حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی امداد رسی کے لیے عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی انوکھی جنگی تدبیر
علی محمد الصلابیجب سیدنا فاروق عمر رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے قاصد نے خط دیا اور صورت حال سے آگاہ کیا تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے نام خط لکھا:
’’جس دن یہ خط موصول ہو، اسی دن ایک فوج حضرت قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں حمص بھیجو، وہاں حضرت ابوعبیدہؓ کا محاصرہ کر لیا گیا ہے۔‘‘
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایمرجنسی حالت میں پیش آنے والی جنگوں سے نمٹنے کے لیے تمام بڑے شہروں میں احتیاطی جنگی گھوڑے تیار کر رکھے تھے، کوفہ میں بھی (جہاں حضرت سعد رضی اللہ عنہ مقیم تھے) چار ہزار گھوڑے تھے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے خط پاتے ہی ان گھوڑوں کے ساتھ مجاہدین کو محاذ شام پر روانہ کر دیا۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے خط میں سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے یہ بھی لکھا تھا کہ: ’’سہیل بن عدیؓ کی سرکردگی میں ایک فوج (جزیرہ کے شہر) رقہ میں بھیج دو، جزیرہ کے لوگوں نے ہی رومیوں کو حمص پر حملہ کے لیے ابھارا ہے اور ان سے پہلے قرقیسیا کے باشندے یہی حرکت کر چکے ہیں، دوسری فوج عبداللہ بن عتبان کی سالاری میں ’’نصیبین‘‘ پر چڑھائی کے لیے روانہ کر دو، یہاں کے باشندوں کو بھی اہل قرقیسیا نے حملہ کے لیے اکسایا تھا، پھر ’’حران‘‘ (جزیرہ کا پایہ تخت) اور ’’رہا‘‘ جا کر وہاں سے دشمنوں کو نکال دیں، ایک تیسری فوج ولید بن عقبہ کی کمان میں جزیرہ کے (عیسائی) عرب قبائل ربیعہ اور تنوخ کی جانب روانہ کرو اور عیاض بن غنم کو اسی (جزیرہ کے) محاذ پر بھیجو، اگر جنگ ہو تو دوسرے سالاران فوج عیاض کے ماتحت ہوں گے۔‘‘
چنانچہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی پلاننگ کے مطابق حضرت قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ اپنے ساتھ چار ہزار شہ سواروں کو لے کر حمص روانہ ہوئے، عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ اور دوسرے سالاران لشکر بھی اپنے مقصد کی تکمیل کے لیے اپنی اپنی منزل کی طرف روانہ ہوئے۔ ادھر امیرالمؤمنین عمر رضی اللہ عنہ بھی اپنے ساتھ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے لیے امدادی فوج لے کر حمص کی طرف چل پڑے اور جابیہ میں فروکش ہوئے۔ اہل جزیرہ جنہوں نے حمص کا محاصرہ کرنے میں رومیوں کا ساتھ دیا تھا، انہیں عراق سے اسلامی فوج کی آمد کی اطلاع ہوگئی لیکن یہ نہیں جانتے تھے کہ وہ فوج ہمارے شہر جزیرہ پر حملہ کرے گی یا حمص پر، اس لیے وہ اپنے شہر اور اپنے بھائیوں کی حفاظت میں لگ گئے اور رومیوں کا ساتھ چھوڑ دیا۔ جب حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ اہل جزیرہ نے رومیوں کی مدد سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ہے تو ان سے معرکہ آرائی کے لیے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا، سیدنا خالدؓ نے ان کی تائید کی، پھر مسلمانوں نے رومیوں پر زبردست حملہ کیا، لڑائی ہوئی اور مسلمان فتح یاب ہوئے اور جب حضرت قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ کوفہ کی فوج کے ساتھ حمص پہنچے، تو لڑائی ختم ہوئے تین دن گزر چکے تھے، دوسری طرف امیرالمؤمنینؓ بھی جابیہ پہنچ چکے تھے۔ حمص سے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے امیرالمؤمنینؓ کے نام خط لکھا کہ ’’معرکہ فتح ہو چکا ہے اور جنگ ختم ہونے کے تین دن بعد کوفہ کی امدادی فوج بھی ہمارے پاس آچکی ہے، آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں۔‘‘ سیدنا عمرؓ نے جواب میں لکھا کہ انہیں اپنے ساتھ مال غنیمت میں شریک کر لو، وہ تمہاری مدد کے لیے آئے ہیں اور دشمن انہی کی آمد سے خائف ہو کر منتشر ہوگئے ہیں۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 25، 26)
پھر کہا: اللہ تعالیٰ کوفہ والوں کو بہتر بدلہ عطا فرمائے، وہ اپنے وطن اور سرحدوں کے لیے کافی ہوتے ہیں اور دوسرے ملک والوں کی بھی مدد کرتے ہیں۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 25)
اس موقع پر دشمن کو الجھن میں ڈالنے اور منتشر کرنے کے لیے سیدنا عمرؓ کے انوکھے جنگی نقشہ اور فوجی تدبیر پر جب ہم غور کرتے ہیں تو سیدنا فاروق اعظمؓ کی مثالی جنگی مہارت نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے۔ دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک طرف سیدنا عمرؓ نے مسلمانوں کو دشمن کے نرغہ سے نکالنے کے لیے ایک تیز رو فوج کوفہ سے حمص کی طرف روانہ کی اور دوسری طرف سیدنا عمرؓ خود امدادی فوج لے کر مدینہ سے نکلے، دفاعی کوشش کے لیے یہ اقدام تو ہونا ہی تھا لیکن جو چیز حیرت و تعجب کی ہے وہ یہ کہ سیدنا عمر بن خطابؓ نے مختلف افواج کو جنگی شہ دینے والے شہروں پر چڑھائی کرنے کا حکم دیا تاکہ وہ میدان جنگ چھوڑ کر بھاگ جائیں اور اپنے اپنے شہروں کی حفاظت میں لگ جائیں، اسی طرح ہوا بھی، چنانچہ وہ سب ادھر ادھر منتشر ہوگئے اور مسلمانوں نے آسانی سے رومیوں پر فتح پا لی۔
(التاریخ الإسلامی: جلد 11 صفحہ 137) صفحہ 137)