فصل:....شیعہ اور یقین نجات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....شیعہ اور یقین نجات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 7

اگر ان دونوں میں سے ہر ایک انسان یہ دعوی کرتا کہ میرا راستہ پر امن ہے ‘ او رہمیں منزل تک پہنچائے گا [توپھر چاہیے تو یہ تھا کہ] ان دونوں کی بغیر کسی توقف کے تصدیق کی جائے ۔ حالانکہ [اس سے لازم آتا ہے کہ ]ان میں سے ہر ایک جاہل اور دروغ گو ہے۔[یہی حال شیعہ مصنف کاہے] ۔مشتبہ مسائل میں اس کا دعوی ہے کہ ہمارا قول ہی اس میں درست اور حق پرہے۔اور میں دوٹوک طور پر یہ کہہ سکتا ہوں ۔ اس لیے میں ان دونوں گروہوں کی نسبت اتباع کا زیادہ حقدار ہوں جو مسائل میں غور وفکر کرتے ہیں ‘ اور پھر ان سے استدلال کرتے ہیں ۔تو پھر چاہیے تھا کہ یہ جھوٹے مشائخ جو اپنے مریدوں کے لیے جنت کی ضمانت دیتے ہیں ۔اورانہیں آسرا دلاتے ہیں کہ ان کے لیے آخرت میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی۔ اوریہ کہ جو کوئی بھی ان سے محبت کرے گا وہ جنت میں داخل ہوجائے گا؛ اورجو کوئی انہیں مال دے گا ؛ وہ اس کے بدلے میں انہیں وہ حال دیں گے جس سے وہ اللہ ذو الجلال کے قریب ہوجائیں گے۔

پھر یہ لوگ ان لوگوں کی نسبت اتباع کے زیادہ حق دار ہوتے جو اہل علم و عدل اور سچائی کے پیکر ہیں ؛ اور کسی چیز کی ضمانت بھی نہیں دیتے سوائے اس چیز کی ضمانت کے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت کرنے والوں کو دی ہے۔ اور پھر اس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ ائمہ اسماعیلیہ جیسے معز اور حاکم ائمہ اثنا عشریہ کی نسبت اتباع کے زیادہ حق دار ہوں ۔اس لیے کہ یہ لوگ انثا عشریہ سے بڑھ کر غیب کا علم جاننے ‘ باطن شریعت کے کشف؛ اور اعلی درجات کے دعویدار ہیں ۔ یہ لوگ محرماتکو حلال سمجھنے اور واجبات ترک کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو جنت کی ضمانت بھی دیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ : ہم نے آپ سے نمازیں اور روزے اور زکوٰۃو اور حج ساقط کردیے ہیں ۔ او رہم اس کا دو ٹوک یقین رکھتے اوراظہار کرتے ہیں ۔

اثنا عشری کہتے ہیں : ’’کوئی انسان اس وقت تک جنت کا مستحق نہیں ہوسکتا جب تک وہ محرمات کو ترک نہ کردے اور واجبات کو بجانہ لائے۔اگرپختہ نجات کے صرف دعوی پر ان کی اتباع کرنی چاہیے تو پھر یہ لوگ ان لوگوں کی نسبت سے اتباع کے زیادہ حق دار ہیں جو کہتے ہیں : جب تم گناہ کروگے تو تمہیں سزا ہوسکتی ہے ؛ یہ احتمال بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں معاف کردے ۔ پس یہ انسان خوف اور امید کے درمیان میں رہتا ہے۔ اس کی مثالیں بہت زیادہ ہیں ۔اس سے واضح ہوگیا کہ صرف اپنی نجات کے پختہ یقین کا دعوی کرلینا کسی کے اہل علم اور سچا ہونے کی دلیل نہیں ہوسکتی۔اور ایسے موقع پر اہل عقل لوگوں کی عادت یہ ہے کہ توقف اختیار کرتے ہیں یہاں تک کہ ان کے لیے دلیل کی روشنی میں مسئلہ واضح ہوجائے۔

چوتھی وجہ:....شیعہ کا یہ قول کہ ’’ شیعہ اپنے ائمہ کے ناجی ہونے پر یقین رکھتے ہیں ، جب کہ اہل سنت میں یہ بات نہیں پائی جاتی۔‘‘

