فصل:....شیعہ اور یقین نجات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....شیعہ اور یقین نجات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 7 از 7

آٹھویں وجہ:....رافضی کے کلام کا جواب یہ ہے کہ : اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو کامیابی اور سعادت کی ضمانت دی ہے جو اس کی اطاعت کریں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کریں ۔اور جو لوگ ایسانہ کریں انہیں شقاوت وبد بختی سے ڈرایا ہے ۔ پس سعادت کا دارومدار اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت پر ہے ۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّہَدَآئِ وَ الصّٰلِحِیْنَ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقًا﴾ [النساء۶۹]

’’ اور جو بھی اللہ تعالیٰ کی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کرے، وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا، جیسے نبی اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ، یہ بہترین ساتھی ہیں ۔‘‘

اور اس طرح کی دیگر آیات بھی بہت سی ہیں ۔

جب معاملہ ایسے ہی ہے تو اللہ تعالیٰ یہ بھی فرماتے ہیں :

﴿فَاتَّقُوا اللّٰہَ مَا اسْتَطَعْتُمْ ﴾ [التغابن۱۶]

’’تم سے جتنا ہوسکے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو ۔‘‘

پس جو کوئی بھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں اپنی وسعت بھر کوششیں کرے؛ وہ انشاء اللہ تعالیٰ اہل جنت میں سے ہوگا۔ پس رافضیوں کا یہ کہنا کہ جنت میں صرف وہی داخل ہوگا جو امامیہ میں سے ہوگا؛ یہ بالکل یہود و نصاری کے قول کی طرح ہے ؛ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ قَالُوْا لَنْ یَّدْخُلَ الجنۃَ اِلَّا مَنْ کَانَ ہُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی تِلْکَ اَمَانِیُّہُمْ قُلْ ہَاتُوْا بُرْہَانَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ o بَلٰی مَنْ اَسْلَمَ وَجْہَہٗ لِلّٰہِ وَ ہُوَ مُحْسِنٌ فَلَہٗٓ اَجْرُہٗ عِنْدَ رَبِّہٖ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَ لَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ﴾ [البقرۃ۱۱۱۔۱۱۲]

’’ یہ کہتے ہیں کہ جنت میں یہود و نصاری کے سوا اور کوئی نہ جائے گا یہ صرف ان کی آرزوئیں ہیں ، ان سے کہو کہ: اگر تم سچے ہو تو کوئی دلیل تو پیش کرو ۔سنو جو بھی اپنے آپ کو خلوص کے ساتھ اللہ کے سامنے جھکادے۔بیشک اسے اس کا رب پورا بدلہ دیگا اس پر نہ تو کوئی خوف ہوگا، نہ غم اور اداسی۔‘‘

یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ جس منتظر کے دعویدار رافضی ہیں ؛ اس کی اطاعت کسی ایک پر بھی واجب نہیں ہے۔اس لیے کہ اس سے کسی منقول قول کا علم حاصل ہی نہیں ہوسکا۔ پس پھر جو کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرے گا ‘ وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔ بھلے وہ اس خودساختہ امام پر ایمان نہ رکھتا ہو۔ اور جو کوئی اس امام پر ایمان رکھتا ہو وہ اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوسکتا جب تک وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت نہ کرلے۔ اس لیے کہ سعادت کا دارو مدار اپنے عدم اور وجود کے اعتبار سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت پر ہے ۔ پس یہی چیز اطاعت گزاری اہل جنت اور اہل جہنم میں فرق کرنے والی ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان وجہ فرق ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے اپنی خلقت کوآپ کی اطاعت کا حکم دیاہے ‘ اور اس طرف رہنمائی فرمائی ہے ۔ پس اس سے ظاہر ہوگیا کہ اہل سنت والجماعت ان لوگوں کی نجات کے بارے میں پختہ یقین رکھتے ہیں جو کہ سنت پر پابند ہوں ۔


صفحہ 7 از 7