فصل:....شیعہ اور یقین نجات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....شیعہ اور یقین نجات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 7

یہ دونوں مقدمات نامعلوم ہی نہیں بلکہ باطل ہیں ۔ پہلے مقدمہ کو چھوڑیے ۔دوسرے مقدمہ میں : جن لوگوں کی عصمت کا دعوی کیا جاتا ہے ؛ صدیوں سے ان کا انتقال ہوچکا ہے ۔ [امامیہ کے ہاں ]امام منتظر بھی صدیوں سے غار میں غائب ہوچکا ہے۔ جب کہ دوسرے لوگوں کے نزدیک یہ امام اصل میں معدوم ہے [اس کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ]۔اور جو لوگ ان رافضی شیوخ کی اتباع کرتے ہیں ‘ یا ان کتابوں کے مطابق چلتے ہیں جو بعض رافضی شیوخ نے لکھی ہیں ؛ جن کتابوں میں انہوں نے لکھاہے کہ یہ روایات ائمہ معصومین سے منقول ہیں ؛ تویہ حقیقت ہے کہ ان کتابوں کے مصنفین رافضی شیوخ بالاتفاق معصوم نہیں ہیں ۔ اور نہ ہی ان کی نجات کے بارے میں قطعی طور پر یقین کے ساتھ کچھ کہا جاسکتا ہے ۔ پس اس بنا پر ثابت ہوگیا کہ رافضہ ان لوگوں کی اتباع نہیں کرتے جن کی نجات و سعادت کے بارے میں انہیں قطعی یقین ہے ۔اورنہ ہی اپنی نجات کے بارے میں یقین ہوسکتا ہے ۔اورنہ ہی ان آئمہ کی نجات کے بارے میں انہیں کوئی یقین ہے جو براہ راست امر و نہی کا کام کرتے ہیں ۔حالانکہ وہ ان کے آئمہ ہیں ۔ان لوگوں کا اپنے آئمہ کی طرف منسوب ہونے میں وہی حال ہے جو بہت سارے ان لوگوں کا حال ہے جو خود کو مرے ہوئے مشائخ کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔انہیں اس بارے میں کوئی علم نہیں ہوتا کہ ان شیوخ نے کس چیز کا حکم دیا ہے اور کس چیز سے منع کیا ہے ۔بلکہ ان شیوخ کے ایسے اتباع کار ہیں جو لوگوں کا مال ناحق کھاتے ہیں ۔اور لوگوں کواللہ کی سیدھی راہ سے روکتے ہیں ۔ اور انہیں ان مشائخ اور ان کے خلفاء کی شان میں غلو کرنے کا حکم دیتے ہیں ۔اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر انہیں اپنا رب بنالیتے ہیں ۔ جیسے شیعہ شیوخ اپنے پیروکاروں کو حکم دیتے ہیں ۔اور جیسے عیسائی علماء اپنے ماننے والوں کو حکم دیتے ہیں ۔ یہ لوگ عوام کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانے اور غیر اللہ کی عبادت کرنے کاحکم دیتے ہیں ۔اور انہیں اللہ کی راہ سے روکتے ہیں ۔اس بنا پر وہ ’’لا إلہ إلا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘کلمہ توحید کی حقیقت سے خارج ہوجاتے ہیں ۔اس لیے کہ توحید کی حقیقت یہ ہے کہ صرف ایک اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کی جائے ؛ اللہ کے سواکسی کو نہ پکارا جائے ؛ اس کے علاوہ کسی کاخوف نہ رکھا جائے؛ اس کے علاوہ کسی سے نہ ڈراجائے ؛ اس کے علاوہ کسی پر توکل نہ کیا جائے ؛ اور دین کو صرف اس کے لیے خالص مانا جائے ؛ اس میں کسی مخلوق کے لیے حصہ نہ بنایا جائے۔ اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر فرشتوں اور انبیاء کو رب نہ بنانا چاہیے ۔توپھر یہ امور ائمہ ‘شیوخ ‘علماء اور بادشاہوں سے کیونکر روا ہوسکتے ہیں ؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے امر و نہی پہنچانے کاواسطہ ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے علاوہ مخلوق میں سے کسی ایک کی بھی مطلق اطاعت نہیں کی جاسکتی۔جب امام یا شیخ کو الہ و معبود بنالیا جائے کہ اسے اس کیعدم موجودگی میں یا موت کے بعد پکارا جائے ‘ اور اس سے مدد مانگی جائے؛ اس سے اپنی حاجات طلب کی جائیں ؛[تو یہ کہاں کی توحید اور کیسادین ہے ؟]