جواب:....اگر شیعہ مصنف کی مراد یہ ہے کہ ایسا اعتقاد رکھنے والاہر ایک انسان ضرور جنت میں جائے گا، خواہ وہ شرعی اوامر کا تارک ہو اور منہیات سے کنارہ کش نہ رہتا ہو؛ تو بلاشبہ یہ امامیہ کا قول نہیں بلکہ کوئی ذی عقل اسے تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ۔اگر اس کا مقصد یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت ایک ایسی عظیم نیکی ہے جس کی موجودگی میں کوئی ضرر لاحق نہیں ہوتا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ایسے شخص کو نمازوں کے ترک کرنے، زنا کاری کا ارتکاب کرنے اور بنی ہاشم کا خون بہانے سے بھی کوئی نقصان نہیں پہنچے گا، بشرطیکہ وہ حب علی رضی اللہ عنہ کا دعویٰ دار ہو۔اگر شیعہ یہ کہیں کہ سچی محبت تبھی ہو سکتی ہے، جب محب دیگر اعمال میں بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نقش قدم پر چلتا ہو تو انہوں نے از خود اداء واجبات اور ترک منکرات کی ضرورت کو تسلیم کر لیا۔

اگر شیعہ مصنف یہ کہنے کے درپے ہے کہ جو شخص عقائد صحیحہ رکھتاہو‘ واجبات ادا کرتاہو؛ اور منکرات سے باز رہتا ہو؛ وہ جنت میں جائے گا۔ تو بلاشبہ اہل سنت بھی یہی کہتے ہیں ۔ قرآن کریم کی اتباع میں اہل سنت کا زاویہ نگاہ یہ ہے کہ ہر متقی کے لیے نجات یقینی ہے۔ البتہ وہ کسی متعین شخص کے بارے میں وثوق کے ساتھ یہ نہیں کہتے کہ: وہ جنت میں جائے گا۔ اس لیے کہ اس کا زمرہ متقین میں شامل ہونا قطعیت کے ساتھ تو معلوم نہیں ۔ جب کسی ذریعہ سے یہ معلوم ہوجائے کہ اس کی موت تقویٰ پر ہوئی ہے تو اس کا جنتی ہونا بھی معلوم ہوجائے گا۔ بنا بریں اہل سنت ان لوگوں کو جنتی قرار دیتے ہیں جن کے جنتی ہونے کی بشارت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے۔[مثلاً صحابہ کرام میں سے دس حضرات کے بارے میں سالار رسل صلی اللہ علیہ وسلم نے جنتی ہونے کا مژدہ سنایا، مگر شیعہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت سے صرف نظر کر کے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سوا ان سب اصحاب کو جہنمی قرار دیتے ہیں ، ان کی دریدہ دہنی کا یہ عالم ہے کہ اس سے بڑھ کر وہ افضل الصحابہ حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کو ’’ جبت و طاغوت ‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔]

جو شخص لوگوں میں اپنے اوصاف حمیدہ کی بنا پر معروف ہو اور لوگ اس کی تعریف و توصیف میں رطب اللسان رہتے ہوں ، تو اس کے بارے میں اہل سنت کے دو قول ہیں :

مذکورۃ الصدربیانات اس حقیقت کے آئینہ دار ہیں کہ شیعہ کے یہاں کوئی ایسا محمودجزم ووثوق نہیں پایا جاتا جو اہل سنت میں موجود نہ ہوں ۔ اگر شیعہ کہیں کہ ہم جس آدمی کو بھی شرعی واجبات پر عمل پیرا اور منہیات سے باز رہنے والا دیکھتے ہیں اسے قطعی جنتی قرار دیتے ہیں خواہ اس کے باطن کا حال ہمیں معلوم ہو یا نہ ہو۔تو ہم اس کے جواب میں کہیں گے کہ اس مسئلہ کا امامیہ سے کوئی تعلق نہیں ۔ اگر اس کی جانب کوئی صحیح راستہ جاتا ہے تو بالاتفاق اہل سنت کا راستہ ہے اور کوئی راستہ موجود نہیں تو یہ قول بلا علم ہے جو کسی فضیلت کا موجب نہیں ، بلکہ اس کا نہ ہونا فضیلت کا باعث ہے۔

خلاصہ کلام ! بہر حال شیعہ جس بھی علم صحیح کے دعویٰ دار ہوں اہل سنت ان کی نسبت اس کے زیادہ حق دار ہوں گے اور اگر وہ جہالت کے مدعی ہوں تو جہالت ایک نقص ہے اور اہل سنت اس سے بعید تر ہیں ۔

صفحہ 4 از 7