فصل:....شیعہ اور یقین نجات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....شیعہ اور یقین نجات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 6 از 7

پانچویں وجہ:....یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ اہل سنت اپنے ائمہ کی فلاح و نجات پر جس پختگی کے ساتھ یقین رکھتے ہیں ؛شیعہ اس سے محروم ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اہل سنت کے ائمہ سابقین اولین مہاجرین و انصار ہیں ؛ جو ان کے نزدیک قطعی جنتی ہیں ۔ اہل سنت کے یہاں یہ امر مسلم ہے کہ عشرہ مبشرہ یقیناً جنتی ہیں ۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بدری صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا تھا:

((اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَکُمْ۔))[صحیح بخاری، کتاب المغازی۔ باب فضل من شھد بدراً(حدیث:۳۹۸۳،۳۰۰۷) صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ۔ باب من فضائل حاطب بن ابی بلتعۃ (حدیث: ۲۴۹۴) ]

’’تم جو چاہو کرو میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے۔‘‘

اہل سنت اس سے بڑھ کر یہ کہتے ہیں کہ :’’جن صحابہ نے درخت کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی ان میں سے کوئی بھی جہنم میں نہیں جائے گا۔‘‘جیسا کہ حدیث صحیح سے ثابت ہے۔[صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل اصحاب الشجرۃ (حدیث: ۲۴۹۶)۔] اس سے واضح ہوتا ہے کہ بیعت ِشجرہ میں شریک چودہ صد سے زائد صحابہ اہل سنت کے امام اور یہ قطعی جنتی ہیں ؛ان میں سے کوئی ایک بھی جہنم میں نہیں جائے گا؛یہ دعوی علم کی روشنی میں ہے ‘ اور اس پرکتاب و سنت کے دلائل پر مبنی ہے۔

چھٹی وجہ:....اہل سنت جن لوگوں کے حق میں جنتی ہونے کی شہادت دیتے ہیں ، خواہ مطلقاً ہو یا معیناً؛ ان کی شہادت علم و دلیل پر مبنی ہے۔ اس کے عین برخلاف روافض اگر گواہی دیتے ہیں تو ایسی بات کی گواہی دیتے ہیں جس کی حقیقت کے بارے میں وہ خودبھی کچھ نہیں جانتے ؛ یا پھر ان کی شہادت جھوٹ کا پلندہ ہوتی ہے؛ اور انہیں اس کے جھوٹ ہونے کے بارے میں علم بھی ہوتا ہے ۔ اسی بنا پر امام شافعی رحمہ اللہ کو کہنا پڑا:

((مَا رَاَیْتُ قَوْمًا اَشْہَدَ بِالزُّوْرِ مِنَ الرَّافِضَۃِ ۔))

’’میں نے شیعہ سے زیادہ جھوٹی شہادت دینے والا کسی قوم کو نہیں دیکھا۔‘‘ساتویں وجہ:....یہ امر قابل غور ہے کہ شیعہ جس امام کے جنتی ہونے کی شہادت دیتے ہیں یا تو وہ ہر چیز میں واجب الاطاعت ہوگا۔یہ الگ بات ہے کہ دوسرے اہل ایمان لوگ اس ضمن میں ان سے اختلاف کرتے ہوں ۔یا اس کی اطاعت صرف انہی امور میں کی جائے گی جو اللہ و رسول کے بیان کردہ ہوں ؛ یا اس کے اجتہاد پر مبنی ہوں ۔ یہ اس صورت میں ہوگا جب اس سے بڑھ کر کسی اہل علم اور افضل کا علم نہ ہو۔ بصورت اول اہل سنت والجماعت کے یہاں ایسا کوئی امام ہی نہیں جس کی ہربات اور ہر حکم میں اطاعت کی جاتی ہو سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے۔ان کا قول وہی ہے جو کہ امام مالک، مجاہد اور حکم رحمہم اللہ فرمایا کرتے تھے:

’’ہر شخص کی بات کو (بشرط صحت) تسلیم بھی کیا جا سکتا ہے اور (غلط ہونے کی صورت میں ) رد بھی کیا جا سکتا ہے، مگر سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات قابل تسلیم ہے۔‘‘

