احادیث مبارکہ سے خلافت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دلائل - ردِ…

احادیث مبارکہ سے خلافت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دلائل

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 5

جب مسلمانوں نے بغیر کسی عہد نامہ کے آپ کو چن لیا ؛نصوص ان کے اختیار و چناؤ کے درست و حق ہونے پر دلالت کرتی ہیں ۔اوریہ کہ اللہ اور اس کا رسول آپ سے راضی ہیں ۔یہ اس بات کی بھی دلیل ہے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ میں وہ فضائل و مناقب موجود تھے جن کی وجہ سے آپ دوسرے عام مسلمانوں سے ممتاز اور جداگانہ حیثیت رکھتے تھے ؛ اور آپ خلافت کے سب سے زیادہ حق دار تھے۔ پس اس بنا پر آپ کے لیے کسی عہد کے لکھے جانے کی ہر گزکوئی ضرورت نہیں تھی۔جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ابو بکر رضی اللہ عنہ کے لیے وثیقہ لکھنے کا ارادہ کیا تو آپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:

’’میرے پاس اپنے والد اور بھائی کو بلا کرلاؤ تاکہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لیے ایک عہد نامہ لکھ دوں ۔مجھے اندیشہ ہے کہ مبادا کوئی کہنے والا یہ کہے کہ میں (خلافت کا) زیادہ حقدار ہوں یا کوئی آرزو کرنے والا(خلافت کی) تمنا کرے۔ مگر اللہ تعالیٰ اور مومنین ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سوا کسی کو( خلیفہ) تسلیم نہیں کر سکتے۔‘‘

صحیح بخاری کی روایت میں ہے :

’’میں نے ارادہ کیا تھا کہ تمہارے والد اور بھائی کو بلا کر ایک عہد نامہ لکھ دوں مبادا کوئی کہنے والا یہ کہے کہ میں (خلافت کا) زیادہ حقدار ہوں یا کوئی آرزو کرنے والا(خلافت کی) تمنا کرے۔اللہ تعالیٰ اور مومنین ابو بکر رضی اللہ عنہ کے سوا کسی کو( خلیفہ) تسلیم نہیں کر سکتے۔‘‘ 

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح کر دیا تھا کہ آپ اس اندیشہ کے تحت عہد نامہ لکھنا چاہتے تھے ؛ پھر آپ کو اندازہ ہوا کہ معاملہ صاف ظاہر اور واضح ہے ؛ اس میں کسی قسم کا کوئی نزاع نہیں ہوسکتا ۔ اور امت میں ابھی تک خود نبی موجود ہیں ؛ اور اللہ تعالیٰ نے اس امت کو لوگوں کی بھلائی کے لیے پیدا کیا ہے ؛ اور یہ زمانہ بھی بہترین لوگوں کا زمانہ ہے ۔ پس ایسے واضح اور کھلے ہوئے معاملہ میں ان کے مابین کو ئی اختلاف نہیں ہوگا۔ اس لیے کہ نزاع تو اس وقت ہوتا ہے جب علم پوشیدہ ہو۔ یا پھر کسی کا برائی کا ارادہ ہو۔ان دونوں باتوں کا ہونا ناممکن تھا۔ابو بکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا علم بڑا واضح تھا ۔جبکہ برا ارادہ اس خیرالقرون کے جمہور امت سے واقع ہونا محال تھا ۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’اللہ تعالیٰ اور مومنین ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سوا کسی کو( خلیفہ) تسلیم نہیں کر سکتے۔‘‘

اس بنا پر آپ نے عہد نامہ تحریر کرنے کا ارادہ ترک کردیا ؛ اس لیے کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے چرچے نے عہد نامہ تحریر کرنے سے بے نیاز کردیا تھا۔اب اس کی چنداں ضرورت نہ تھی۔اس لیے عہد نامہ تحریر نہ کیا گیا۔[استخلاف ابی بکر رضی اللہ عنہ کے مزید دلائل:۱۔سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہیے کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔‘‘ بخاری۔ باب اھل العلم والفضل احق بالامامۃ (ح ۶۷۹) مسلم۔ کتاب الصلاۃ۔ باب استخلاف الامام (ح۴۲۰)۔چنانچہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی کی تعمیل میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کی بیماری کے دنوں میں وفات تک نماز پڑھاتے رہے۔ ۲۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اگر میں اہل زمین میں سے کسی کو دوست بنانے والا ہوتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دوست بناتا، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سوا مسجد کی جانب کسی کی کھڑکی باقی نہ رہنے دی جائے۔‘‘ صحیح بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ۔ (ح:۳۶۵۴) صحیح مسلم ۔ کتاب فضائل الصحابۃ باب من فضائل ابی بکر الصدیق رضی اللّٰہ عنہ (ح:۲۳۸۲)۔ ۳۔ عبدالرحمن بن ابی بکرہ سے روایت ہے کہ: ’’ [تیس سال تک ]خلافت نبوت ہوگی پھر اس کے بعد اﷲ جسے چاہے سلطنت عطا کرے۔‘‘ سنن ابی داؤد(ح:۴۶۳۵)]

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ امت محمدی کا اتفاق اور اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اظہار خوشنودی کرنا عہد نامہ لکھنے سے بھی زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔


صفحہ 5 از 5