فصل:....قریش کی امامت وخلافت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....قریش کی امامت وخلافت

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 5

جب کہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصوص اور اجماع امت اس پر دلالت کرتے ہیں کہ چوری کرنے والا ‘ زنا کرنے والا ‘ شراب پینے والا ‘ بہتان تراشی کرنے والا ؛ انہیں ان جرائم کی پاداش میں قتل نہیں کیا جائے گا؛ بلکہ ان پر حد لگائی جائے گی ۔ جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ لوگ مرتد نہیں ہوئے ۔ ایسے ہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿ وَاِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَا ﴾ (الحجرات: ۹)

’’اگر مومنوں کی دو جماعتیں باہم برسر پیکار ہوں تو ان میں صلح کرا دیجئے ۔‘‘

یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ ان گروہوں کے آپس میں برسر پیکار ہونے [اور ایک دوسرے کو قتل کرنے] کے باوجود ان میں ایمان موجود ہے۔ صحیح احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا:

((مَنْ كَانَتْ لَهُ مَظْلَمَةٌ لِأَخِيهِ مِنْ عِرْضِهِ أَوْ شَيْءٍ، فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنْهُ اليَوْمَ، قَبْلَ أَنْ لاَ يَكُونَ دِينَارٌ وَلاَدِرْهَمٌ، إِنْ كَانَ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْهُ بِقَدْرِ مَظْلَمَتِهِ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهِ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ أَلْقٰي فِي النَّارِ)) [البخارِیِ:۳؍۱۲۹کتاب المظالِمِ والغصبِ، باب من کانت لہ مظلِمۃ عِند الرجلِ فحللہا لہ: ۹؍۱۱۱، کتاب الرِقاقِ، باب القِصاصِ یوم القِیامۃِ، سننِ التِرمِذِیِ:۳۷؍۴، کتاب صِفِۃ القِیامۃِ، باب ما جاء فِی شأنِ الحِسابِ والقِصاصِ۔ المسندِ ط۔ الحلبِیِ: ۲؍۴۳۵، ۵۰۶۔]

’’جس نے اپنے بھائی کو تکلیف پہنچائی ہو، یا اس کی عزت پر ہاتھ ڈالا ہو ،پس اسے وہ اس دنیا میں ہی ختم کردے ، اس سے قبل کہ وہ دن آئے جب اس کے پاس نہ دینار ہو اور نہ ہی درہم ،اور اگر اس کا کوئی نیک عمل ہوگا تو اس سے اس ظلم کی قدر اعمال لیکر مظلوم کو دیے جائیں گے ، اور اگر اس کی کوئی نیکی نہ ہوگی تو مظلوم کی برائیاں لیکر اس پر ڈالی جائیں گی۔اورپھر اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔‘‘

صحیحین میں ایک حدیث ہے :ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے پوچھا :

((أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ؟ قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ، فَقَالَ: إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ، وَصِيَامٍ، وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا، وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا، فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ ۔)) [مسلِم:۴؍۱۹۹۷کتاب البِرِ والصِلۃِ والآدابِ باب تحرِیمِ الظلم، سننِ التِرمِذِیِ:۴؍۳۶ کتاب صِفۃِ القِیامۃِ، باب ما جا فِی شأنِ الحِسابِ والقِصاص، المسند :۵؍۱۷۹۔ ابن حبان: ۱۰؍ ۲۵۹۔]

’’کیاتم جانتے ہو مفلس کون ہے ؟ کہنے لگے : ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ دینار ہے اور نہ ہی درہم ہے،، ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :,, میری امت میں مفلس وہ ہے جو قیامت والے دن نماز، روزے، اور زکوٰۃ لیکر آئےگا ،اور اس کی حالت یہ ہوگی کہ کسی کو اس نے گالی دی ہوگی ،اور کسی پر تہمت لگائی ہوگی، اور کسی کا مال ناحق کھایا ہوگا ،اور کسی کا خون بہایا ہوگا،اور کسی کو مارا ہوگا۔پس اس کو بھی اس کی نیکیاں دی جائیں گی اور اس کو بھی اس کی نیکیاں دی جائیں گی۔ اور اگر اس کی نیکیاں اس پر حساب پورا ہونے سے پہلے ختم ہوگئیں تو ان لوگوں کے گناہ لے کر اس شخص پر ڈالے جائیں گے اور اسے جہنم کی آگ میں ڈالا جائے گا۔‘‘

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّاٰتِ ذٰلِکَ ذِکْرٰی لِلذّٰکِرِیْنَ﴾ [ہود۱۱۳]

’’ یقیناً نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں یہ نصیحت ہے نصیحت پکڑنے والوں کے لئے۔‘‘

یہ آیت مبارکہ دلالت کرتی ہے کہ انسان سے جب کوئی برائی ہو ‘ اور اس کے بعد نیکیاں کی جائیں تو یہ نیکیاں ان برائیوں کے اثرات کو ختم کردیتی ہیں ۔ اور یہ بھی ہے کہ اگرایسی برائیاں ہوں جو نیک اعمال سے ختم نہ ہوں تو وہ توبہ سےمعاف ہوجاتی ہیں ۔اس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ۔

نائب امام کی عصمت کا مسئلہ :

یہاں پر بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فسق کو خبر کے قبول کرنے میں مانع قرار دیا ہے۔ جب کہ نیکی کے کمانے میں فسق مانع نہیں ہوسکتا۔ کتاب و سنت اور اجماع سے ثابت ہے کہ گواہی صرف عادل لوگوں کی ہی قبول کی جائے گی اور اس میں صرف ظاہر پر ہی اکتفاء کیا جاتا ہے۔ ایسے ہی اگر ولایت میں بھی عادل ہونے کی شرط لگائی گئی تو اس کے لیے ظاہری حالت ہی کافی ہوگی ۔

اس سے معلوم ہوگیا کہ ولایت [حاکم ہونے] کے لیے اتنے علم کی شرط نہیں ہے جتنے علم کا ہونا گواہوں کے لیے شرط ہے۔ اس کی وضاحت اس مسئلہ سے بھی ہوتی ہے کہ امامیہ اور دوسرے سارے لوگ امام کے نائب کے لیے غیر معصوم ہونے کو جائز سمجھتے ہیں ؛ اگرچہ امام کو اپنے نائبین کے گناہوں کا علم نہ ہو۔اس کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولید بن عقبہ بن معیط کو والی مقرر فرمایا‘ پھر اس نے واپس آکر ان لوگوں کی طرف سے جنگ شروع کرنے کی خبر دی جن کے پاس آپ کو بھیجا گیا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:

﴿یٰاََیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِِنْ جَائَ کُمْ فَاسِقٌ بِنَبَاٍِ فَتَبَیَّنُوْا اَنْ تُصِیبُوْا قَوْمًا بِجَہَالَۃٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰی مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِیْنَ﴾ (الحجرات :۶)

’’اے مسلمانو! اگر تمہیں کوئی کمزور بیان والا خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کرلیا کروایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچا دو پھر اپنے کئے پر پریشانی اٹھاؤ۔‘‘

صفحہ 4 از 5