فصل:....شیعہ اور یقین نجات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....شیعہ اور یقین نجات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 7

کسی مخصوص آدمی کے جنتی ہونے کی ضمانت یا تو معصوم[معصوم سے مراد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے، ان کے سوا اس امت میں دوسرا کوئی معصوم نہیں ، آپ نے دس صحابہ رضی اللہ عنہم کے متعلق جنت کا مژدہ سنایا ہے، شیعہ اس بشارت کو تسلیم نہیں کرتے۔] (نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) کے قول کی بنا پر دی جا سکتی ہے یا مومنین کے متفق علیہ قول کی وجہ سے۔ اس لیے کہ اہل ایمان اس خطہ ارضی پر اللہ کے گواہ ہیں ، حدیث صحیح میں وارد ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سے ایک جنازہ گزرا، لوگوں نے مرنے والے کی مدح و ستائش کی، یہ سن کر آپ نے فرمایا: 

’’ وَجَبَتْ ‘‘(واجب ہوگئی)۔ پھر ایک اور جنازہ گزرا اور لوگوں نے اس کی مذمت کی تو آپ نے وہی الفاظ دہرائے ۔ صحابہ نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مفہوم دریافت کیا تو آپ نے فرمایا:’’جس جنازہ کی تم نے تعریف کی اس کیلئے جنت واجب ہوگئی اور جس کی مذمت کی اس کے لیے جہنم، تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو۔‘‘ [صحابہ کی شان میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ ’’ تم کائنات ارضی پر اﷲ کے گواہ ہو۔‘‘ صحابہ کی عظیم مدح و منقبت پر مشتمل ہے، بنی اسرائیل کے کسی نبی نے اگر ان کی مدح میں ایسا کوئی جملہ کہا ہوتا تو اسرائیلی اس دن کو ایک بڑا مذہبی تہوار بنا لیتے اور ایسے کلمات کو بڑی اہمیت کا حامل سمجھتے، مگر شیعہ صحابہ کی شان میں وارد شدہ مدحیہ کلمات کو چنداں وقعت نہیں دیتے، رسول اﷲ کا ارشاد گرامی ’’ انتم شہداء اﷲ فی الارض ‘‘دراصل سورہ بقرہ کی آیت ’’لتکونوا شہداء علی الناس ‘‘کی جانب اشارہہے۔ ظاہر ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مبارک سے صریح انکار غضب الٰہی کو دعوت دینے کے سوا اور کیا ہے؟ صحیح بخاری،کتاب الجنائز، باب ثناء الناس علی المیت،(ح:۱۳۶۷)، صحیح مسلم: کتاب الجنائز، باب فیمن یثنی علیہ خیر أو شر من الموتی، (ح:۹۴۹)۔]

اور مسند احمد کی ایک روایت میں ہے : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’ قریب ہے کہ تم اہل جہنم میں سے اہل جنت کو پہچان لو۔‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : یارسول اللہ ! وہ کیسے ؟

آپ نے فرمایا : لوگوں کے اچھی اور بری تعریف کرنے کی وجہ سے ۔‘‘[سننِ ابنِ ماجہ:۲؍۱۴۱۱؛کتاب الزہدِ،باب الثنائِ الحسنِ،وقال المعلِق فِی الزوائِدِ: ِإسنادہ صحِیح، رِجالہ ثِقات، ولیس لأِبِی زہیر ہذا عنِ ابنِ ماجہ سِوی ہذا الحدِیثِ، ولیس لہ شی فِی بقِیۃِ الکتبِ السِتۃِ، والحدِیث فِی المسندِ ؛ ط۔ الحلبی ۳؍۴۱۶۔ ]

اور بسا اوقات اس کا سبب مسلسل مؤمنین کے لیے نیک خواب کا دیکھنا بھی ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ میرے بعد نبوت میں سے صرف اچھے خواب باقی رہ گئے ہیں ۔ جو کہ نیک انسان خواب میں دیکھتا ہے یا اسے دیکھایا جاتا ہے ۔‘‘[البخارِیِ:۹؍۳۱؛ کتاب التعبِیرِ، باب المبشِراتِ ، وجاء جزء مِن حدِیث آخر بِنفسِ المعنی عنِ ابنِ عباس رضی اللّٰہ عنہما فِی مسلِم: ۱؍۳۴۸؛ کتاب الصلاِۃ، باب فِی الدعاِ فِی الرکوعِ والسجودِ، سننِ أبِی داود:۱؍۳۲۱؛ کتاب الصلاۃِ، باب فِی الدعاِ فِی الرکوعِ والسجودِ، سننِ النسائِیِ:۸؍۱۴۸، کتاب التطبِیقِ، باب تعظِیمِ الربِ فِی الرکوعِ، سننِ ابنِ ماجہ:۲؍۱۲۸۳؛ کتاب تعبِیرِ الرؤیا، باب الرؤیا الصالِحۃِ یراہا المسلِم أو تری لہ۔]

آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں سوال کیا گیا :

﴿لَہُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَۃِ﴾ [یونس ۶۳] 

’’ ان کے لیے دنیا اور آخرت کی زندگی میں خوشخبری ہے ۔‘‘

توآپ نے فرمایا: ’’یہ اچھے خواب ہیں جو نیک انسان دیکھتا ہے یا اسے دیکھایا جاتا ہے ۔‘‘ [سننِ التِرمِذِیِ:۳؍۳۶۴؛ کتاب الرؤیا، باب ذہبتِ النبوۃ وبقِیتِ المبشِرات، وقال التِرمِذِی عن حدِیثِ أبِی الدرداِ: وہذا حدِیث حسن۔ سننِ ابنِ ماجہ:۲؍۱۲۸۳؛ کتاب تعبِیرِ الرؤیا، باب الرؤیا الصالِحۃِ۔]

اس کی تفسیر اہل ایمان کے تعریف کرنے سے بھی کی گئی ہے ۔آپ سے پوچھا گیا : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کو ئی انسان اپنی ذات کے لیے نیک کام کرتا ہے ‘ اور لوگ اس پر اس کی تعریف کرتے ہیں ؛ تو آپ نے فرمایا: ’’ یہ اسے جلدی میں ہی مل جانے والی خوشخبری ہے ۔‘‘[مسلِم:۴؍۲۰۳۴؛ کتاب البِرِ والصِلۃِ والآدابِ، باب ِإذا أثنِی علی الصالِحِ فہِی بشری ولا تضر ، سننِ ابنِ ماجہ:۲؍۱۴۱۲؛ کتاب الزہدِ، باب الثنائِ الحسنِ ؛ مسند أحمد ۵؍۱۵۶۔]

خواب کبھی کبھار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں اور کبھی انسان کے اپنے خیالات ہوتے ہیں اور کبھی کبھار شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں ۔جب اہل ایمان کا خواب کسی بات کے مطابق ہو جائے تو وہ حق ہوتا ہے؛ جیسا کہ بسااوقات خواب اور روایات اور رائے میں مطابقت پائی جاتی ہے۔اس لیے کہ ایک انسان کبھی جھوٹ بھی بول سکتا ہے ‘ اور اس سے غلطی بھی ہوسکتی ہے۔ اور کبھی رائے میں خطاء بھی ہوسکتی ہے۔ یا جان بوجھ کر باطل بھی کرسکتا ہے ۔ لیکن جب تمام [اہل ایمان ] لوگ جمع ہوجائیں تو وہ کبھی بھی گمراہی پر جمع نہیں ہوسکتے۔ اور جب روایات تواتر کے ساتھ ہوں تو ان سے یقین کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ یہی معاملہ خواب کا بھی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :

’’ میں دیکھتا ہوں کہ تمہارا خواب میں دیکھنا آخری سات راتوں کے مطابق ہے تو جو آدمی لیلۃ القدر کو حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے آخری سات راتوں میں تلاش کرے۔‘‘ [البخارِیِ:۳؍۴۶؛ کتاب فضلِ لیلۃِ القدرِ، باب التِماسِ لیلِۃ القدرِ فِی السبعِ الأواخِرِ، مسلِم:۲؍۸۲۲؛ کتاب الصِیامِ، باب فضلِ لیلۃِ القدر،الموطِا:۱؍۳۲۱؛ کتاب الِاعتکِافِ،باب ما جاء فِی لیلۃِ القدر، المسندِ ط۔ المعارِفِ:۶؍۲۳۱۔]

یہ باب بھی اہل سنت والجماعت کے ہاں شیعہ کی نسبت کامل و اکمل ہے۔انہیں اپنی سعادت و کامیابی کے علم اور اس کے حصول کے لیے کوئی ایسی علمی راہ میسر نہیں ہے جس پر اہل سنت و الجماعت گامزن نہ ہوں ۔

[کامیابی و نجات پر یقین]:

صفحہ 5 از 7