فصل:....قریش کی امامت وخلافت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....قریش کی امامت وخلافت

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 5

فصل:....قریش کی امامت وخلافت

[اعتراض]:[شیعہ مصنف اہل سنت کا قول نقل کرتے ہوئے کہتاہے]: ’’ جو بھی قریش کی بیعت کرے ‘ اس کی امامت و خلافت منعقد ہوجاتی ہے ‘اور تمام لوگوں پر اس کی اطاعت کرنا واجب ہے۔ حتی کہ اگرچہ وہ مستور الحال ہو۔ بھلے وہ انتہائی درجہ کے فسق و کفر اور نفاق میں مبتلا ہو‘ ‘۔ [انتہیٰ کلام الرافضی]۔[جواب]: اس اعتراض کا جواب کئی نکات پر مشتمل ہے : 

پہلی بات:....یہ اہل سنت والجماعت کا قول [عقیدہ] نہیں ہے۔ اہل سنت کا مذہب یہ نہیں ہے کہ صرف کسی ایک قریشی کے بیعت کرنے سے بیعت منعقد ہوجاتی ہے اور تمام لوگوں پر اس کی اطاعت واجب ہوجاتی ہے۔ یہ بات اگرچہ بعض متکلمین [اہل کلام]نے کہی ہے ؛لیکن اس کا ائمہ اہل سنت والجماعت کے عقیدہ سے کوئی تعلق نہیں ‘بلکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے:

’’ جو کوئی بھی مسلمانوں کے مشورہ کے بغیر کسی کی بیعت کرے ۔تو نہ ہی اس بیعت کرنے والی کی بیعت کی جائے اور نہ ہی جس کی بیعت کی گئی ہے ؛ اس کی بیعت کی جائے ‘ بلکہ ان دونوں کو قتل کردیا جائے ۔‘‘ [رواہ البخاری ]

دوسری بات : اہل سنت والجماعت حاکم کے ہر حکم کو واجب الاطاعت نہیں سمجھتے؛ بلکہ حاکم کی اطاعت کو صرف ان امور میں ہی جائز سمجھتے ہیں جن میں اطاعت کرنے کی اجازت شریعت نے دی ہے۔ پس اہل سنت اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت کو جائز نہیں سمجھتے؛ بھلے وہ عادل [زاہد و عابد] حکمران ہی کیوں نہ ہو۔ جب وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا حکم دے گا تو اس کی اطاعت کی جائے گی۔جیسے کہ : نماز قائم کرنے کا حکم دے؛ زکوٰۃ اداکرنے ؛ سچائی ؛ عدل ؛ حج ؛ جہاد فی سبیل اللہ کا حکم دے۔ اس صورت میں لوگ حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہیں ۔اگر کوئی کافر اور فاسق کسی ایسے کام کا حکم دے جو حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہو؛ توپھر اس صورت میں اس کے فسق کی وجہ سے اس کی اطاعت کا وجوب ساقط نہیں ہوگا۔ جیسے اگروہ حق بات کہے توکسی کے لیے اس کی بات کو جھٹلانا جائز نہیں ۔اور نہ ہی اتباع حق کا وجوب اس وجہ سے ساقط ہوگا کہ اس کلمہ کا کہنے والا فاسق ہے۔پس اس سے ظاہر ہوگیا کہ اہل سنت والجماعت مطلق طور پر کسی حاکم کی اطاعت نہیں کرتے ؛ بلکہ صرف ان امور میں اطاعت کرتے ہیں جو اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو متضمن ہوں ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿یٰٓأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ﴾ (النساء:۵۹)

’’اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ کی اور فرمانبرداری کرورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور تم میں سے اختیار والوں کی۔‘‘

یہاں پر مطلق اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا حکم ہے۔ اورپھر اطاعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے‘اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا حکم دیتے ہیں ‘ جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ ﴾ (النساء:۸۰)

’’ جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی یقیناً اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی ۔‘‘

