Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فتوحات مصر و لیبیا

  علی محمد الصلابی

مسلمانوں کی نگاہ میں مصر فتح کرنے کے چند قوی اسباب تھے، سب سے اہم سبب تو یہ تھا کہ وہ اسلامی عقیدے کو روئے زمین کے چپے چپے میں غالب و عام کرنا چاہتے تھے، اور چونکہ مصر کی سرحدیں فلسطین سے ملتی تھیں، اس لیے فتح فلسطین کے بعد ان کا مصر کی طرف متوجہ ہونا ایک فطری امر تھا۔ مسلمانوں نے شام فتح کر کے روم کی بازنطینی بادشاہت کو دو حصوں میں اس طرح تقسیم کر دیا تھا کہ دونوں کے درمیان اتصال سمندر کے ذریعہ سے ہو سکتا تھا۔ مصر اور شمالی افریقہ میں روم کی مسلح افواج موجود رہتی تھیں، دریائے نیل میں رومیوں کا مضبوط بحری بیڑا پہلے ہی موجود تھا، اس لیے مسلمان شام میں اس وقت تک خود کو مامون نہیں سمجھ سکتے تھے، جب تک مصر رومی قبضہ میں باقی تھا، مصر ایک مالدار ملک تھا، قسطنطنیہ میں سامان رسد یہیں سے بھیجا جاتا تھا، چنانچہ جب مسلمانوں نے مصر فتح کر لیا تو رومیوں کا اثر و نفود بالکل جاتا رہا اور مسلمانوں کو شام و حجاز میں اس اعتبار سے اطمینان و امن حاصل ہوگیا کہ مصر کے راستے سے روم کا حجاز پہنچنا آسان نہ رہا۔

(عصر الخلافۃ الراشدۃ: أکرم العمری: صفحہ 348)

فتح مصر کا دوسرا سبب یہ بھی بنا کہ مصر کے قدیم باشندے ’’قبطی‘‘ رومیوں کے ظلم و جبر کا شکار تھے۔ فوجی محافظوں اور سرحدی چوکیداروں سے زیادہ ان کی زندگی کی کوئی وقعت نہ تھی پس ایسی صورت میں یقینی تھا کہ وہ موقع سے فائدہ اٹھاتے، خاص طور سے اس لیے کہ مسلمانوں کے عدل و انصاف کا چرچا وہ پہلے ہی سن چکے تھے۔

(دراسات فی عہد النبوۃ والخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 357)

 اور مصر کے ان محافظ دستوں کو مسلمانوں اور اسلامی فوج سے مرعوب ہونا ضروری بھی تھا۔

(فتوح الشام: أزدی: صفحہ 118)

 کیونکہ وہ دیکھ چکے تھے کہ ہمارا بادشاہ ہرقل شام کو اسلامی سلطنت کے حوالے کر کے چھوڑ بھاگا ہے، حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ان تمام تبدیلیوں کا نہایت باریکی سے مطالعہ کر رہے تھے اور اس نتیجہ پر پہنچ چکے تھے کہ رومی افواج اب مصر میں مسلمانوں کے سامنے ٹھہرنے کی طاقت کھو چکی ہیں اور اگر اس حالت میں بھی مصر کو فتح نہیں کیا جاتا تو یہ ہمیشہ مسلمانوں کے لیے خطرے کا مرکز بنا رہتا، اس بات کا اظہار حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے اپنی زبان سے کیا۔

(دراسات فی عہد النبوۃ والخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 357)

مصر فتح کرنے کا خیال سب سے پہلے کس کے دل میں پیدا ہوا، حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے دل میں، یا ان کے مشورہ کے بغیر خلیفہ راشد عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس طرف توجہ دی یا یہ کہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے اصرار کے بعد خلیفہ نے اس پر موافقت کی؟

(النجوم الزاہرۃ: جلد 4 صفحہ 1،7 )

اس سلسلہ میں روایات میں اختلاف ہے، لیکن اس اختلاف کے باوجود فتح مصر کے جو عوامل و اسباب بتائے گئے ہیں وہ اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ خلیفۂ وقت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس پر راضی تھے اور یہ صرف عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کا خیال تھا، یا یہ کہ مصر کی سر زمین، آب و ہوا اور وہاں دشمن کی کثرت تعداد کا انہیں پورا علم نہیں تھا۔ تاریخی روایات میری رائے کی تائید کرتی ہیں۔ ابن عبدالحکم صراحتاً تحریر کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے شام فتح ہو جانے کے بعد حضرت عمرو بن عاصؓ کے نام خط لکھا کہ ’’لوگوں کو اپنے ساتھ لے کر مصر پر چڑھائی کے لیے تیار کرو، جو تمہارے ساتھ جانے کو تیار ہوں انہیں ساتھ لے کر جاؤ۔‘‘

(فتوح مصر: صفحہ 57)

طبری لکھتے ہیں کہ ’’ایلیا (بیت المقدس) والوں سے مصالحت کرنے کے بعد سیدنا عمرؓ نے وہاں کئی دنوں تک قیام کیا اور حضرت عمرو بن عاصؓ کو اس ہدایت کے ساتھ مصر بھیجا کہ اگر اللہ نے اس پر فتح دی تو تم وہاں کے امیر ہوگے۔ ان کے پیچھے ہی حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں ایک امدادی فوج روانہ کی۔ اس بات کی تائید ان امدادی افواج کی روانگی سے بھی ہوتی ہے جنہیں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مختلف جہات سے مصر بھیجا تھا اور ان کی تعداد بارہ ہزار (12،000) پہنچ گئی تھی۔ نیز بلا اختلاف تمام مؤرخین اس بات کے قائل ہیں کہ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اسکندریہ کی فتح کے لیے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 84 تا 93)