فصل:....قریش کی امامت وخلافت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....قریش کی امامت وخلافت

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 5

ان رافضیوں کا قول جسے یہ شیعان علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ : ’’غیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ان کے ہر حکم میں مطلق طور پر واجب ہے ؛ یہ شیعان عثمان رضی اللہ عنہ اہل شام کی طرف منسوب قول سے انتہائی برا اور فاسد ہے جو کہتے ہیں : ولی الامر کی اطاعت مطلقاً واجب ہے ۔ اس لیے کہ یہ لوگ تو قوت وشوکت والے کی اطاعت کرتے ہیں جو زندہ اور موجود ہوں ۔ جب کہ رافضی معدوم ومفقود امام معصوم کی اطاعت کو واجب ٹھہراتے ہیں ۔ نیز یہ لوگ اپنے ائمہ کے معصوم ہونے کا دعوی بھی نہیں کرتے جیسے شیعہ اپنے ائمہ کی عصمت کا دعوی کرتے ہیں ۔بلکہ یہ لوگ اپنے ائمہ کو خلفاء راشدین اور عادل حکمران قرار دیتے ہیں ؛ جن کی ایسے امور میں اطاعت کی جاسکتی ہے جن کی حقیقت منکشف نہ ہو۔ اور کہتے ہیں :’’ اللہ تعالیٰ ان کی نیکیاں قبول کرنے والا اور گناہوں کو معاف کرنے والا ہے۔یہ بات اس دعوی کی نسب آسان ہے جو لوگ کہتے ہیں کہ :

’’امام معصوم ہوتا ہے اس سے کوئی غلطی نہیں ہوسکتی۔‘‘

پس اس سے ظاہر ہوگیا کہ شیعان عثمان رضی اللہ عنہ میں سے جن لوگوں کو ناصبیت کی طرف منسوب کیا جاتا ہے ؛ اگرچہ انسے بھی حق و عدل کا دامن کچھ نہ کچھ چھوٹ جاتا ہے ‘ مگر ان کی نسبت رافضہ کا معاملہ زیادہ خطرناک ہے ‘ وہ حق و عدل سے بہت زیادہ اور سخت خروج کرنے والے ہوتے ہیں ۔ اہل سنت والجماعت کا عقید ہ کتاب وسنت کے بالکل مطابق ہے ۔ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ حاکم یا ولی امر کی اطاعت صرف ان امور میں ہوگی جن میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہو۔ اگر وہ اللہ کی نافرمانی کا کوئی حکم دے تو اس کی کوئی اطاعت نہیں ہوگی۔

تیسری بات:....لوگوں نے فاسق اورجاہل حکمران [ولی امرکی اطاعت ] کے متعلق[بذیل اقوال میں ] اختلاف کیا ہے :

پہلاقول:....اگروہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا حکم دے ‘تو اس کی اطاعت کی جائے گی؛ اور اس کے حکم کو نافذکیا جائے گا اور اس کی قسم کو پورا کیا جائے گا؛جب کہ وہ عدل و انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہو۔

دوسرا قول:....کسی بات میں بھی اس کا حکم نہیں مانا جائے گا‘ اور نہ ہی اس کا حکم چلے گا اورنہ ہی اس کی قسم کو پورا کیا جائے گا۔

تیسرا قول :....امام اعظم یعنی حکمران اور اس کے فروع یعنی قاضی وغیرہ کے درمیان فرق کیا جائے گا۔ [یہ تین اقوال ہیں ]

اہل سنت والجماعت کے ہاں سب سے ضعیف ترین قول اس کی تمام باتوں کا رد کرنا ‘ حکم نہ ماننا اور قسم پوری نہ کرنا ہے۔ جب کہ صحیح ترین قول پہلا قول ہے ۔ یعنی جب اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا حکم دے تو پھر اس کی بات مانی جائے گی۔ اس کا حکم تسلیم کیا جائے گا ‘ اور اس کی قسم کوپورا کیا جائے گا۔ اس شرط کے ساتھ کہ جب اس کا حکم عدل پر مبنی ہو۔ یہاں تک کہ جاہل قاضی اورظالم انسان بھی اس کے حکم کو عدل و انصاف کے ساتھ نافذ کرے تو اس کی بات مانی جائے گی۔ یہ اکثر فقہاء کا قول ہے۔

