فصل: ....اہل سنت پر قیاس کا طعنہ اور ا س کا رد - ردِ رافضیت…

فصل: ....اہل سنت پر قیاس کا طعنہ اور ا س کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 5

[جواب]: اگر واقعی ایسا ہے تو پھر بھی اہل سنت و الجماعت کا اتفاق کوئی باطل نہیں ہے۔ بلکہ ان میں سے ہر ایک گروہ دوسرے کی خطا پر آگاہ کرتا ہے۔ کیونکہ ان کا اتفاق اس بات پر نہیں ہے کہ جو کچھ بھی متعین شخص کہے ؛ وہ ہرحال میںقبول کیا جائے ۔ بلکہ جمہور مسلمین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی متعین شخص کی تقلید کا حکم نہیں دیتے ۔

اللہ تعالیٰ نے اس امت کی عصمت کی ضمانت دی ہے۔یہ عصمت کی نشانی ہے کہ اس امت میں کئی کئی علماء ہوتے ہیں ۔ اگر ان میں سے کوئی ایک کسی چیزمیں غلطی کر جائے تو دوسرا کوئی اس مسئلہ میں حق پر ہوتا ہے تاکہ حق بات باقی رہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر بعض علماء کرام کے ہاں بعض مسائل میں خطاء ہوجائے ؛ جیسا کہ شیعہ مصنف نے بطور مثال کے کچھ مسائل ذکر کیے ہیں ؛ تو[ ان ہی علماء کے دوسرے قول میں یا]دیگر علماکے اقوال میں حق موجود ہوتا ہے ۔ تو اس سے ظاہر ہوا کہ اہل سنت و الجماعت کا اتفاق کبھی بھی گمراہی پر نہیں ہوا۔ رہ گیا بعض علماء کرام سے بعض دینی مسائل میں خطاء کا سر زد ہوجانا ؛ تو ہم اس سلسلہ میں کئی بار وضاحت کرچکے ہیں کہ اس معمولی [یاجزوی ] خطاء سے کوئی نقصان نہیں ہوتا؛ جیساکہ بعض عام مسلمانوں سے غلطیاں ہوتی ہیں ۔جب کہ شیعہ کا معاملہ اس سے مختلف ہے ؛ ہر وہ مسئلہ جس میں وہ تمام اہل سنت کی مخالفت کرتے ہیں ‘ اس میں وہ خطاء پر ہوتے ہیں ۔جیساکہ یہود و نصاری ہر اس مسئلہ میں خطاء پر ہیں جس میں وہ مسلمانوں کی مخالفت کررہے ہیں ۔

چھٹی وجہ:....شیعہ کا اعتراض ہے کہ : ’’ یہ مذاہب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے زمانہ میں موجود نہیں تھے ‘‘

[جواب] : اگر اس سے مراد یہ ہے کہ ان کے مذاہب کے اقوال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے نقل نہیں کئے گئے ؛ بلکہ ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے اقوال کو ترک کرکے اپنی طرف سے بدعات گھڑلیں ‘ تو یہ ایک کھلا ہوا جھوٹ ہے ۔ اس لیے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مخالفت پر کبھی بھی اہل سنت کا اتفاق نہیں ہوا۔ بلکہ تمام اہل سنت اپنے اقوال و آراء میں صحابہ کرام کے پیروکار ہیں ۔اگر یہ بات مان لی جائے کہ بعض اہل سنت و الجماعت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال کا علم نہ ہونے کی بنا پر مخالفت کے مرتکب ہوئے ہیں ؛ تو پھر ایسے بھی ہے کہ باقی اہل سنت صحابہ کرام کی اتباع پر متفق ہیں ؛ اور ان کی مخالفت کرنے والے کی غلطی سے اس کو آگاہ کررہے ہیں ۔[اور اس کو غلطی مان رہے ہیں ] اگر شیعہ کے اعتراض سے مراد یہ ہے کہ ان مذاہب اربعہ کے ائمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور میں موجود نہیں تھے ؛ تو اس میں کوئی ایسی ممانعت کی بات نہیں ہے ۔ اس لیے کہ ہر آنے والے زمانے کے لوگ پہلے لوگوں کے بعد ہی آتے ہیں ۔

