فصل:....کلام اللہ کے متعلق اشاعرہ کا عقیدہ اوررافضی اعتراض…

فصل:....کلام اللہ کے متعلق اشاعرہ کا عقیدہ اوررافضی اعتراض پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 6

کلام صفتِ کمال ہے اور اپنی مشیئت و قدرت کے ساتھ کلام کرنے والا اس سے زیادہ کامل ہے جو اپنی مشیئت و قدرت سے کلام نہیں کرتا۔ بلکہ متکلم تو ہوتا ہی وہ ہے جو اپنی قدرت و مشیئت سے کلام کرے۔بلکہ اس کے بغیر کسی متکلم کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔اور کلام اس وقت تک صفت کمال نہیں ہوسکتا جب تک وہ متکلم کے ساتھ قائم نہ ہو۔اور رہ گئے وہ امور جو ذات سے منفصل ہیں ؛ تووہ کسی بھی صورت میں صفت نہیں بن سکتے۔ کجا کہ وہ صفت کمال یا نقص ہوں ۔

کہتے ہیں : سلف صالحین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام رحمہم اللہ اور ان کے علاوہ دیگر ائمہ مسلمین میں سے کسی ایک کے متعلق بھی معلوم نہیں ہوسکا جو اس اصول کا انکار کرتا ہو۔ اور نہ ہی کسی نے یہ کہا ہے کہ: ایسے کلمات کا وجود ممتنع ہے جن کی ماضی اورمستقبل [ ازل اور ابد] میں کوئی انتہا ہی نہ ہو۔اور نہ ہی کسی نے اس سے امتناع کے لزوم کا کہا ہے۔

بیشک ایسا کہنے والے کچھ متکلمین مبتدعین ہیں جو سلف اور ائمہ اہل سنت کے ہاں مذموم ہیں ۔جنہوں نے اسلام میں اللہ تعالیٰ کی صفات ؛ اس کے اپنی مخلوق پر علو[بلندہونے ]اور آخرت میں دیدا رکے انکار کا عقیدہ ایجاد کیا۔اور وہ کہنے لگے: ’’بیشک اللہ تعالیٰ کلام نہیں کرتا۔‘‘اورپھر کہنے لگے: وہ کلام تو کرتا ہے مگر اس کا کلام مخلوق اور اللہ تعالیٰ سے جدا ہوتا ہے۔

وہ کہتے ہیں : بیشک ہم یہ بات اس لیے کہتے ہیں کہ ہم نے حدوث عالم پر حدوث اجسام سے استدلال کیا ہے؛ اوراجسام کے حدوث پر ان حوادث سے استدلال کیا ہے جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہوتے ہیں ۔ اورجو چیز حوادث سے جدا نہ ہو وہ بھی حادث ہی ہوتی ہے؛ اس لیے کہ حوادث کا بلا ابتداء ہونا ممتنع ہے ۔ اور اگر ہم کہیں کہ: صفات اورکلام اس کے ساتھ قائم ہوتے ہیں ؛ تو پھر حوادث کا اس ساتھ قیام لازم آتا ہے۔ اس لیے کہ یہ تمام اعراض حوادث ہیں ۔

پس اہل سنت ان کو جواب میں کہتے ہیں : ’’بیشک تم بدعات ایجاد کرکے یہ گمان کرتے ہو تم اسلام کی نصرت کر رہے ہو؛ حالانکہ نہ ہی تم نے اسلام کی نصرت کی اور نہ ہی دشمن کو نیچا دیکھایا۔ بلکہ تم اہل عقل و شرع کو اپنے اوپر مسلط کردیا؛ وہ لوگ جو کہ مرسلین علیہم السلام کی نصوص کے علماء تھے؛ وہ جانتے تھے کہ تم ان کی مخالفت کر رہے ہو؛ اور بیشک تم گمراہ اور بدعتپرست ہو۔ اور معقول کے معانی جاننے والے علم رکھتے ہیں کہ تم ایسی بات کہتے ہو جو معقول کے خلاف ہے۔ اور تم خطا پر اور گمراہی کا شکار ہو۔

