فتح جزیرہ 17 ہجری
علی محمد الصلابیپچھلے صفحات میں یہ بات گزر چکی ہے کہ رومی اور جزیرہ کے باشندے حمص پر مشترکہ حملہ کرنا چاہتے تھے اور اس میں سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اور وہاں کے مسلمانوں کو گھیرے میں لے لیا تھا اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو جب اطلاع ہوئی تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ کوفہ سے امدادی فوج لے کر حمص کی طرف روانہ ہو جائیں، نیز دوسری کوئی فوج فوراً جزیرہ کی طرف روانہ کریں، سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے فوراً حضرت قعقاع بن عمرو تمیمی رضی اللہ عنہ کی قیادت میں کوفہ سے حمص کے لیے فوج بھیج دی اور جزیرہ جانے والی تمام افواج عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ کی قیادت میں نکلیں، چنانچہ حضرت سہیل بن عدی رضی اللہ عنہ اپنی فوج لے کر فراض کے راستے ہوتے ہوئے ’’رقہ‘‘ پہنچے اور اس کا محاصرہ کر لیا۔ اہل رقہ نے جب دیکھا کہ مسلمانوں کی شامی و عراقی افواج کے درمیان ہم گِھر چکے ہیں تو مصالحت کر لی، دوسری فوج لے کر حضرت عبداللہ بن عتبان رضی اللہ عنہ دجلہ کے راستے نصیبین پہنچے، وہاں کے لوگوں نے بھی اہل رقہ کی طرح مصالحت کر لی اور جب رقہ و نصیبین کے باشندوں نے مصالحت کر لی تو عیاض رضی اللہ عنہ نے سہیل اور عبداللہ رضی اللہ عنہما کو اپنے ساتھ لے لیا اور تمام افواج کو لے کر ’’حران‘‘ کی طرف بڑھے اور درمیان کے پورے علاقے پر قابض ہوتے چلے گئے۔ جب حران پہنچے تو وہاں کے لوگوں نے بھی امان کا مطالبہ کیا اور جزیہ دینے پر رضا مند ہوگئے۔ پھر عبداللہ اور سہیل رضی اللہ عنہما ’’رہا‘‘ کی طرف بڑھے، وہاں کے لوگوں نے بھی جزیہ دینے پر مصالحت کر لی اور اس طرح پورا کا پورا جزیرہ اپنی وسعت کے باوجود بذریعہ صلح اسلامی قلمرو میں داخل ہوگیا۔