اقوال صحابہ ترک کرنے کاالزام اور اس کا رد::

ساتویں وجہ:....شیعہ کا اعتراض: ’’انہوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال کو ترک کردیا ۔‘‘

[جواب] : یہ ایک من گھڑت جھوٹ ہے۔بلکہ ان مذاہب کے ماننے والوں کی کتابیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال اور ان سے استدلال سے بھری پڑی ہیں ۔اگرچہ ان میں سے بعض مذاہب کے پاس ایسی روایات ہیں جو دوسرے فرقہ کے پاس نہیں ہیں ۔ اور اگر شیعہ مصنف کے اعتراض سے مراد یہ ہو کہ : یوں نہیں کہتے : یہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کا مذہب ہے ؛ یہ عمر رضی اللہ عنہ کا مذہب ہے ؛ وغیرہ ۔ تو اس کا سبب یہ ہے کہ ان آئمہ میں سے کسی ایک نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال جمع کیے اور پھر ان سے مسائل کا استنباط کیا ؛ اس بنا پران اقوال کو ان آئمہ کی طرف منسوب کیا جانے لگا۔ جس طرح کتب حدیث کو ان کے جامعین مثلاً امام بخاری و مسلم اور ابو داؤد کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، بعینہ اسی طرح مختلف قراء توں کو ان ائمہ کی جانب منسوب کیا جاتا ہے جنھوں نے وہ قرأت اختیار کی تھیں ؛ جیسے کہ نافع اور ابن کثیر وغیرہ ۔

غالب طور پران آئمہ کرام رحمہم اللہ کے اقوال سابقین سے منقول ہیں ۔بعض کے ہاں ایسے بھی کچھ اقوال پائے جاتے ہیں جو کہ متقدمین سے منقول نہیں ہیں ۔لیکن انہوں نے یہ اقوال ان ہی اصولوں کی بنیاد پر استنباط کیے ہیں ۔اس سے ان کے اقوال میں موجود غلطی واضح ہوگئی۔ یہ سب کچھ دین کی حفاظت کے لیے ہوا ہے تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کی بیان کردہ اس صفت کے اہل ہوجائیں [جس میں ارشادفرمایاہے ]: ﴿یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ ﴾ (التوبہ:۷۱)

’’ وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں ۔‘‘

پس جب بھی کسی سے بھول کر یا عمداً غلطی واقع ہوئی تو دوسرے علماء کرام نے اس پر آگاہ کیا ؛ اور اس غلطی پر رد کیا۔ علمائے کرام رحمہم اللہ کا مرتبہ انبیاء علیہم السلام سے بڑھ کر نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ اِذْ یَحْکُمٰنِ فِی الْحَرْثِ اِذْ نَفَشَتْ فِیْہِ غَنَمُ الْقَوْم وَکُنَّا لِحُکْمِہِمْ شٰہِدِیْنo فَفَہَّمْنٰہَا سُلَیْمٰنَ وَ کُلًّا اٰتَیْنَاحُکْمًا وَّ عِلْمًا وَّ سَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ یُسَبِّحْنَ وَ الطَّیْرَ وَ کُنَّا فٰعِلِیْنَ﴾ (الانبیاء: ۷۸۔۷۹)

’’اور داد اور سلیمان( رحمہم اللہ )کو یاد کیجئے جبکہ وہ کھیت کے معاملہ میں فیصلہ کر رہے تھے کہ کچھ لوگوں کی بکریاں رات کو اس میں چر گئی تھیں اور ان کے فیصلے میں ہمشاہد تھے۔ہم نے اس کا صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا۔ہم نے ہر ایک کوحکمت و علم دے رکھا تھا اور داؤد کے تابع ہم نے پہاڑ کر دیئے تھے جو تسبیح کرتے تھے اور پرندبھی؛ ہم ایسا کرنے والے ہی تھے ۔‘‘

صحیحین میں ثابت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:’’جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنگ احزاب سے واپس ہوئے تو ہم لوگوں سے فرمایا :’’ کوئی عصر کی نماز نہ پڑھے مگر بنی قریظہ میں پہنچ کر۔‘‘

صفحہ 3 از 5