فصل:....کلام اللہ کے متعلق اشاعرہ کا عقیدہ اوررافضی اعتراض…

فصل:....کلام اللہ کے متعلق اشاعرہ کا عقیدہ اوررافضی اعتراض پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 6

اشاعرہ کے نزدیک اصوات کا قدیم ہونا ممتنع ہے۔ وہ اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ صوت (چونکہ عرض ہے اس لیے وہ دو) زمانوں تک باقی نہیں رہ سکتی۔ بنا بریں یہ بات متعین ہوگئی ہے کہ کلام قدیم ایک معنوی چیز ہے اور حرف و صوت سے عبارت نہیں ، اندریں صورت وہ ایک ہی صفت سے متصف ہوگا اگر وہ ایک سے بڑھ جائے تو اسے غیر محدود ماننا پڑے گا اور ظاہر ہے کہ غیر متناہی معانی کا وجود ممتنع ہوتا ہے۔یہ ان کے عقیدہ کی اصل ہے۔ وہ کہتے ہیں ہم اس بات میں تمہارے ہم خیال ہیں کہ جو چیز اللہ تعالیٰ کی مراد و مقدور ہو وہ اس کی ذات کے ساتھ قائم نہیں ہو سکتی۔ تاہم ہم یہ بات تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ کلام ا لٰہی اس کا پیدا کردہ مگر اس سے منفصل ہے۔تمہارے ذکر کردہ اصول کی بنا پر اس سے ہمارے ساتھ مناقضہ لازم آتاہے۔ اگر کسی طرح جمع و تطبیق ممکن ہو تو تناقض رفع ہو جائے گا۔ تطبیق ممکن نہ ہونے کی صورت میں ہمارے ان دونوں مسئلوں میں سے ایک کو مبنی برخطا تسلیم کرنا پڑے گا، یہ ضروری نہیں کہ وہی مسئلہ غلط ہو جس میں ہم نے تمہاری مخالفت کی ہے۔ بخلاف ازیں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ جس مسئلہ میں ہم متحدالخیال ہیں وہی درست نہ ہو ۔یعنی کہ اللہ تعالیٰ اپنی مشیت و قدرت کے مطابق وہ کلام نہیں کرتا جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہوتا ہے۔حالانکہ جمہور اہل الحدیث ، متکلمین کرامیہ اور شیعہ سب یہی عقیدہ رکھتے ہیں بالفاظ صحیح تریوں کہنا چاہیے کہ اکثر اسلامی فرقے اس کے قائل ہیں ۔جب ان دونوں مسئلوں میں سے کسی ایک غیر متعین میں ہمارا مبنی بر خطأ ہونا لازم آتا ہے تواس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ ہی راست اور حق پر ہوں ۔ اور جب مجبوراً ہمیں دونوں فرقوں میں سے کسی ایک کے ساتھ ہم آہنگ ہونا پڑا تو ہم اس فرقہ کی موافقت کو پسند کریں گے جس کا نقطۂ نظریہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے تو بولتا ہے۔جو فرقہ یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی اور چیز میں اپنا کلام پیدا کر دیتا ہے، ہم اس کے ہم نوابننا پسند نہیں کریں گے، اس لیے کہ یہ نظریہ شرعاً و عقلاً فاسد ہے بہ نسبت اس قول کہ وہ ایسا کلام کرتا ہے جو اس کے ساتھ قائم ہے؛ اور وہ اس کی مشئیت اور قدرت سے متعلق ہے۔

