اسلامی فتوحات کا رخ مصر کی جانب
علی محمد الصلابیبازنطینی رومی حکومت کے سقوط کے اعتبار سے، فتح مصر سے اسلامی فتوحات کے تیسرے مرحلہ کا آغاز ہوتا ہے۔ چنانچہ فلسطین کے بعد سمندر کے برابر میں چلتے ہوئے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فلسطین سے مصر پہنچے۔ ’’رفح، عریش اور فرما سے فاتحانہ اقدام کرتے ہوئے قاہرہ اور پھر اسکندریہ تک پہنچ گئے۔ فوجی کارروائی کے لیے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کا ساحلی راستہ اختیار کرنا ان کی عسکری مہارت کی دلیل ہے۔ شاید حضرت عمرو بن عاصؓ نے یہ راستہ اس لیے اپنایا تھا کہ بلاد شام کی طرح اس راستے میں رومیوں کی کوئی عسکری قوت موجود نہ تھی اور یہ وجہ بھی رہی ہوگی کہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے لیے یہ راستہ جانا پہچانا تھا۔ اس طرح آپؓ ذیل کی ترتیب کے مطابق مسلسل فاتحانہ اقدام کرتے ہوئے آگے بڑھتے گئے، فتوحات کے تسلسل اور تقدیم و تاخیر کے متعلق تاریخی روایات میں کچھ اختلاف ہے، جیسے کہ بلاد شام کی فتوحات میں کہیں کہیں ہمیں نظر آیا ہے، اس لیے میں اس کی توجہ کرنے کی کوشش کروں گا۔
(عمرو بن العاص القائد والسیاسی: دیکھیے عبدالرحیم محمد: صفحہ 79)