فصل: ....اہل سنت پر قیاس کا طعنہ اور ا س کا رد - ردِ رافضیت…

فصل: ....اہل سنت پر قیاس کا طعنہ اور ا س کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 5

 فصل: ....اہل سنت پر قیاس کا طعنہ اور اس کا رد

[اشکال ]: شیعہ مصنف لکھتا ہے: ’’تمام اہل سنت نے رائے و قیاس کو اختیار کر کے اس چیز کو دین کا جزو قرار دیا ہے جو اس میں سے نہیں ۔ علاوہ ازیں احکام شریعت میں تحریف کا ارتکاب کیا، مذاہب اربعہ ایجاد کیے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں موجود نہ تھے، اور اقوال صحابہ کو ترک کیا۔ حالانکہ ان سب نے قیاس ترک کرنے کا حکم دیا تھا۔ اور انہوں نے کہا تھا :’’ سب سے پہلے قیاس کرنے والا ابلیس ہے ۔‘‘[انتہیٰ کلام الرافضی]۔

[جواب]:اس کاجواب کئی ایک طرح سے دیا جاسکتا ہے : 

پہلی وجہ :....شیعہ کا یہ دعوی کہ تمام اہل سنت والجماعت جو کہ سابقہ تین خلفاء کی خلافت کو درست مانتے ہیں ‘ وہ قیاس کے قائل ہیں ؛ یہ ایک باطل دعوی ہے۔ ان میں ایسے بھی لوگ ہیں جو قیاس کو نہیں مانتے ۔ جیسے معتزلہ اور بغدادیہ ؛ اورظاہریہ جیسے داؤد اور ابن حزم وغیرہ ؛ اور ایک گروہ اہل حدیث میں اورصوفیاء کا ایک گروہ قیاس کو نہیں مانتے ۔

خود زیدیہ شیعہ قیاس کے قائل ہیں ۔تو اس معاملہ میں شیعہ کے مابین بھی نزاع ایسے ہی ہوگیا جیسے اہل سنت کے مابین۔

دوسری وجہ :....قیاس کو اگرچہ ضعیف کہا گیا ہے ؛ تاہم یہ ان لوگوں کی تقلید کرنے سے کہیں بہتر ہے جو علم میں مجتہدین کے پایہ کو نہ پہنچ سکے ہوں ۔جس انسان کو بھی ادنی انصاف حاصل ہو‘اور علم سے اس کا شغف ہو ؛وہ جانتا ہے کہ آئمہ مجتہدین جیسے : امام مالک، لیث بن سعد ؛ اوزاعی اور ابو حنیفہ ؛ ثوری،ابن ابی لیلی؛ اور جیسے کہ امام شافعی، احمد؛ اسحق اور ابو عبید جیسے عظیم القدر مجتہدین رحمہم اللہ امام حسن عسکری رحمہ اللہ کے اتباع اور ان کے نظائر و امثال سے بڑے عالم اورمجتہد ہیں ۔

نیز یہ علمائے کرام ومجتہدین عظام اس امام منتظر سے ہزار درجہ بہتر ہیں جس کے بارے میں کوئی علم نہیں کہ وہ کیا کہتا ہے [اورکیا کرتا ہے ]۔ حالانکہ ان آئمہ مذکورین کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول نصوص موجود ہیں ۔ اور اس میں ادنیٰ سا بھی شک نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول نص کو قیاس پر ترجیح و برتری حاصل ہے ۔ اگر اس کے پاس نص نہ ہو‘ اور قیاس سے بھی نہ کہے ؛ تو پھر یہ انسان جاہل ہوگا۔ وہ قیاس جس سے انسان کو گمان [ظن؍علم] حاصل ہو؛ وہ اس جہالت سے بہتر ہے جس کے ساتھ نہ کوئی علم ہواور نہ ہی ظن ۔

٭ اگر کوئی یہ کہے کہ: یہ[آئمہ] وہی کچھ کہتے ہیں جو ان کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ ہوتا ہے ۔‘‘