پھر وہ جمہور مسلمین جو کہتے ہیں : بیشک اللہ تعالیٰ اپنی مشئیت اور قدرت سے ایسا کلام کرتا ہے جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہوتا ہے؛ ان کا دو اقوال میں اختلاف ہے۔ ان میں سے بعض کہتے ہیں : بیشک اللہ تعالیٰ اپنی مشئیت اور قدرت سے ایسا کلام کرتا ہے جو پہلے سے اس میں موجود نہیں تھا۔ یہ کرامیہ اور ان کے موافقین کا مذہب ہے۔ ۔ ان میں سے بعض کہتے ہیں : بیشک اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے متکلم رہا ہے؛ وہ جب چاہے اور جیسے چاہے کلام کرتا ہے۔ جیسا کہ ائمہ اہل سنت و الجماعت اور کلابیہ اوردیگر محدثین جیسے عبداللہ بن مبارک ؛ أحمد بن حنبل اور ان کے علاوہ دوسرے ائمہ اہل سنت کا عقیدہ ہے۔ کلابیہ کہتے ہیں : اگرہم ان میں سے کسی ایک کی موافقت کے لیے مجبور ہوں جو کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ کا کلام مخلوق ہے؛ اور جو کہتے ہیں : اس کا کلام اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے؛اور جنس کلام اس کی ذات میں عدم کے بعد پیدا ہوئی ہے؛ توان کے کلام میں معتزلہ کے عقیدہ کی نسبت بہت کم فساد اور خرابی پائی جاتی ہے۔ معتزلہ کے عقیدہ کا فساد زیادہ ظاہر ہے۔ بلاشک وشبہ دلیل اس کی نفی کرتی ہے کہ کسی چیز کا اس کی ذات سے اور اس کی ضد سے خالی نہیں ہوتی۔ یہ ایسی کمزور حجت ہے کہ اس کے ضعف کا اعتراف اس فرقہ کے بڑے ماہر علماء اوراہل انصاف لوگوں نے کیا ہے؛ ان کا اعتراف ہے کہ:ان کے پاس کوئی ایسی عقلی یا سمعی دلیل نہیں ہے جو حوادث کے اس ساتھ قائم ہونے کی نفی کرتی ہو؛ سوائے اس دلیل کے جو مطلق طور پر صفات کی نفی کرتی ہو۔ تو پھر کی دوسرے قول کی طرف پلٹنا کیسے ممکن ہے جو کہ اسلاف محدثین کا قول ہے۔

غرض اہل حدیث کا یہ قول کہ وہ ہمیشہ سے متکلم ہے جب چاہے [کلام کرے]؛ دو مقدمات پر مبنی ہے:

ایک یہ کہ: اس کے ساتھ امورِ اختیاریہ قائم ہیں اور یہ کہ اس کا کلام بے نہایت ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿قُلْ لَّوْ کَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّکَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ کَلِمٰتُ رَبِّیْ وَ لَوْ جِئْنَا بِمِثْلِہٖ مَدَدًاo﴾ (الکہف: ۱۰۹)

’’کہہ دے اگر سمندر میرے رب کی باتوں کے لیے سیاہی بن جائے تو یقیناً سمندر ختم ہوجائے گا اس سے پہلے کہ میرے رب کی باتیں ختم ہوں ، اگرچہ ہم اس کے برابر اور سیاہی لے آئیں ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ لَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَۃٍ اَقْلَامٌ وَّ الْبَحْرُ یَمُدُّہٗ مِنْ بَعْدِہٖ سَبْعَۃُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ کَلِمٰتُ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌo﴾ (لقمان: ۲۷)

’’اور اگر زمین بھر کے درخت قلمیں ہوں اور سمندر اس کی سیاہی ہو، جس کے بعد سات سمندر اور ہوں تو بھی اللہ تعالیٰ کی باتیں ختم نہ ہوں گی، یقیناً اللہ تعالیٰ سب پر غالب، کمال حکمت والاہے۔‘‘

بہت سارے علماء کرام نے فرمایا: ’’بیشک اس جیسے کلام سے مراد اس امر پر دلالت ہوتی ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ کا کلام نہ ختم ہوسکتا ہے اور نہ ہی مٹ سکتا ہے؛ بلکہ اس کی کوئی انتہاء نہیں ہوتی۔ اور جس نے یہ کہاکہ: بیشک اللہ تعالیٰ اپنی مشئیت اور قدرت سے ایسا کلام کرتا ہے جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہو؛ وہ یہ بھی کہتے ہیں : بیشک اس کلام کی مستقبل میں کوئی انتہاء نہیں ہے۔ جب کہ ماضی کے متعلق ان کے دو قول ہیں :

ان میں سے بعض کہتے ہیں : ماضی میں اس کی ابتداء ہوتی ہے۔ اور ان کے ائمہ کہتے ہیں : ماضی میں اس کی کوئی ابتداء ایسے ہی نہیں ہے جیسے مستقبل میں اس کی کوئی انتہاء نہیں ہے۔ اور یہ قول ایسے کلمات کو مستلزم ہے جس کی ازل اور ابد میں کوئی انتہاء نہیں ہے۔

صفحہ 2 از 6