فصل:....کلام اللہ کے متعلق اشاعرہ کا عقیدہ اوررافضی اعتراض…

فصل:....کلام اللہ کے متعلق اشاعرہ کا عقیدہ اوررافضی اعتراض پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 6

فصل:....کلام اللہ کے متعلق اشاعرہ کا عقیدہ اوررافضی اعتراض پر ردّ

رافضی کہتا ہے: اشاعرہ کا مذہب ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے ازل میں امرو نہی کی ہے۔ حالانکہ اس وقت اس کے پاس کوئی مخلوق نہ تھی۔ وہ کہتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ اتَّقِ اللّٰہَ﴾ (الاحزاب: ۱)

’’اے نبی! اللہ تعالیٰ سے ڈر۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ ﴾ (البقرۃ: ۲۷۸)

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ ﴾ (النسآء: ۱)

’’اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو۔‘‘

اگر ایک شخص خالی جگہ میں بیٹھ جائے ؛جہاں اس کا غلام اس کے پاس نہ ہو؛اور وہ اسے پکار کر یہ کہے: او سالم ! اٹھ کھڑا ہو۔ اے غانم ! تم کھاؤ۔ اے نجاح ! تم اندر آجاؤ۔ تو اس سے پوچھا جائے گا کہ تم کس کو پکار رہے ہو؟ اور وہ جواب دے کہ ایک ایسے غلام کو پکار رہا ہوں جسے میں بیس برس بعد خریدنے کا ارادہ رکھتا ہوں ۔ تو سب عقل والے اسے احمق اور بے وقوفکہیں گے۔ تو بھلا ان لوگوں نے اس بات کو رب تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے کو کیونکر احسن جان لیا۔‘‘[انتہیٰ کلام الرافضی]

[جواب]: اس کے کئی جوابات ہیں :

اوّل:....یہ کہا جائے گا کہ یہ کلابیہ کا قول ہے۔کلابیہ ان لوگوں میں سے ایک جماعت ہیں جو کہتی ہے کہ کلام اللہ غیر مخلوق ہے۔ اور یہ خلفائے ثلاثہ کو ماننے والی ایک جماعت کا قول ہے۔ ان کا قول چاہے حق ہو یا باطل تب بھی مذہبِ رافضہ کی صحت کو مقتضی نہیں اور نہ اہلِ سنت کے قول کے بطلان کو ہی مقتضی ہے۔پس اس نے جس قول کا ذکر کیا ہے؛ اگر یہ باطل ہے تو خلفاء ثلاثہ کے ماننے والوں کی اکثریت اس کا عقیدہ نہیں رکھتی۔ اور نہ ہی وہ لوگ اس کا عقیدہ رکھتے ہیں جو قرآن کو مخلوق کہتے ہیں ؛ جیسے معتزلہ ۔جو لوگ قرآن کو غیر مخلوق قرار دیتے ہیں ، مثلاً کرامیہ، سالمیہ ائمہ سلف اور مذاہب اربعہ کے اہل الحدیث وہ اس نظریہ کے قائل نہیں جس کا تذکرہ شیعہ مضمون نگار نے کیا ہے[ پس اس کو ذکر کرنے سے رافضی کا مقصود حاصل نہیں ہوتا]۔

دوم:....یہ کہا جائے کہ: اکثر شیعہ اور ائمہ اہل بیت بھی یہی عقیدہ رکھتے ہیں کہ قرآن غیر مخلوق ہے۔ یہ قول ان کے اقوال میں سے ایک ہے اور اگر یہ حق نہیں تو یہ کہنا بھی ممکن ہے ان کے دیگر اقوال بھی ایسے ہی ہیں ۔