٭ تو اس کا جواب یہ ہے کہ : یہ قول اس انسان کے قول سے کمزور ہے جو کہتا ہے : ’’ مجتہد کی ہر بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہوتی ہے۔ اہل رائے میں سے ایک گروہ کا یہی خیال ہے۔ ان لوگوں کا قول بھی رافضیوں کے قول کے قریبتر ہوتا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان لوگوں کا قول ایک صریح جھوٹ ہے ۔‘‘

مزیدبرآں یہ ان لوگوں کا قول ہے جو اہل مدینہ کے عمل کو[بطور حجت]لیتے ہیں ؛ کیونکہ انہوں نے یہ اعمال صحابہ کرام سے حاصل کیے ہیں ‘اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یہ اعمال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کیے ہیں ۔ یہ ان لوگوں کا قول ہے جو صحابہ کرام میں قیاس کو نہیں مانتے ۔ اس لیے کہ صحابی صرف وہی بات کہہ سکتا ہے جو اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے پہنچی ہو۔ ایسے ہی وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ : مجتہدکا قول اور عارف کاالہام اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہوتے ہیں ‘ ان کی اتباع کرنا واجب ہوتا ہے ۔

اگر اس پر اعتراض کیا جائے کہ : ’’ ان کا آپس میں اختلاف ہے ۔‘‘

تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ : فریق مخالف کا بھی ایسے ہی آپس میں اختلاف ہے ۔ پس [رافضہ کے لیے ]یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی بھی باطل دعوی کریں ‘ مگر اس جیسے یا اس سے بہتر دعوی کا ساتھ اس کا معارضہ کیا جائے گا۔

اور ان میں کوئی سچی بات کہنے والا ایسا نہیں ہوگا جس سے بہتر اور بڑھ کر حق کہنے والا اہل سنت والجماعت میں موجود نہ ہو۔ اس لیے کہ بدعت کی سنت کے ساتھ مثال ایسے ہی ہے جیسے کفر کی مثال ایمان کے ساتھ ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَلَا یَاْتُوْنَکَ بِمَثَلٍ اِِلَّا جِئْنَاکَ بِالْحَقِّ وَاَحْسَنَ تَفْسِیْرًا﴾ (الفرقان:۳۳)

’’یہ آپ کے پاس جو کوئی مثال لائیں گے ہم اس کا سچا جواب اور عمدہ دلیل آپ کو بتا دیں گے ۔‘‘

تیسری وجہ :....باقی رہا شیعہ مصنف کا یہ قول کہ ’’ اہل سنت نے دین میں وہ باتیں داخل کر دیں جو اس میں شامل نہ تھیں ، اوراحکام شریعت میں تحریف کا ارتکاب کیا۔‘‘ تو یہ بات شیعہ میں سب فرقوں کی نسبت زیادہ پائی جاتی ہے۔ شیعہ نے اللہ کے دین میں رسول علیہ السلام تک کو جھوٹ کا نشانہ بنانے سے گریز نہ کیا جب کہ دوسرا کوئی اسلامی فرقہ یہ جسارت نہ کر سکا ۔ اور لاتعداد ایسی صداقتوں کو تسلیم نہ کیا جن کو ردکرنے کی جرأت کوئی دوسرا نہ کرسکا۔اور انہوں نے قرآن میں ایسے تحریف کی کہ کوئی دوسرا اس تحریف کا ارتکاب نہ کرسکا۔[ شیعہ کی تحریف کا اندازہ ان کے مندرجہ ذیل تفسیری اقوال سے لگائیے]:

۱۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان:

﴿ اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَ ہُمْ رٰکِعُوْنَ﴾ (المائدۃ ۵۵]

’’تمھارے دوست تو صرف اللہ اور اس کا رسول اور وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے، وہ جو نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہ جھکنے والے ہیں ۔‘‘کہتے ہیں : یہ آیت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی جب آپ نے نماز میں اپنی انگوٹھی زکواۃ میں ادا کردی۔

۲۔ ﴿ مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ﴾اس سے بقول شیعہ حضرت علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا مراد ہیں ۔

۳۔ ﴿یَخْرُجُ مِنْہُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ﴾ لؤلؤو مرجان سے حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما مراد ہیں ۔

٤۔ ﴿وَ کُلَّ شَیْئٍ اَحْصَیْنٰہُ فِیْٓ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ﴾۔ اس سے مراد حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں ۔

صفحہ 1 از 5