تیسرا قول یہ تھا کہ: امام اعظم اور دوسروں کے درمیان فرق کیا جائے گا۔ اس لیے کہ حاکم کوفسق و فجور کی بنا پر اپنے عہدہ سے قتال اور فتنہ کے بغیر معزول کرنا ممکن نہیں ۔بخلاف قاضی یا گورنر وغیرہ کے ۔ انہیں معزول کیا جانا ممکن ہے۔ یہ فرق بھی ضعیف ہے ۔اس لیے کہ جب گورنر وغیرہ کو اصحاب شوکت و قوت لوگوں نے مقرر کیا ہو تو اسے بھی فتنہ کے بغیر معزول کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ جب اسے معزول کرنے کی کوششوں میں اس کے اس عہدہ پر باقی رہنے سے زیادہ فساد کا اندیشہ ہو تو پھر اس صورت میں چھوٹے فساد کو ختم کرنے کے لیے بڑے فساد کو دعوت دینا کسی طرح بھی جائز نہیں ۔ یہی حال حکمران کا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اہل سنت والجماعت کے مذہب میں یہ مشہور ہے کہ : یہ لوگ حکمرانوں کے خلاف مسلح خروج اور ان سے جنگ و قتال کو جائز نہیں سمجھتے۔اگرچہ یہ حاکم ظالم ہی کیوں نہ ہو۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی صحیح احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں ۔اس لیے کہ ان کے ساتھ جنگ و قتال کرنے میں جو فتنہ و فساد ہے ‘ وہ ان کے ظلم پر خاموش رہنے کےفتنہ وفساد سے بہت بڑھ کر ہے ۔ تو پھر اس صورت میں بڑے فتنہ و فساد سے بچنے کے لیے اس سے کم درجہ کے فتنہ و فساد کو قبول کیا جاسکتاہے۔ تاریخ میں یہ بات معلوم نہیں ہوسکی کہ حکمران کے خلاف بغاوت کے نتیجہ میں کوئی فائدہ حاصل ہواہو؛ بلکہ اس بغاوت کی وجہ سے پہلے فتنہ و فساد سے بڑا فساد پیدا ہوا جسے یہ لوگ ختم کرنا چاہتے تھے ۔

اللہ تعالیٰ نے ہر باغی اور ظالم کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا خواہ کیسے بھی ہو۔ اور نہ ہی باغیوں سے جنگ شروع کرنے کا حکم دیا ہے ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ وَاِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَا فَاِنْ بَغَتْ اِحْدَاہُمَا عَلَی الْاُخْریٰ فَقَاتِلُوْا الَّتِیْ تَبْغِی حَتّٰی تَفِیئَ اِِلٰی اَمْرِ اللّٰہِ فَاِِنْ فَائَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَا بِالْعَدْلِ ﴾ (الحجرات:۹)

’’اگر مومنوں کی دو جماعتیں باہم برسر پیکار ہوں تو ان میں صلح کرا دیجئے اور اگر ایک گروہ دوسرے پر ظلم کر ے؛ تو اس سے لڑو جو دوسرے پر ظلم کررہا ہو؛ یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم پر لوٹ آئے۔اگر وہ اللہ کے حکم پر لوٹ آئے تو ان کے مابین عدل و انصاف کے ساتھ صلح کرادو ۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے ایک باغی جماعت سے بھی جنگ شروع کرنے کا حکم نہیں دیا تو پھر حکمران سے جنگ چھیڑنے کا حکم کیسے دیا جا سکتا ہے ؟ صحیح مسلم میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ عنقریب ایسے امرا ہوں گے جن کے خلاف شریعت اعمال کو تم پہچان لوگے اور بعض اعمال نہ پہچان سکو گے۔پس جس نے اس کے اعمال بد کو پہچان لیا وہ بری ہوگیا۔ جو نہ پہچان سکا وہ محفوظ رہا۔ لیکن جو ان امور پر خوش ہوا اور تابعداری کی[وہ ہلاک ہوا]۔ صحابہ نے عرض کیا:کیا ہم ان سے جنگ نہ کریں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہیں جب تک وہ نماز ادا کرتے رہیں ۔‘‘ [صحیح مسلم: ح۳۰۳]

صفحہ 2 از 5