فصل: ....اہل سنت پر قیاس کا طعنہ اور ا س کا رد - ردِ رافضیت…

فصل: ....اہل سنت پر قیاس کا طعنہ اور ا س کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 5

۵۔ ﴿اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰٓی اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ ابرہیم وَ اٰلَ عِمْرٰنَ﴾‘آل عمران سے آل ابی طالب مراد ہے ابو طالب کو عمران سے تعبیر کیا گیا ہے۔

۶۔ ﴿اَلشَّجْرَۃُ الْمَلْعُوْنَۃُ فِيْ الْقُرَآنِ ﴾ اس سے مرادبنو امیہ ہیں ۔

۷۔ ﴿ فَقَاتِلُوْٓا اَئِمَّۃَ الْکُفْرِ ﴾اس سے مراد طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما ہیں ۔ 

۸۔ ﴿إِنَ اللّٰہَ یَأْمَرُکُمْ اَنْ تَذبَحُوْا بَقَرَۃً﴾بقرہ (گائے) سے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا مراد ہیں ۔

۹۔ ﴿لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ ﴾یعنی اگر تونے ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کو ولایت میں شریک کیا۔

شیعہ مذہب کی کتابوں میں ایسی لاتعداد تحریفات پائی جاتی ہیں ۔ شیعہ کے فرقہ اسماعیلیہ والوں نے واجبات و محرمات تک میں تحریف کرنے سے اجتناب نہ کیا، بنا بریں اگر ان کو ائمہ تحریف کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔کیونکہ یہ لوگ آیات کو اپنے اصل مقصود سے بدل دیتے ہیں ۔ اگر کوئی ان کے پاس مبلغ علم پر غور کرے تو اسے جھوٹی منقولات اور حق بات کی تکذیب ؛ آیات کے معانی میں تحریف کے علاوہ کچھ بھی نہ ملے گا۔یہ باتیں اس طرح آپ کو کسی دوسرے اسلامی فرقہ میں نہیں ملیں گی۔

شیعہ نے یقینی طور پر اللہ کے دین میں ہر فرقہ سے بڑھ کر چیزیں داخل کی ہیں اور کتاب اللہ میں ایسے تحریف کی ہے کہ دوسرے لوگوں کو اس کی ہوا بھی نہیں لگی۔

[مذاہب اربعہ اور شیعہ اعتراض کا جواب:]

چوتھی وجہ :....شیعہ قلمکار کا یہ قول کہ ’’ اہل سنت نے مذاہب اربعہ ایجاد کیے جوکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں نہیں تھے اور اقوال صحابہ کو ترک کر دیا۔‘‘

جواب: ہم رافضی مصنف سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے یہاں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مخالفت اور ان کے اقوال سے انحراف کب سے مذموم قرار پائے؟ 

جبکہ اہل سنت والجماعت کا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت و دوستی رکھنے اور باقی تمام زمانوں پر ان کو ترجیح دینے پر اتفاق ہے ؛ او ران کے ہاں صحابہ کرام کا اجماع حجت بھی ہے۔ اور انہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اجماع سے کسی طرح بھی خروج کی اجازت نہیں ۔ بلکہ عام ائمہ مجتہدین وضاحت وصراحت کے ساتھ فرمارہے ہیں:

’’ ہمارے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال کو ترک کرنا جائز نہیں ۔‘‘

پھر جو لوگ [شیعہ]یہ کہتے ہیں کہ اجماع صحابہ حجت نہیں ہے ‘ اور صحابہ کرام کو ظلم اور کفر کی طرف منسوب کرتے ہیں ؛ تو وہ کیسے اہل سنت پر اعتراض کرسکتے ہیں ؟[[کیا ہم اجماع صحابہ کے مخالف ہیں یا تم؟ پھر اس سے بڑھ کر یہ کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو گمراہ اور کافر کون کہتا ہے؟ اس بات کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ اہل سنت اجماع صحابہ کے خلاف متفق ہوجائیں ]]۔

مزید برآں اگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اجماع حجت ہے تو وہ دونوں گروہوں پر حجت ہے ۔ اور اگر اجماعصحابہ حجت نہیں تو پھر اس کو بنیاد بناکر اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔

