فصل:....کلام اللہ کے متعلق اشاعرہ کا عقیدہ اوررافضی اعتراض…

فصل:....کلام اللہ کے متعلق اشاعرہ کا عقیدہ اوررافضی اعتراض پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 6

پس جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیکر آئے ہیں ؛ وہ محض حق ہے؛ اور اس کی تصدیق صریح معقول اور صحیح منقول سے ہوتی ہے۔ اور اس کے مخالف اقوال ؛ اگرچہ ان کے کہنے والے بڑی تعداد میں مجتہدین تھے؛ جن کی خطأ معاف ہے ؛ تاہم وہ علمی دلائل کی روشنی میں اس مؤقف کی نصرت کا ملکہ نہیں رکھتے۔ اور جن علمی دلائل سے اس پر قدح کی جاسکتی ہے؛ اس کا کوئی جواب ان کے پاس نہیں ہے۔ اس لیے کہ صحیح عقلی دلائل صرف حق بات پر ہی دلالت کرتے ہیں ۔ اور وہ صحیح جوابات جو اپنے فریق مخالف کے دلائل کو باطل ثابت کرسکیں ؛وہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب اس کے دلائل باطل ہوں بھی۔ اس لیے کہ باطل پر صحیح دلیل قائم نہیں ہوسکتی۔ اور جو چیز حق اور درست ہو اسے صحیح دلیل کے ذریعہ ختم نہیں کیا جاسکتا۔

یہاں پر یہ بتانا مقصود ہے کہ جو کوئی ایسی بات کہے؛ جس میں ایک لحاظ سے راستی پر ہو؛ اور ایک لحاظ سے غلطی کر رہا ہو؛ حتی کہ وہ اس میں اپنے ہی قول سے تناقض کا شکار ہو؛ اور اس طرح اس نے اپنی بات میں دو متناقض امور کو جمع کردیا ہو۔ وہ اپنے مخالف مناقض سے تسلیم شدہ جدلی مقدمہ میں کہہ رہا ہو: میرا تناقض ان دو میں سے کسی ایک بات میں میرے غلطی پر ہونے پر دلالت کر رہا ہے۔اور جو قول اس کے التزام سے تم مجھ پر لازم ٹھہرا رہے ہو؛ وہ تمہارے قول کی صحت پر دلالت نہیں کر رہا۔بلکہ یہ ممکن ہے کہ میرا دوسرا قول درست ہو۔

اشاعرہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا کلام مخلوق نہیں ہے۔اور اس لیے بھی کہ یہ اس امت کے اسلاف اور ائمہ کا عقیدہ ہے۔اوراس پر شرعی اورعقلی دلائل موجود ہیں ؛ جب ان سے کہا جائے کہ قرآن کریم کے قدیم ہونے کا قول ممتنع ہے۔ تو ان کے لیے یہ کہنا ممکن ہے کہ : جو لوگ اسے غیر مخلوق کہتے ہیں ؛ ان کے ہاں مزید دو اقوال ہیں ؛ جیسا کہ اس سے پہلے گزرچکا۔ اوران میں سے کوئی ایک قول بھی لازم نہیں آتا؛ وگرنہ جو لوگ اسے مخلوق کہتے ہیں ؛ ان کا عقیدہ اس سے بڑی خرابی اور فساد پر مشتمل ہے۔

عقل مند انسان آگ کی گرمی سے پناہ نہیں طلب نہیں کرتا؛اگر وہ اپنے مؤقف کو چھوڑ دیتا ہے؛ تووہ مرجوح قول سے راجح کی طرف رجوع کرتا ہے۔اور جو لوگ کہتے ہیں : ’’ بیشک اللہ تعالیٰ اپنی مشئیت اور قدرت سے کلام کرتے ہیں ؛ حالانکہ اس سے پہلے وہ متکلم نہیں تھا؛ اس میں معتزلہ اور ان جیسے دیگر لوگوں کے لیے ان کے خلاف کوئی حجت نہیں ؛سوائے صفات کی نفی کی حجت کے۔ اور یہ حجت بھی انتہائی بیکار اوربودی ہے۔کلابیہ کے پاس ان کے خلاف کوئی دلیل ہے ہی نہیں ؛ سوائے اس کے کہ اس سے دوام حوادث لازم آتا ہے۔ اس لیے کہ کسی چیز کا مقابل اس سے او راس کی ضد سے خالینہیں ہوتا۔اور اس لیے بھی حوادث کی قابلیت اس کی ذات کے لوازم میں سے ہوتی ہے۔

یہ بہت ہی کمزور دلائل ہیں جن کا یہ لوگ التزام کرتے ہیں ؛ اور اس کا اعتراف ان کے بڑے بڑے ماہر علماء کرچکے ہیں کہ اس باب میں وارد تمام عقلی دلائل انتہائی کمزور ہیں ۔جبکہ شرعی دلائل وہ مثبتین صفات کے ساتھ ہیں منکرین کے ساتھ نہیں ۔

