فصل:....شیعہ اور یقین نجات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....شیعہ اور یقین نجات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 7

تو پھر جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ : یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ کاشمار ان انبیاء کرام میں ہوتا ہے جو شراب پیتے تھے ؛ اور اس کے لیے شراب حلال تھی؛ اس لیے کہ بعض انبیاء کرام نے بھی شراب پی ہے۔اور یزید بھی ان ہی میں سے ایک ہے ۔اور یہ طریق کار درست اور حق ہے۔اوریزید بھی نبی تھا۔اور جو کوئی نبی کے خلاف خروج کرے وہ کافر ہے ۔ توپھر اس سےحضرت حسین رضی اللہ عنہ کا کفر لازم آتا ہے۔اور اس بنا پر ان لوگوں کے قول کی صحت بھی لازم آتی ہے جو کہتے ہیں : ہر وہ رزق جو میرا شیخ مجھے نہ دے مجھے اس رزق کی کوئی چاہت نہیں ۔اور ان لوگوں کی بات بھی درست ثابت ہوگی جو کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ اتر کر زمین پر آتے ہیں ؛ اور ہر مسجدمیں اللہ تعالیٰ نے اپنا پاؤں رکھا ہے۔اور پھر وہ لوگ بھی صحیح کہتے ہوں گے : جن کا عقیدہ ہے کہ ان کے شیخ نے انہیں نمازیں معاف کردی ہیں ۔ان کے علاوہ بھی کفرو گمراہی پر مشتمل کئی ایک باتیں ایسی ہیں جو ان مشائخ کے پیروکاروں نے اپنے ماننے والوں میں پھیلا رکھی ہیں ۔ [حالانکہ یہ ساری باتیں غلط اور اسلامی عقیدہ کے خلاف ہیں ]۔

ان میں سے بہت سارے لوگوں کو اپنے ائمہ و مشائخ کی سعادت و نجات کا پختہ یقین ہے ۔ ان میں سب سے زیادہ بلا جھجھک اور بغیر روک ٹوک یہ یقین ظاہر کرنے والے اثنا عشری ہیں ۔جو اپنے ائمہ اور ان کے متبعین کی نجات کاپختہ یقین رکھتے ہیں ۔اگریہ جو کچھ ذکر کیا گیا ہے ‘ اس کا شمار بھی اپنی نجات کے پکا یقین رکھنے میں واجب ہے؛ تو پھر ان دوسرے لوگوں [فرقہ مشائخہ ]کی اتباع بھی واجب ہوتی ہے۔ جب ان کی اتباع واجب ہوگی تو اس سے پھر شیعہ عقیدہ پر قدح اوران کے عقیدہ کو باطل سمجھنا بھی واجب ہوگا۔ اور اگر یہ طریقہ درست نہیں ہے تو پھر شیعہ کی دلیل خود بخود باطل ہوجائے گی۔[[[ہم اہل سنت والجماعت معتدل امت ہیں ۔ ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ یہ راہ حق ہے ؛ اور اس راہ پر چلنے میں کامیابی یقینی ہے ۔ مگر متعین اشخاص و افراد کے متعلق بھلے وہ امام و علماء ہی کیوں نہ ہوں ‘ یہ دوٹوک طور پر نہیں کہہ سکتے کہ وہ ہر حال میں نجات یافتہ ہیں ۔بلکہ ہم اللہ تعالیٰ سے ان کے بارے میں نجات کی امید رکھتے ہیں ‘ اور ان کی بخشش کے لیے دعا کرتے ہیں اورایسے ہی اپنی ذات کے متعلق دوٹوک طور پر نہیں کہہ سکتے کہ ہم ہر حال میں جنت میں ہی جائیں گے ؛ سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہمیں اپنی لپیٹ میں لے لے ‘ اوروہ مہربان ذات ہماری مغفرت کردے ۔ہمارے ہاں نجات کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بعد توحید کی پابندی اور اعمال صالحہ کی بجا آوری ضروری ہے ۔ جب کہ شیعہ مشائخہ کے ہاں فقط نسبت کام آسکتی ہے۔ اور ان کے مشائخ ہر حال میں مغفور وبخشے ہوئے ہیں ]]۔[دراوی جی]]