[اعتراض]:اگر یہ کہے کہ : ’’ اہل سنت والجماعت اجماع صحابہ کو حجت مانتے ہیں اورپھر اسکی مخالفت کے مرتکب ہوئے ہیں ۔‘‘ 

[جواب] : اہل سنت والجماعت کے متعلق یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ وہ اجماع صحابہ کرام کے خلاف یک زبان ہو جائیں ۔ جب کہ یہ ایک مسلمہ صداقت ہے کہ شیعہ امامیہ عترت نبوی[اہل بیت؛ بنو ہاشم]اور حضرات صحابہ دونوں کے متفق اجماع کی خلاف ورزی کرتے ہیں ۔ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے عہد سعادت مہد میں بنی ہاشم کا کوئی فرد اس بات کا مدعی نہ تھا کہ:’’ بارہ امام معصوم ہوں گے؛ یا یہ کہ سالار رسل صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شخص معصوم بھی ہو سکتا ہے۔‘‘

بخلاف ازیں کوئی شخص خلفائے ثلاثہ کے کفر کا قائل تھا نہ ان کی امامت پر طعن و تشنیع کرتا تھا اور نہ ہی صفات اللہ تعالیٰ کا کوئی منکر تھا اور نہ تقدیر کا۔ [اس سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے، کہ امامیہ اہل بیت و صحابہ دونوں کی مخالفت کرنے میں متحد الخیال ہیں ، پھر انہیں لوگوں پر معترض ہونے کا کیا حق ہے، جو اہل بیت و صحابہ دونوں کے اجماع کو حجت مانتے ہیں اور اس کی مخالفت سے اجتناب کرتے ہیں ]]۔

پانچویں وجہ:....یہ اعتراض کہ:’’ اہل سنت نے مذاہب اربعہ ایجاد کرلیے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں نہیں تھے۔‘‘

[جواب ]:اس کا جواب یہ ہے کہ اگر اس کے خیال میں اہل سنت نے حضرات صحابہ کے عین بر خلاف جمع ہو کر باتفاق رائے یہ مذاہب ایجاد کر لیے تھے تو یہ عظیم افترا ہے۔ اس لیے کہ یہ چاروں مذاہب ایک ہی زمانہ میں نہ تھے۔بلکہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی وفات ۱۵۰ہجری میں ہوئی۔امام مالک رحمہ اللہ کی وفات ۱۷۹ ہجری میں ہوئی ۔امام شافعی رحمہ اللہ کی وفات ۲۰۳ ہجری میں ہوئی ۔امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی وفات ۲۳۱ ہجری میں ہوئی ۔

مزید برآں ان میں سے کوئی بھی دوسرے کی تقلید نہیں کرتا تھا اور نہ دوسروں کو اپنی پیروی کا حکم دیتا تھا۔ بخلاف ازیں یہ سب ائمہ اتباع کتاب و سنت کی دعوت دیتے اور دوسروں پر تنقید کیا کرتے تھے۔باقی رہا یہ معاملہ کہ لوگ آئمہ اربعہ کی اطاعت کرتے ہیں ؛ تو یہ ایک اتفاقی بات ہے۔ نیز یہ کہ : جب ان میں سے کوئی ایک کوئی ایسی بات کہے جو کتاب و سنت کی مخالف ہو تو اس کو چھوڑ دینا واجب ہوجاتا ہے ؛ اورلوگوں پر اس کی تقلید واجب نہیں ہوتی۔

٭ اگر تم شیعہ کہو کہ : لوگ ان مذاہب کی پیروی کررہے ہیں ؛یہ کوئی اتفاقیہ امر نہیں ہے۔بلکہ لوگوں نے آپس میں اتفاق سے طے کیا ہے کہ تم اس کی پیروی کرو اور تم اس کی پیروی کرو۔ ان کی مثال ان حجاج کی ہے جنہیں کسی رہبر کی تلاش ہو ‘ پھر انہیں کوئی رہنما مل جائے ۔ کچھ لوگ اسے ماہر راہبر سمجھ کر اس کے پیچھے چلنے لگیں اور کچھ لوگ اس کو چھوڑ کر الگ چل دیں ۔

صفحہ 2 از 5