یہ کہنا کہ: اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے متکلم ہیں ؛ وہ جب چاہیں کلام کرتے ہیں ؛ کلام رب تعالیٰ کی ذات کے لوازم میں سے ہے؛ اس پر اتنے دلائل ہیں کہ ان کے اعداد و شمار سے یہ کتاب تنگ پڑجائے گی۔ اور جو قول بھی صحیح ہو ؛ ہمارے لیے اس کا اختیار کرنا ممکن ہے۔

امام رازی اور دیگر کہتے ہیں : تمام عقلاء پر لازم آتا ہے کہ وہ حواد ث کے اس کی ذات کے ساتھ قائم ہونے کا قول اختیار کریں ۔ پس جب یہ صحیح ثابت ہو جائے تو یہ کہنا بھی ممکن ہوگا کہ وہ اپنی مشئیت اور قدرت سے کلام کرتا ہے۔ اس باب میں ہم نے دانشمندوں کی عقول کی منتہیٰ پر تفصیل سے بات کی ہے۔ اور یہ بھی بتایا ہے جس پر کتاب و سنت اور سلف امت کے اقوال دلالت کرتے ہیں ؛ یہ تفصیل ہماری کتاب’’درء تعارض العقل و النقل ‘‘ اور دیگر کتب میں مل جائے گی۔ 

خلاصہ کلام ! جو بھی دلیل اس بات پر مبنی ذکر کی جائے کہ سکون ایک امر وجود ی ہے؛ اور بیشک اللہ تعالیٰ فاعل بنے ہیں ؛حالانکہ وہ پہلے فاعل نہ تھے؛ پس اس صورت میں حوادث غیر دائمی ٹھہریں گے۔اوریہ تو معلوم شدہ ہے کہ ان دونوں اقوال کا فاسد ہونا صاف ظاہرنہیں ہے؛خصوصاً تحقیق کے وقت ان دونوں اقوال یا ان میں سے ایک قول کی صحت ظاہر ہوتی ہے۔اور ان میں سے جو قول بھی صحیح ثابت ہوجائے ؛ تو اس کے ساتھ یہ کہنا بھی ممکن ہو جاتا ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ ایسا کلام کرتے ہیں جو اس کی مشئیت اور قدرت کے ساتھ قائم ہوتا ہے۔

٭ اشاعرہ کہتے ہیں : جب یہ بات حق ہے ؛ تو جب ہم کہتے ہیں کہ: اس کا کلام اس کے ساتھ قائم ہوتا ہے؛ پس وہ اس کی مشئیت اور قدرت کے ساتھ معلق نہیں ہوتا؛ تو ہم نے حق بات تو کہی لیکن اس میں تناقض کا شکار ہوگئے۔ تو پھر بھی ہمارا قول ان لوگوں کے قول سے بہتر ہے جو کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ کا کوئی کلام ہی نہیں ؛سوائے اس کے جو وہ کسی دوسرے میں پیدا کرتا ہے۔ اور اس قول میں شریعت اور عقل کی مخالفت پائی جاتی ہے۔

چہارم :....اورہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ابھی تک کسی معدوم چیز کو خطاب کا اہل نہیں سمجھا گیا اور کسی چیز سے بشرطِ وجود مخاطب ہونا اس متکلم کے وجود کو تسلیم کرنے کی نسبت اقرب الی العقل ہے جس کا کلام اس کے ساتھ قائم نہ ہو اور رب ہونے کے باوصف جس سے صفات کمال مسلوب ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے جس عرض کو بھی کسی جسم میں پیدا کیا ہے وہ اس جسم کی صفت ہے خالق کی نہیں ۔ باقی رہا اس چیز سے مخاطب ہونا جو سر دست اگرچہ معدوم ہے تاہم اس کا وجود متوقع ہے تو اس میں شبہ نہیں کہ وصیت کنندہ بعض اوقات کہتا ہے، کہ میری موت کے بعد ایسا کریں ویسا کریں اور جب میرا فلاں بچہبالغ ہوجائے تو میرا یہ حکم اسے پہنچا دیا جائے، بعض اوقات وہ اپنی جائیداد وقف کرنے کی وصیت کرتا ہے جو عرصہ دراز تک باقی رہتی ہے اور اس نگران کے نام وصیت کرجاتا ہے، جو وصیت کے وقت پیدا بھی نہیں ہوا ہوتا۔

٭....شیعہ مصنف کا یہ قول کہ ’’ یا سالم ! اے غانم ! [وغیرہ اگر غیر موجود غلام کا نام لے کر پکارنا حماقت کی دلیل ہے]۔‘‘ [انتہیٰ کلام الرافضی]۔

صفحہ 4 از 6