اہل سنت اپنے امام (سالار رسل صلی اللہ علیہ وسلم ) کو خیر الخلائق قرار دیتے ہیں ؛ اور اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ آپ کی پیروی کرنے والا ہر شخص جو آپ کے اوامر کوبجالاتا ہو‘اور منع کردہ چیزوں سے رک جاتا ہو؛ وہ جنت میں جائے گا۔ یہ شہادت شیعہ کی اس یقین دہانی سے اتم و اکمل ہے کہ امام عسکری کے متبعین اور ان کے ہمنوا و امثال جنتی ہیں ۔ اس سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ اہل سنت کا امام اور ان کی شہادت دونوں شیعہ کی شہادت کی نسبت زیادہ مکمل اور قابل اعتماد ہیں ۔ان دونوں کے مابین کوئی برابری اورمساوات نہیں ۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ئٰ آللّٰہُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِکُوْنَ﴾ [النمل۵۹]

’’کیا اللہ بہتر ہے یا جو کچھ وہ شریک ٹھہراتے ہیں ؟ ۔‘‘

مقابلہ کے وقت خالص شر اور برائی کے مقابلہ میں خالص نیکی اور بھلائی کا ذکر کیا جائے گا؛ اگرچہ شر میں کوئی خیر نہیں ہوتی۔

اگر شیعہ کی امام سے مراد محدودومقید امام ہے؛ تو اہل سنت کے نزدیک کوئی امام اس وقت تک واجب الاطاعت نہیں ہوتا جب تک اسکے اوامر امام مطلق سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے ہم آہنگ نہ ہوں ۔ اہل سنت جب شرعی حکم کے مطابق اللہ تعالیٰ کے احکام میں ایسے امام کی اطاعت کرتے ہیں تو انہیں اس بات کی مطلقاً پروا نہیں ہوتی کہ آیا وہ جنت میں جائے گا یا نہیں ، اس لیے کہ وہ دراصل اللہ و رسول کے احکام کی اطاعت کر رہے ہوتے ہیں ۔ جس طرح امام معصوم کی اتباع بعض اوقات اس کے نائبین کی اطاعت کرتے ہیں ، حالانکہ وہ دوزخی بھی ہوسکتے ہیں ۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ بعض اوقات امام کے نائب یہ بھی نہیں جانتے کہ کیا وہ وہی حکم دیتے ہیں جوحکم امام معصوم نے دیا ہے۔کیونکہ انہیں امام معصوم کے کسی حکم کا کوئی علم ہی نہیں ہوتا۔ بخلاف ازیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات گرامی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ؛جب کوئی اہل سنت حدیث کے مطابق حکم دیتا ہے تویہ بات فوراً معلوم ہوجاتی ہے کہ کون ان کے موافق حکم دے رہا ہے اور کون مخالف۔ اختلافی امور کا فیصلہ اجتہاد سے کر لیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ حدیث نبوی پر عمل پیرا ہونا امام معصوم کے نائبوں کی اطاعت کرنے سے بدر جہا افضل ہے۔خصوصاً جب کہ یہ پتہ بھی نہ ہو کہ امام غائب نے کیا حکم دیا، اور نہ اس کی کچھ خبر ہو کہ نائب آیا امام کے موافق ہے یا مخالف۔ اگر شیعہ یہ دعویٰ کریں کہ نائبین اپنے پیش کردہ علماء کے اقوال پر عمل پیرااور ان کے عالم ہوتے ہیں ۔ تو اس سے یہ حقیقت ظاہر ہوتی ہے کہ اہل سنت کے علماء کو حدیث نبوی کے بارے میں جو علم حاصل ہے وہ ان کے علم سے بدر جہا اتم و اکمل ہے۔ اگر کسی شیعہ سے یہ مطالبہ کیا جائے کہ وہ اس ضمن میں حضرت علی رضی اللہ عنہ یا کسی دوسرے امام سے کوئی روایت صحیح بتلادے تو وہ ایسا کرنے پر ہر گز قادر نہ ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شیعہ کا درجہ احادیث کی اسناد اور اسماء الرجال کے فن میں اہل سنت کے علماء کی نسبت فروتر ہے۔

[کامیابی کا دارو مدار]:

صفحہ 6 از 7