فصل: ....اہل سنت پر قیاس کا طعنہ اور ا س کا رد - ردِ رافضیت…

فصل: ....اہل سنت پر قیاس کا طعنہ اور ا س کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 5

چنانچہ لوگوں کے راستہ میں ہی نماز عصر کا وقت ہوگیا، تو بعض نے کہا کہ: ہم نماز نہیں پڑھیں گے جب تک کہ وہاں (بنی قریظہ)تک پہنچ نہ جائیں ۔ اور بعض نے کہا کہ ہم تو نماز پڑھیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ نہ تھا کہ ہم قضا کریں ۔ اور بعض نے بنو قریظہ میں پہنچ کر غروب آفتاب کے بعد نماز پڑھی۔ جب اس کا ذکر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو ملامت نہ کی۔‘‘[البخارِیِ:۵؍۱۱۲؛ ِکتاب المغازِی، باب مرجِعِ النبِی صلی اللّٰہ علیہ وسلم مِن الأحزابِ:۲؍۱۵کتاب صلاِۃ الخوفِ، باب صلاۃِ الطالِبِ والمطلوبِ راِکبا وِإیمائً، مسلِم:۳؍۱۳۹۱،کتاب الجِہادِ والسِیرِ، باب المبادرِ بِالغزو، وفِیہِ: أن لا یصلِین أحد الظہر إِلا فِی بنِی قریظۃ۔]

یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ مجتہدین کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سمجھنے میں اختلاف ہوسکتا ہے ؛ مگر ان دونوں میں سے کوئی ایک بھی گنہگار نہیں ہوتا۔

آٹھویں وجہ :....اس پر مزید یہ کہ اہل سنت نے یہ کبھی نہیں کہا کہ ائمہ اربعہ کا اجماع ایک بے خطا دلیل ہے۔ اورنہ ہی کسی نے یہ کہا ہے کہ: حق ان کے اقوال کے دائرہ میں محدود و محصور ہو کر رہ گیا ہے؛ جو بات ان سے خارج ہے وہ باطل ہے۔[مجتہدین کے یہاں جو نزاع و اختلاف پایاجاتا ہے، وہ صرف کلام رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فہم و ادراک کے بارے میں ہے اور بس! [مترجم]] بلکہ اگر ان آئمہ کے متبعین کے علاوہ کوئی دوسرا جیسا کہ سفیان الثوری؛ اوزاعی؛ لیث ؛ سعد اور ان سے پہلے یا ان کے بعد والے مجتہدین اگرکو ئی ایسی بات کہیں جو ان آئمہ اربعہ کے اقوال کے خلاف ہو‘تو اس معاملہ کو کتاب اللہ و سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیش کیا جائے گا۔ اور ان میں سے راجح قول وہی تصور ہوگا جس پر دلیل قائم ہوگی۔ 

نویں وجہ :....شیعہ کا قول کہ:’’ صحابہ کرام نے صراحت کے ساتھ قیاس ترک کرنے کاحکم دیا ہے ۔‘‘

[جواب] : [شیعہ سے کہا جائے گا کہ ] : جمہور مسلمین جو قیاس کو حجت مانتے ہیں ؛وہ کہتے ہیں : صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے قیاس ور ائے اور اجتہاد بھی ثابت ہے ۔ انہوں نے اجتہاد و قیاس کیا۔ اور ان سے قیاس کی مذمت بھی ثابت ہے ۔ [قیاس و رائے کے موافق و مخالف دونوں قسم کے اقوال منقول ہیں ]۔ قیاس مذموم وہ ہے جو نص کا معارض ہو؛جیسے ان لوگوں کا قیاس ہے جو کہتے ہیں کہ سود بھی تجارت کی طرح ہے ۔ اور ابلیس مردود کا قیاس جب اس نے آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کے حکم ِ الٰہی پر اعتراض کیا تھا۔ اور مشرکین کا قیاس جو کہتے ہیں : کیا جسے تم قتل کرتے ہو‘اس کا گوشت کھا لیتے ہو‘ اور جس کو اللہ ماردیتا ہے اس کاگوشت نہیں کھاتے ؟ اللہ تعالیٰ[ایسے باطل قیاس کرنے والے لوگوں کے بارے میں ] فرماتے ہیں : 

﴿وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰٓی اَوْلِیٰٓئِہِمْ لِیُجَادِلُوْکُمْ وَ اِنْ اَطَعْتُمُوْہُمْ اِنَّکُمْ لَمُشْرِکُوْنَ﴾ (الانعام:۱۲۱)