یہ لوگ تو اپنے ائمہ کی اس طرح اطاعت کرتے ہیں انہیں جو مرضی میں آئے اس کا حکم دیتے ہیں اور جس چیزسے چاہتے ہیں روک دیتے ہیں ۔ گویا کہ یہ لوگ اپنے مردہ ائمہ کو اللہ تعالیٰ سے تشبیہ دیتے ہیں ؛ اور زندوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔ اس بناپر یہ لوگ ’لا إلہ إلا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ ‘‘کلمہ توحید کی حقیقت سے خارج ہوجاتے ہیں ۔اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ توحید کی حقیقت یہ ہے کہ ہم صرف ایک اللہ کی عبادت کریں اوراس کے سوا کسی کو نہ پکاریں اور نہ ہی کسی کا ڈرمحسوس کریں ؛ اور نہ ہی کسی کا خوف اس کے علاوہ ہو۔ اور صرف اسی پر بھروسہ کیا جائے۔ اور دین کو صرف اس کے لیے خالص کیا جائے کسی مخلوق کے لیے نہیں ۔ اور یہ کہ ہم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر انبیائے کرام علیہم السلام یا ملائکہ کو اپنا رب نہ بنائیں ؛ کجا کہ ائمہ اور مشائخ اور علماء اور بادشاہوں اور دیگر کو اپنا رب بناتے پھریں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہم تک اس کے امر و نہی پہنچا دیے تھے۔ پس اب مخلوق میں سے کسی کی مطلق اطاعت نہیں ہوگی۔ اب اگر کسی شیخ کو یوں بنا لیا جائے گویا کہ وہ معبود ہو ؛ اور اسے ہی غائبانہ طور پر یا اس کی موت کے بعد پکارا جائے۔مشکل میں اسے دہائی دی جائے؛ اور اس سے مدد طلب کی جائے؛ اور اپنی ضروریات کے لیے اسے پکارا جائے۔[تو ایسا کرنا ہر گز جائز نہیں ؛ بلکہ یہ کام حرام اور شرک ہیں ۔]بیشک اطاعت اس شخص کی کی جاسکتی ہے جو زندہ حاضر ہو؛ جیسے مرضی حکم دے؛ اور جس چیز سے چاہے منع کرے؛ تو یہ میّت گویا کہ اللہ تعالیٰ کے مشابہ [بنالیا گیا]ہے؛ اور زندہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہ۔ پس اس طرح یہ لوگ اسلام کی اس حقیقت سے نکل جاتے ہیں جس کی اصل لا إلہ إلا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ کی گواہی اور اقرار ہے۔ 

پھر ان میں سے بہت سارے لوگ اپنے مشائخ سے نقل کردہ حکایات سے چمٹے رہتے ہیں ؛ ان حکایات میں سے اکثر جھوٹ کا پلندہ ہوتی ہیں ۔اور بعض میں غلطی ہوتی ہے۔ پس یہ رسول معصوم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول سچی احادیث کو چھوڑ کر جھوٹی اور غیر معصوم ائمہ کی طرف منسوب کہانیوں اور کہاوتوں پر اکتفاء کرتے ہیں۔

اگر ان زندہ مشائخ کے پیروکاروں میں سے ایک گمراہ اپنے فوت شدگان مشائخ کی شان میں غلو کرنے کی وجہ سے ان کی قطعی اور دو ٹوک نجات کا یقین رکھنے میں غلطی پر ہے تو شیعہ کی یہی غلطی اس سے کئی گنا بڑی اور خطرناک ہے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ شیعہ کا طریقہ کار درست ہے ؛ اس لیے کہ انہیں اپنی نجات کا قطعی یقین ہے۔ تو پھر مشائخہ کا طریقہ کار بھی حق ہے ؛ وہ بھی اپنی نجات کے بارے میں قطعی یقین رکھتے ہیں ۔

صفحہ 2 از 7