قرائن سے معلوم ہوچلا کہ مسلمان بالاتفاق حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنالیں گے؛ اس لیے اس پر اکتفاء کرتے ہوئے آپ نے تحریر لکھوانے کا ارادہ ترک کردیا۔ پھر اپنی بیماری کی حالت میں بروز جمعرات نے آپ نے دوبارہ ارادہ کیا کہ کوئی عہد لکھوایا جائے ؛ پھر جب آپ کے ارادہ میں جب بعض لوگوں کو بیماری کی وجہ سے شک گزرا کہ کیا آپ بیماری کی وجہ سے ایسے کہہ رہے ہیں یا پھر آپ کا واجب الاتباع حکم ہے ؟ تو آپ نے پھر اپنا ارادہ ترک کر دیا ۔ اس لیے کہ آپ کو یہ علم ہوگیا تھا کہ اللہ کی مشیت بھی یہی ہے ‘ اور مؤمنین بھی آپ کو ہی خلیفہ بنائیں گے۔اگر آپ کا متعین کیا جانا امت کے لیے ایک مشتبہ امر ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ضروری تھا کہ آپ دو ٹوک الفاظ میں کھل کر بیان فرما دیتے تاکہ کسی کو کوئی عذر نہ رہے ۔ لیکن جب اتنی دلیلیں موجود تھیں جن کی روشنی میں سمجھا جاسکتا تھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی آپ کے خلیفہ ہوں گے تو اس سے مقصود حاصل ہوگیا۔ اسی لیے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مہاجرین و انصار کے اجتماع میں تقریر کرتے ہوئے یہ فرمایا تھا:

’’ اللہ کی قسم ! تم میں ایک بھی ایسا نہیں جو ابو بکر رضی اللہ عنہ کی مانند ہو‘ جس کے لیے گردنیں ماری جائیں ۔‘‘ [البخاری۸؍۱۶۹؛ ِکتاب الحدودِ، باب رجمِ الحبلی مِن الزِنا ِلإذا حصِنت) ؛ ابنِ ہِشام: (السِیر النبوِی 4؍309، القاہِرۃ،1355؍1936؛ المسندِ ط. المعارِفِ) ج 26؛ ص 391؛ وقد وجدت فِی صحیح مسلم 3؍1317؛ ِکتاب الحدودِ، باب رجمِ الثیِبِ مِن الزِنا) قِطعۃ مِن خطبِ عمر ولِکن لیس فِیہا ہذِہِ الجملۃ، وانظر جامِع الأصولِ لِابنِ الأثِیرِ 4؍480.۔ []

صفحہ 2 از 5