’’اور یقیناً شیاطین اپنے دوستوں کی طرف وحی کرتے ہیں تاکہ یہ تم سے جھگڑا کریں ؛اور اگر تم ان لوگوں کی اطاعت کرنے لگو تو یقیناً تم مشرک ہو جا ؤگے۔‘‘

ایسے ہی وہ قیاس بھی ہے جس میں فرع مدار حکم میں اصل کی شریک نہ ہو۔ ایسے قیاس کا فاسد ہونا کسی شک و شبہ سے بالا ہے۔[ مگر اس کا مطلب یہ نہ سمجھا جائے کہ قیاس کوئی بھی ہو فاسد ہوتا ہے]۔وہ قیاس فاسد ہوتاہے جس میں شرطیں نہ پائی جائیں ‘اور وہ اصل مدار حکم میں مساوی نہ ہو۔ ایسا کسی مانع کی موجودگی کی وجہ سے ہوتاہے؛ اور یہ مانع وہ نص ہوسکتی ہے جس کو قیاس پر مقدم کرنا واجب ہوتا ہے ۔ اگردونوں نفس ِ امر میں متلازم ہوں ‘ تو شرط کبھی بھی فوت نہیں ہوسکتی مگر وہاں پر کسی مانع کے موجود ہونے کی وجہ سے ۔ اور جب بھی کوئی مانع پایا جاتا ہے تو شرط مفقود ہوجاتی ہے۔

پس رہ گیا وہ قیاس جس میں مدار حکم میں اصل اور فرع دونوں برابر ہوں ‘ اور ان کے ساتھ اس سے راجح کوئینصِ معارض بھی نہ ہو تو پھر یقیناً ایسا قیاس قابل اتباع ہوتا ہے ۔

اس میں کوئی شک نہیں قیاس میں فاسد قیاس بھی پایا جاتا ہے ۔ بہت سارے فقہاء نے فاسد قیاس کیا ہے ۔ ان میں سے بعض نص کی روشنی میں باطل ہیں ۔اور بعض قیاس کے باطل ہونے پر اتفاق ہے۔ لیکن بہت سارے امور میں قیاس کے باطل ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ تمام کا تمام قیاس سرے سے ہی باطل ہے ۔ جس طرح موضوع احادیث کے پائے جانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ تمام احادیث نبویہ کو تسلیم نہ کیا جائے۔

قیاس کا مدار اس پر ہے کہ دو صورتیں موجب حکم اور اس کے مقتضیٰ میں برابر ہوں ۔ پس جب بھی ایسے ہوگا تو قیاس بلاشک و شبہ صحیح ہوگا۔ لیکن بسا اوقات قیاس کرنے والے ایسی چیز کو مناط ِحکم سمجھ لیتے ہیں ؛ جو کہ اصل میں ایسے نہیں ہوتی؛ پس اس وقت غلطی ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قیاس کرنے والوں کے نزدیک اس چیز کی اصل بنیاد ان کے مابین مشترک تأثیر ہے؛ جسے یہ لوگ سوالِ مطالبہ کے جواب کا نام دیتے ہیں تو ان سے کہا جائے گا: ہم یہ بات تسلیم نہیں کرتے کہ حکم کی علت اس میں اصل اور فرع میں وصف مشترک ہے؛ تاکہ فرع کو اصل سے ملایا جائے۔ اس لیے کہ قیاس کی صحت اس وقت تک ثابت نہیں ہوتی جب تک کہ دونوں مشترکہ صورتیں اس چیز یں بھی مشترک ہوں جو حکم کو مستلزم ہے۔ خواہ یہ اشتراک نفسِ علت میں ہو؛ یا پھر علت کی دلیل میں ۔ اور ایسا اس وقت ہوتا ہے جب ان کو جمع کرنے والی خصوصیت ظاہو ہو۔ اور کبھی ان کے مابین فرق کے ختم ہو جانے کی وجہ سے۔ پس جب یہ علم ہو جائے گہ ان دونوں صورتوں کے مابین کو مؤثر فرق نہیں ہے؛ تو حکم میں بھی ان دونوں کے برابر ہونے کا علم بھی حاصل ہوگیا۔اگرچہ ان کے مابین جامع وصف کا علم نہ بھی ہو سکے۔

صفحہ 4 از 5