جن فلاسفہ کے متعلق تمہارا خیال ہے کہ تم ان پر حجت قائم کر رہے ہو؛ اس طریقہ سے وہ تم پر مسلط ہوکر رہ گئے۔ انہوں نے دیکھ لیا کہ تم صریح معقول میں ان کی مخالفت کر رہے ہو۔ فلاسفہ الٰہیات اور شرع میں تمہاری نسب بڑے جاہل ہیں ۔لیکن جب انہوں نے خیال کیا کہ جو کچھ تم لیکر آئے ہو وہی شریعت ہے؛ اور پھر انہوں نے یہ بھی دیکھاکہ ایسا کرنا عقل کے خلاف ہے تو وہ تمہاری نسب عقل اور شرع سے بہت دور چلے گئے۔لیکن انہوں نے تمہارا مقابلہ عقلی دلائل بلکہ شرعی دلائل سے کیا ؛ تو اس باب میں تم ان کے مقابلہ میں حق اور صواب بیان کرنے سے عاجز آگئے۔

یہ سبب ان کے نفوس میں ان کی مزید گمراہی اور تمہارے اوپر مسلط ہونے کا سبب بنی۔ اور اگر تم ان کے ساتھ ان لوگوں کی راہ اختیارکرتے جو معقول اور منقول کی حقیقت کو جانتے ہیں ؛ تو یہ بات تمہارے لیے بڑی مدد گار ہوتی ؛ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے لیے سب سے بڑھ کر ہوتے۔ لیکن تمہارا حال اس انسان کی طرح تھا جو کفار سے جہاد تو کرتا ہے مگر جھوٹ بول کر اور زیادتی و سرکشی کرتے ہوئے۔اور انہیں اس وہم میں مبتلا کر رہا ہو کہ یہ انسان ایمان کی حقیقت میں داخل ہو چکا ہے۔ پس ان لوگوں تک ان کا جو جھوٹ اور عداوت و سرکشی پہنچی تھی؛ وہ ان کے دعوی ایمان میں نقد و قدح کا موجب بن گئی۔اور جب ان لوگوں نے دیکھا کہ بادشاہی ؛ ریاست اور مال میں بھی اسی قس کی دھوکہ بازی اور حیلہ سازی پائی جاتی ہے؛ تو وہ ایسی راہ پر چل پڑے جو دھوکہ اور حیلہ سازی میں ان گمراہ مبتدعین کے طریقہ سے بھی دو ہاتھ آگے بڑھ کر تھی۔تو ان کے دین سے خروج کی وجہ سے ان کے گناہوں کی پاداش میں انہیں ان لوگوں پر مسلط کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ اَوَ لَمَّآ اَصَابَتْکُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْہَا قُلْتُمْ اَنّٰی ھٰذَا قُلْ ہُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِکُمْ﴾ (آل عمران ۱۶۵)

’’ اور کیا جب تمھیں ایک مصیبت پہنچی کہ یقیناً اس سے دگنی تم پہنچا چکے تھے تو تم نے کہا یہ کیسے ہوا؟ کہہ دے یہ تمھاری اپنی طرف سے ہے۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا مِنْکُمْ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعٰنِ اِنَّمَا اسْتَزَلَّہُمُ الشَّیْطٰنُ بِبَعْضِ مَا کَسَبُوْا وَ لَقَدْ عَفَا اللّٰہُ عَنْہُمْ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ﴾ (آل عمران ۱۵۵)

’’بے شک وہ لوگ جو تم میں سے اس دن پیٹھ پھیر گئے جب دو جماعتیں بھڑیں ، شیطان نے انھیں ان بعض اعمال ہی کی وجہ سے پھسلایا جو انھوں نے کیے تھے اور بلاشبہ یقیناً اللہ نے انھیں معاف کر دیا، بے شک اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت بردبار ہے۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ مَآ اَصَابَکُمْ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰہِ وَ لِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَ﴾ (آل عمران ۱۶۶]

’’۱اور جو مصیبت تمھیں اس دن پہنچی جب دو جماعتیں بھڑیں تو وہ اللہ کے حکم سے تھی اور تاکہ وہ ایمان والوں کو جان لے۔‘‘

صفحہ 3 از 6