اس لئے ان دونوں فریقوں سے کہا جائے گاکہ: اگر اپنی نجات کا پختہ یقین رکھنے والوں کا طریقہ کار ان لوگوں کی راہ کی نسبت اتباع کا زیادہ حق دار ہے جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں ؛ اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنے میں ان اہل علم و دین کی اتباع کرتے ہیں جو انہیں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا حکم دیتے ہیں ؛ اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر کسی معین شخص کی اطاعت کو واجب نہیں سمجھتے ۔اور سعادت و نجات کی ضمانت صرف ان لوگوں کے لیے دیتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کریں ۔اور کہتے ہیں : ان کے علاوہ جتنے بھی لوگ ہیں ان سے غلطی بھی ہوسکتی ہے اور درستگی بھی ۔ پس ان کی اطاعت مطلقاً نہیں کی جائے گی۔

اب اگر ان لوگوں کی اتباع میں نقص اور خطأکا پہلو موجود ہے ؛ اور اپنی نجات کا پختہ یقین رکھنے والوں کی رائے ہی درست ہوسکتی ہے‘ تو پھر شیعہ کے ائمہ معصومین اور شیخیہ کے مشائخ محفوظین کی اطاعت بھی واجب ہوتی ہے۔[یہ دونوں علیحدہ علیحدہ گروہ ہیں ]۔ پہلی قسم کے شیعہ دوسری قسم کے شیعہ پر جرح وقدح کرتے ہیں ؛ اس سے لازم آتا ہے کہ یہدونوں طریقے عند اللہ پکے باطل ہوں ۔ اس لیے کہ ان میں جمع بین النقیضین ہے ۔ کیونکہ ان کے اصول کی بنیاد ہی فساد پر رکھی گئی ہے۔ یہ بنیاد بغیر دلیل کے ان لوگوں کی اتباع ہے جنہیں [اپنے تئیں ] اپنی نجات کا پختہ یقین ہے۔ پس فرقہ مشائخہ یا امامیہ میں جو بھی اپنے مشائخ کی اتباع میں نجات کا پختہ یقین رکھتے ہیں ؛ان کا یہ عقیدہ بغیر علم اور دلیل کے ہے۔اس سے ان کے اقوال میں تناقض لازم آتا ہے۔ بخلاف ان اقوال کے جن کی بنیاد صحیح اصولوں پر رکھی گئی ہے ؛ ان میں کوئی تناقض نہیں پایا جاتا۔

تیسری وجہ:....رافضی مصنف نے جو مثال بیان کی ہے ؛ اور اس کو اصل بنا کر اس پر قیاس کیا ہے ؛ اس کے مطابق حکم لگانا ممتنع ہے۔ اس کہ دو آدمیوں میں سے کوئی ایک جب کہے گاکہ: کیا میرا راستہ پر امن ہے ‘ اور مجھے منزل تک پہنچا دے گا۔ اور دوسرا آدمی اس سے کہے : مجھے پتہ نہیں کہ کیا میرا راستہ پرامن ہے ؟ اور مجھے منزل تک پہنچائے گا یا نہیں ؟ ۔ یا پھر پہلا انسان ایسی بات کہے ؛ توعقلاً صرف اس آدمی کے قول کی بنا پر اس کی تصدیق نہیں کی جاسکتی ۔بلکہ اہل عقل کے نزدیک ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ یہ انسان[ اس پوچھنے والے کے لیے کوئی حیلہ گری کر رہا ہو]؛ تاکہ وہ اسے اپنے ساتھ لیکر چلے ‘ اور راستہ میں اسے قتل کردے اور اس کا مال و اسباب چھین لے۔ اوریہ بھی ممکن ہے کہ یہ انسان راستے کی حقیقت سے لاعلم ہو اسے راستہ کے خوف اوربد امنی کا کوئی پتہ ہی نہ ہو۔جب کہ دوسرا انسان سوال کرنے والے کیلئے کوئی گارنٹی نہیں دیتا۔ بلکہ اسے خود غور و فکر کرنے کے لیے کہتا ہے۔پس ایسے موقع پر انسان پر لازم ہوتا ہے کہ وہ خود سوچ وبچار کرے کہ اسے کون سے راستہ پر چلنا چاہیے؟ کیا ان دونوں راستوں میں سے ہی کوئی ایک سیدھا راستہ ہے یا ان کے علاوہ کوئی تیسرا راستہ بھی ہے ؟

صفحہ 3 از 7