جنگ صفین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک کیا حیثیت رکھتی تھی؟
جعفر صادقجنگ صفین نبی پاکﷺ کے نزدیک کیا حیثیت رکھتی تھی؟
آئیے اب خود سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کی طرف رجوع کرکے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات میں یہ بات تلاش کریں
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی متعدد احادیث میں اس جنگ کی طرف اشارے دیئے ہیں،اور ان سے صاف یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس جنگ کو اجتہاد پر مبنی قرار دے رہےہیں۔
صحیح مسلم اور مسند احمد میں حضرت سیدنا ابو سعید خدریؓ سے متعدد صحیح سندوں کے ساتھ آنحضرتﷺ کا یہ ارشاد منقول ہے کہ:
مسلمانوں کے باہمی اختلاف کے وقت ایک گروہ (امت سے) نکل جائے گا اور اس کو وہ گروہ قتل کرے گا جو مسلمانوں کے دونوں گروہوں میں حق سے زیادہ قریب ہوگا۔
(حوالہ ایضاً جلد 7 صفحہ 278)
مکمل حدیث صحیح مسلم 2458
کتاب: زکوٰۃ کے احکام و مسائل
باب: خوارج اور ان کی صفات
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ وَهُوَ ابْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرُقُ مَارِقَةٌ عِنْدَ فُرْقَةٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ يَقْتُلُهَا أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ
ترجمہ: قاسم بن فضل حدانی نے حدیث بیان کی، کہا؛ ہم سے ابو نضرہ نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی، انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مسلمانوں میں افتراق کے وقت تیزی سے (اپنے ہدف کے اندر سے ) نکل جانے والا ایک گروہ نکلے گا دو جماعتوں میں سے جو جماعت حق سے زیادہ تعلق رکھنے والی ہوگی، وہی اسے قتل کرے گی۔
اس حدیث میں امت سے نکل جانے والے فرقے سے مراد بلاتفاق خوارج ہیں، انہیں حضرت سیدنا علیؓ کی جماعت نے قتل کیا جن کو سرکار دو عالمﷺ دو گروہوں میں حق سے زیادہ قریب فرما رہے ہیں۔
آنحضرتﷺ کے ان الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کا اختلاف کھلا حق و باطل کا اختلاف نہیں ہوگا، بلکہ اجتہاد اور رائے کی دونوں جانب گنجائش ہو سکتی ہے، البتہ حضرت علیؓ کی جماعت حق سے نسبتاً زیادہ قریب ہوگی،اگر آپﷺ کی مراد یہ نہ ہوتی تو حضرت علیؓ کی جماعت کو "حق سے زیادہ قریب" کے بجائے محض "برحق جماعت" کہا جاتا۔
اس طرح صحیح بخاری، صحیح مسلم اور متعدد کتابوں میں نہایت مضبوط سند کے ساتھ یہ حدیث آئی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ (مسلمانوں کی)دو عظیم جماعتیں آپس میں قتال نہ کریں،ان کے درمیان زبردست خونریزی ہوگی حالانکہ دونوں کی دعوت ایک ہو گی (حوالہ صحیح بخاری جلد 3 صفحہ 807 باب 1033)
مکمل حدیث: صحیح بخاری 7121
کتاب: کتاب فتنوں کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ""لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَقْتَتِلَ فِئَتَانِ عَظِيمَتَانِ يَكُونُ بَيْنَهُمَا مَقْتَلَةٌ عَظِيمَةٌ، دَعْوَتُهُمَا وَاحِدَةٌ، وَحَتَّى يُبْعَثَ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثِينَ، كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ، وَحَتَّى يُقْبَضَ الْعِلْمُ، وَتَكْثُرَ الزَّلَازِلُ، وَيَتَقَارَبَ الزَّمَانُ، وَتَظْهَرَ الْفِتَنُ، وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ: وَهُوَ الْقَتْلُ، وَحَتَّى يَكْثُرَ فِيكُمُ الْمَالُ فَيَفِيضَ حَتَّى يُهِمَّ رَبَّ الْمَالِ مَنْ يَقْبَلُ صَدَقَتَهُ وَحَتَّى يَعْرِضَهُ عَلَيْهِ، فَيَقُولَ الَّذِي يَعْرِضُهُ عَلَيْهِ: لَا أَرَبَ لِي بِهِ، وَحَتَّى يَتَطَاوَلَ النَّاسُ فِي الْبُنْيَانِ، وَحَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَقُولُ: يَا لَيْتَنِي مَكَانَهُ، وَحَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا، فَإِذَا طَلَعَتْ وَرَآهَا النَّاسُ، يَعْنِي آمَنُوا أَجْمَعُونَ، فَذَلِكَ حِينَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَقَدْ نَشَرَ الرَّجُلَانِ ثَوْبَهُمَا بَيْنَهُمَا، فَلَا يَتَبَايَعَانِهِ، وَلَا يَطْوِيَانِهِ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَقَدِ انْصَرَفَ الرَّجُلُ بِلَبَنِ لِقْحَتِهِ فَلَا يَطْعَمُهُ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَهُوَ يُلِيطُ حَوْضَهُ فَلَا يَسْقِي فِيهِ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَقَدْ رَفَعَ أُكْلَتَهُ إِلَى فِيهِ فَلَا يَطْعَمُهَا
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دو عظیم جماعتیں جنگ نہ کریں گی۔ ان دونوں جماعتوں کے درمیان بڑی خونریزی ہو گی۔ حالانکہ دونوں کا دعویٰ ایک ہی ہو گا اور یہاں تک کہ بہت سے جھوٹے دجال بھیجے جائیں گے۔ تقریباً تین دجال۔ ان میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے اور یہاں تک کہ علم اٹھا لیا جائے گا اور زلزلوں کی کثرت ہو گی اور زمانہ قریب ہو جائے گا اور فتنے ظاہر ہو جائیں گے اور ہرج بڑھ جائے گا اور ہرج سے مراد قتل ہے اور یہاں تک کہ تمہارے پاس مال کی کثرت ہو جائے گی بلکہ بہہ پڑے گا اور یہاں تک کہ صاحب مال کو اس کا فکر دامن گیر ہو گا کہ اس کا صدقہ قبول کون کرے اور یہاں تک کہ وہ پیش کرے گا لیکن جس کے سامنے پیش کرے گا وہ کہے گا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے اور یہاں تک کہ لوگ بڑی بڑی عمارتوں پر آپس میں فخر کریں گے۔ ایک سے ایک بڑھ چڑھ کر عمارات بنائیں گے اور یہاں تک کہ ایک شخص دوسرے کی قبر سے گزرے گا اور کہے گا کہ کاش میں بھی اسی جگہ ہوتا اور یہاں تک کہ سورج مغرب سے نکلے گا۔ پس جب وہ اس طرح طلوع ہو گا اور لوگ دیکھ لیں گے تو سب ایمان لے آئیں گے لیکن یہ وہ وقت ہو گا جب کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان لانا فائدہ نہ پہنچائے گا جو پہلے سے ایمان نہ لایا ہو یا اس نے اپنے ایمان کے ساتھ اچھے کام نہ کئے ہوں اور قیامت اچانک اس طرح قائم ہو جائے گی کہ دو آدمیوں نے اپنے درمیان کپڑا پھیلا رکھا ہو گا اور اسے ابھی بیچ نہ پائے ہوں گے نہ لپیٹ پائے ہوں گے اور قیامت اس طرح برپا ہو جائے گی کہ ایک شخص اپنی اونٹنی کا دودھ نکال کر واپس ہوا ہو گا کہ اسے کھا بھی نہ پایا ہو گا اور قیامت اس طرح قائم ہو جائے گی کہ وہ اپنے حوض کو درست کر رہا ہو گا اور اس میں سے پانی بھی نہ پیا ہو گا اور قیامت اس طرح قائم ہو جائے گی کہ اس نے اپنا لقمہ منہ کی طرف اٹھایا ہو گا اور ابھی اسے کھایا بھی نہ ہو گا۔
علماء نے فرمایا ہے کہ اس حدیث میں دو عظیم جماعتوں سے مراد حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کی جماعتیں ہیں۔
حوالہ امام نوویؒ: شرح مسلم جلد 2 صفحہ 390 اصح المطابع کراچی
اور آنحضرتﷺ نے ان دونوں کی دعوت کو ایک قرار دیا ہے
جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کسی کے بھی پیش نظر طلب اقتدار نہیں تھا بلکہ دونوں اسلام ہی کی دعوت کو لے کر کھڑی ہوئی تھیں اور اپنی اپنی رائے کے مطابق دین ہی کی بھلائی چاہتی تھیں۔