پھر حکمرانوں اور اولیاء الامور کی اطاعت کو بھی اسی ضمن میں شامل کیا گیا ہے ۔ جیسا کہ فرمایا: ﴿ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ﴾ اس کے علاوہ کسی تیسری طاعت کا کوئی ذکر نہیں ۔ اس لیے کہ حاکم کی اطاعت مطلق طور پر نہیں ہوگی۔بلکہ صرف نیکی اوربھلائی کے کاموں میں اس کی اطاعت ہوگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ بیشک اطاعت نیکی اور بھلائی کے کاموں میں ہوگی۔‘‘ [البخاری۵؍۱۶۱؛ ِکتاب المغازِی، باب بعثِ النبِیِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خالِد بن الولِیدِ ِل بنِی خزیم: ۹؍۶۳ ، کتاب الحاکمِ، باب وجوبِ طاعۃِ الأمراِ فِی غیرِ معصِیۃ: ۹؍۸۸ کتاب الآحادِ، باب ما جاء فِی ِإجازۃِ خبرِ الواحِدِ ۔ مسلِم: ۳,۱۴۶۹، کتاب الِإمارۃِ، باب وجوبِ طاعِۃ الأمرائِ فِی غیرِ معصِیۃ۔ سننِ أبِی داود:۳ ، کتاب الجِہادِ، باب: فِی الطاعۃِ۔ سننِ النسائِیِ:۷؍۱۴۲، کتاب البیعِ،جزاء من أمر بِمعصِیۃ فأطاع۔]

نیز ارشاد فرمایا: ’’ اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں ہوگی۔‘‘[المسند: ۴؍۴۲۶ ورِجالہ ثِقات رِجال الشیخینِ غیر أبِی مِرای ہذا، ذکرہ ابن حبان فِی الثِقاتِ، ووردہ الہیثمِی فِی جامِعِ الزوائِدِ:۵؍۲۲۶ وقال: رواہ البزار والطبرانِی فِی الکبِیرِ والأوسطِ ورِجال البزارِ رِجال الصحِیحِ۔ ]

اور ارشادفرمایا: ’’ خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی کوئی اطاعت نہیں ہوگی۔‘‘[المسند ۵؍۶۶۔ أوردہ التِبرِیزِی فِی مِشکاۃِ المصابِیحِ:۲؍۳۲۳ عنِ النواسِ بنِ سمعان، وقال: رواہ فِی شرحِ السنۃِ، وذکر الألبانِی فِی تعلِیقِہِ أنہ حدِیث صحِیح، وجاء فِی المسندِ ط، الحلبِیِ: ۵؍۶۶، بِألفاظ مقارِب، وجاء بِمعناہ فِی المسندِ، ط۔ الحلبِی: ۴؍۴۳۲،۵؍۶۶، ۶۷۔ المستدرکِ: ۳؍۴۴۳وقال الحاِکم: ہذا حدِیث صحِیح الاِسنادِ ولم یخرِجاہ، وانظر سِلسِلۃ الأحادِیثِ الصحِیحِۃ: ۱؍۱۰۹، ۱۱۱۔ الحدِیث ، رقم:۱۷۹۔ ]

مزید فرمایا: ’’ جو کوئی تمہیں اللہ کی نافرمانی کا حکم دے ‘ تو اس کی بات نہ مانو۔‘‘ [المسند ۳؍۶۷۔ سننِ ابنِ ماجہ:۲؍۹۵۵، کتاب الجِہادِ، باب لا طاعۃ فِی معصِیۃِ اللہِ، وفِی التعلِیقِ فِی الزوائِدِ: ِإسنادہ صحِیح، وجاء الحدِیث فِی صحِیحِ الجامِعِ الصغِیرِ:۵؍۲۵۹۔ وقال السیوطِی: أحمد وابن ماجہ والحاِکم عن أبِی سعِید، وحسنہ الألبانِی ولفظہ: من أمرکم مِن الولاِۃ بِمعصِیۃ فلا تطِیعوہ۔]

صفحہ 1 از 5