فصل:....قریش کی امامت وخلافت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....قریش کی امامت وخلافت

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 5

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نائبین میں سے بہت سارے ایسے تھے جو آپ کے ساتھ خیانت کرتے تھے ‘ اور بہت سارے آپ سے بھاگ گئے تھے۔ آپ کے نائبین کا کردار کسی سے مخفی نہیں ۔اس سے معلوم ہوگیا کہ ایسے مفاسد کی موجودگی میں بھی ظاہر پر اعتبار کرنے میں امام معصوم کے لیے کوئی چیز مانع نہیں ہے۔ اور ائمہ کے لیے معصوم ہونے کی شرط ایسی شرط ہے جو نہ شریعت میں مامور بہ ہے ؛اور نہ ہی [احوال کے لحاظ سے ] مقدوربہ ہے ۔ اور ایسی شرط سے نہ ہی کوئی دنیاوی فائدہ حاصل ہوا اورنہ ہی کوئی اخروی فائدہ حاصل ہوا۔

جیسا کہ بہت سارے عبّاد جواپنے مشائخ کے لیے ایسے امور کا عالم ہونا شرط لگاتے ہیں جنہیں بشریت میں کوئی دوسرا انسان نہیں جان سکتا ؛ تو یہ لوگ اپنے مشائخ کے لیے بھی اس جنس کی صفات کا ہونا شرط لگاتے ہیں جو امام معصوم کے لیے امامیہ شرط لگاتے ہیں ۔ لیکن انجام کار یہ ہوتا ہے کہ ایسی شرطیں لگانے والے کسی جاہل اور ظالم شیخ کے پیروکار بن کر بیٹھ جاتے ہیں ۔ یہی حال شیعہ کا ہے آخر میں یہ لوگ بھی کسی ظالم و جاہل حاکم کوہی قبول کرلیتے ہیں ۔ ان کی مثال اس بھوکے انسان کی ہے جو شرط لگادے کہ وہ اس شہر کا کھانا اس وقت تک نہیں کھائے گا جب تک اس کے لیے جنت کے کھانوں جیسا کھانا پیش نہ کیا جائے۔ پھر اس کو کسی صحرا کی طرف نکال دیا جائے ‘ تووہاں پر اسے چوپایوں کے چارےکے علاوہ کچھ بھی نہ ملے ؛ جو جنت کے کھانوں پر بضد تھا آخر کار مویشیوں کا چارہ کھا کر گزر کررہا ہے ۔یہی حال ان لوگوں کا ہے جو زہد و عبادت و غیرہ میں شریعت کے عادلانہ نظام سے تجاوز کرجاتے ہیں ؛ ان کی خواہشات ایسے ہی آخر میں دم توڑ دیتی ہیں اور یہ لوگ حرام کے ارتکاب کا شکار ہوجاتے ہیں


صفحہ 5 از 5