سوم :....یہ کہا جائے گا کہ:فرقہ کلابیہ اوراشاعرہ نے یہ نظریہ اس لیے اختیار کیا کہ اس مسئلہ کی اصل و اساس میں وہ معتزلہ کے ہمنوا ہیں ۔یہ سب حدوث اجسام کی دلیل کو صحیح تسلیم کرنے میں یک زبان ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ اس چیز کو بھی حادث قرار دیتے ہیں جو حوادث سے خالی نہ ہو۔وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جس چیز کے ساتھ حوادث کا قیام ہو وہ حوادث سے خالی نہ ہوگی، جب کہا جاتا ہے کہ جسم حرکت و سکون سے خالی نہیں ہے؛ تو وہ کہتے ہیں کہ: ازلی سکون ممتنع الزوال ہوتا ہے۔ اس لیے کہ وہ ازل سے موجود ہے اور جو چیز ازل سے موجود ہو اس کا زوال محال ہوتا ہے۔ علی ہذا القیاس جو چیز حرکت کو قبول کر سکتی ہے اور وہ ازلی بھی ہو تو اس کی حرکت بھی ازلی اور ممتنع الزوال ہوگی۔ ازلی حرکت کو تسلیم کرنے سے یہ لازم آئے گا کہ کچھ ایسے حوادث بھی ہوں جو ازلی ہوں اور ان کا نقطۂ آغاز معلوم نہ ہو۔حالانکہ یہ ممتنع ہے۔ اس سے یہ لازم آیا کہ ذات باری کے ساتھ حوادث کا قیام ممکن نہیں ۔ علاوہ ازیں یہ بات ادلہ عقلیہ یقینیہ سے ثابت ہے اور انہیں بخوبی معلوم ہے کہ کلام متکلم کے ساتھ اسی طرح وابستہ ہوتا ہے، جس طرح صفت علم کا قیام عالم کے ساتھ ہوتا ہے، قدرت قادر کے ساتھ اور حرکت کا متحرک کے ساتھ، یہ بھی مسلم ہے کہ جو کلام اللہتعالیٰ کسی دوسری چیز میں پیدا کر دیتے ہیں وہ اس کا کلام نہیں ہوتا بلکہ وہ اس چیز کا کلام کہلائے گا جس کے ساتھ وہ قائم ہے۔ اس لیے کہ صفت جب کسی محل کے ساتھ قائم ہو؛تو اس کا حکم اسی محل پر لوٹتا ہے۔اسے کسی دوسرے پر نہیں لوٹایا جاتا ۔اس محل کے لیے اس سے نام مشتق کیا جاتا ہے جو کہ کسی دوسرے کے لیے مشتق نہیں کیا جاتا۔ پس اگر کسی دوسرے میں پیدا کیا گیا کلام اللہ تعالیٰ کا کلام ہوتا تو اس سے چار باطل امور لازم آتے :

۱۔ اس سے مشتق اسم اورصفت کا ثبوت غیر اللہ کے لیے۔ ۲۔ اللہ تعالیٰ سے اس حکم اور اسم کی نفی جو کہ دونوں عقلی اورسمعی طور پر اس لیے لازم ہیں کہ وہ کلام اس جگہ کی صفت ہیں ؛ اللہ کی نہیں ۔ ۳۔ پس وہ ایسی چیز کا منادی ہوگا جس کے ساتھ وہ قائم ہو۔پس درایں صورت وہ درخت جس میں اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام کے لیے آواز پیدا کی تھی ؛ وہی اس قول کا قائل ہوگا: ’’إننی أنا اللہ ۔‘‘پھر یہ آواز دینے والی ہستی اللہ تعالیٰ کی نہیں ہوگی ۔اور اس سے لازم آئے گا کہ آپ اس کلام کرنے والے درخت کو ہی حضرت موسی علیہ السلام سے ہم کلام کہیں ؛ اور اس سے یہ بھی لازم آئے گا کہ اللہ تعالیٰ نہ ہی متکلم ہوں اور نہ ہی منادی اور مناجی۔ جب کہ یہ باتیں دین اسلام ضرورت کے تحت معلوم شدہ عقائد کے خلاف ہیں ۔ اور یہ ساری تفصیل دوسری جگہ پر بیان ہو چکی ہے۔

۲۔ پھر یہ کہ اگر وہ ازل میں متکلم نہیں تو پھر اس کی نقیض سے متصف ہو گا جو سکوت یا گونگا پن ہے۔

یہ لوگ کہتے ہیں : اگر اس کا کلام مخلوق ہے تو پھر اگر اس نے کلام کو ایک محل میں پیدا کیا ہے تو یہ اس محل کا کلام ہو گا اور اگر اس نے کلام کو قائم بنفسہ بنایا ہے تو صفت اور عرض قائم بنفسہ ٹھہریں گے اور اگر اس نے کلام کو خود اپنے میں پیدا کیا ہے تو لازم آئے گا کہ اس کی ذات محلِ مخلوقات ہو۔یہ تینوں لوازم باطل ہیں ؛اور کلامِ الٰہی کے مخلوق ہونے کے قول کو باطل قرار دیتے ہیں ۔ یہ ساری تفصیل دوسری جگہ پر بیان ہو چکی ہے۔

پس جب ان کے نزدیک یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ کلام کا
قیام صرف متکلم کے ساتھ ہوتا ہے، اور وہ معتزلہ کی ہم
نوائی میں یہ بھی کہتے ہیں کہ حوادث ذات قدیم کے
ساتھ قائم نہیں ہو سکتے، تو ان ہر دو قواعد سے کلام کا
قدیم ہونا ثابت ہوگیا۔

کیا اصوات قدیم ہیں ؟:

صفحہ 1 از 6