فصل:....قریش کی امامت وخلافت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....قریش کی امامت وخلافت

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 5

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان حکمرانوں کے ساتھ جنگ کرنے سے منع فرمایا ہے ؛ حالانکہ آپ ہی خبر بھی دے رہے ہیں کہ تم لوگ ان میں برے امور دیکھوگے۔پس یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ حکمرانوں کے خلاف تلوار لیکر نکلنا جائز نہیں ۔جیسا کہ بعض فرقے حکمرانوں سے برسر پیکار رہتے ہیں جیسے خوارج ؛ معتزلہ وغیرہ ۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ عنقریب میرے بعد حقوق تلف کئے جائیں گے اور ایسے امور پیش آئیں گے جنہیں تم ناپسند کرتے ہو۔ صحابہ نے عرض کیا:’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے انہیں حکم کیا دیتے ہیں ؟ جو یہ زمانہ پائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ تم پر کسی کا جو حق ہو وہ ادا کر دو اور اپنے حقوق تم اللہ سے مانگتے رہنا۔‘‘

[صحیح مسلم:ح۲۷۸ ]

اس حدیث مبارک میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ حکمران ظلم کریں گے اور برائیوں کے مرتکب ہوںگے ۔ مگر اس کے باوجود آپ ہمیں حکم دے رہے ہیں کہ ہم حکمرانوں کا حق ادا کریں ‘اور اللہ سے اپنے حق کے لیے دعا کرتے رہیں ۔ہمیں ہر گز یہ اجازت نہیں دی کہ ہم جنگ کرکے اپنا حق حاصل کریں ۔ اورنہ ہی اس بات کی رخصت دی ہے کہ ہم ان کا حق روک کر رکھیں ۔[کیونکہ اس سے پھر فتنہ پیدا ہونے کااندیشہ ہوتا ہے ]

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’جو آدمی اپنے امیر میں کوئی ایسی بات دیکھے جوا سے ناپسند ہو تو چاہئے کہ صبر کرے کیونکہ جو آدمی جماعت سے ایک بالشت بھر بھی جدا ہوا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔‘‘ [صحیح مسلم:ح ۲۹۳]

دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا:

’’ جسے اپنے امیر کی کوئی بات ناپسند ہو تو چاہئے کہ اس پر صبر کرے کیونکہ لوگوں میں سے جو بھی سلطان کی اطاعت سے ایک بالشت بھی نکلا اور اسی پر اس کی موت واقع ہوگئی تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔‘‘[صحیح مسلم:ح ۲۹۳] 

اس سے پہلے ایک حدیث میں یہ بیان بھی گزر چکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’ وہ [ایسے حکمران ہوں گے ] جو میری سنتوں پر عمل نہیں کریں گے اور میری راہ پر نہیں چلیں گے ۔ تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر ہمیں کیا حکم ہے ؟ اگر ہم انہیں ایسے پائیں تو کیا کریں ؟ آپ نے فرمایا: ’’ حکمران کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو ‘ اگر وہ تمہاری پیٹھ ٹھونکے اور تمہارا مال چھین لے تب بھی اس کی بات سن اور اطاعت کر۔‘‘ [صحیح مسلم:ح۳؍۱۳۷۶]

حکمران کے ظلم کے باوجود اس کی اطاعت گزاری کایہ حکم ہے ۔اس سے پہلے حدیث میں گزر چکا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جس انسان پر کسی کو والی[حاکم] بنادیا جائے ؛ پس وہ انسان دیکھے کہ یہ والی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کررہا ہے۔تو اسے چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کو نا پسند کرے ‘ اور[جائز امور میں ] اس کی نافرمانی سے ہاتھ نہ کھینچے ۔‘‘ [تخریج گزر چکی ہے ]

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:

’’ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تنگی اور آسانی میں پسند و ناپسند میں اور اس بات پر کہ ہم پر کسی کو ترجیح دی جائے؛ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سننے اور اطاعت کرنے کی بیعت کی اور اس بات پر بیعت کی کہ ہم حکام سے حکومت کے معاملات میں جھگڑا نہ کریں گے اور اس بات پر بیعت کی کہ ہم جہاں بھی ہوں گے حق بات ہی کہیں گے اللہ کے معاملہ میں ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہ رکھیں گے۔‘‘[صحیح مسلم:۳؍۱۳۷۰؛ البخاری ۹؍۳۷]

اس حدیث مبارک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں وصیت فرمارہے ہیں کہ ہم حکمرانوں کے ظلم وستم کے باوجود ان کی اطاعت کریں ؛ اور ان سے حکومت کے بارے میں جھگڑا نہ کریں ۔اس میں حکمرانوں کے خلاف بغاوت اور خروج کیممانعت ہے۔ اس لیے کہ حکمرانوں کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔اس سے مراد وہ حاکم ہے جن کا حکم چلتا ہو۔ اس سے مراد وہ نہیں ہے جو کہ حاکم بننے کا مستحق ہو‘ مگر [حاکم نہ بنا ہو] اور اسے کوئی شوکت وغلبہ حاصل نہ ہو۔ اور اس سے عادل متولی بھی مراد نہیں اس لیے کہ کبھی کبھار وہ بھی ظلم کرتے ہیں ؛پس حدیث دلالت کرتی ہے کہ اس سے مراد ظالم حکام سے جھگڑے کی ممانعت ہے۔یہ ایک وسیع باب ہے ۔

چوتھی بات:....اگر ہم یہ بات مان لیتے ہیں کہ ہر حاکم کے لیے عدل کا ہونا شرط ہے ۔ تو پھر اس صورت میں صرف ان ہی حکمرانوں کی اطاعت کی جائے گی جو عادل ہوں ۔ ظالم کی کوئی اطاعت نہیں ہوگی۔اس میں کوئی شک نہیں کے لیے والیان کے لیے عادل ہونے کی شرط رکھنا گواہوں کے عادل ہونے کی شرط سے بڑھ کر نہیں ہے ۔ اس لیے کہ گواہ کبھی ایسی چیز کی بھی گواہی دیتا ہے جس کے متعلق وہ کچھ حقائق نہیں جانتا۔ اگر وہ عادل نہ ہو تو پھر اس کی بتائی ہوئی بات کی تصدیق نہ کی جائے۔ جب کہ والی حکومت کسی چیزایسی چیز کا حکم دیتا ہے جس کا علم اسے کسی دوسرے کے ذریعہ سے ہوسکتا ہے۔اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا کام ہے یا نافرمانی کا۔اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿یاََیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِِنْ جَائَکُمْ فَاسِقٌ بِنَبَاٍِ فَتَبَیَّنُوْا﴾ (الحجرات: ۶)

’’اے مسلمانو!اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو۔‘‘

اگر کوئی فاسق انسان کسی بات کی خبر دے تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں تحقیق کرنے کا حکم دیاہے۔اس میں شک نہیں ہے کہ ظلم اطاعت کا کام کرنے اور نیکی کا حکم دینے میں مانع نہیں ہوسکتا۔ امامیہ کا اس بات پر ہمارے ساتھ اتفاق ہے۔ امامیہ یہ نہیں کہتے کہ : کبیرہ گناہ کرنے والاہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ ان کے نزدیک بھی فسق و فجور کی وجہ سے ساری نیکیاں ضائع نہیں ہوتیں ۔ بخلاف ان لوگوں کے جو اس مسئلہ میں اختلاف کرتے ہیں ؛ جیسے معتزلہ ‘ زیدیہ اور خوارج۔ جوکہتے ہیں کہ : فسق کی وجہ سے ساری نیکیاں تباہ ہوجاتی ہیں ۔اگر ساری نیکیاں ضائع ہوگئیں تو ایمان ضائع ہوگیا۔جب ایمان ضائع ہوگیا تو انسان کافر اور مرتد ہوگیا ‘ اس کا قتل کرنا واجب ہوجاتا ہے ۔

صفحہ 3 از 5