فتح برقہ و طرابلس
علی محمد الصلابیمصر فتح کر لینے اور وہاں امن وامان قائم ہو جانے کے بعد حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ مغرب کی سمت بڑھے، تاکہ ادھر سے مفتوحہ علاقوں کے لیے کوئی خطرہ باقی نہ رہے، کیونکہ برقہ اور طرابلس میں روم کی کچھ فوج قلعہ بند تھی اور موقع ملنے پر لوگوں کے ورغلانے سے وہ مصر میں مسلمانوں پر دھاوا بول سکتے تھے، چنانچہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ 22ہجری میں اپنی فوج لے کر برقہ کی طرف چلے۔ اسکندریہ سے برقہ تک کا راستہ نہایت سرسبز و شاداب اور گھنی آبادی والا تھا۔ اس لیے وہاں تک پہنچنے میں سیدنا عمروؓ کو دشمن کی کسی سازش کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور جب وہاں پہنچے تو لوگوں نے جزیہ کی ادائیگی پر مصالحت کر لی، اس کے بعد برقہ کے لوگ خود بخود والی مصر کے پاس جاتے اور اپنا خراج جمع کر آتے تھے۔ مسلمانوں کی طرف سے کسی کو ان کے پاس جانے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ یہ لوگ مغرب میں سب سے زیادہ سادہ دل لوگ تھے، ان کے یہاں کوئی فتنہ و فساد نہ تھا۔
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ یہاں سے نکلے تو طرابلس کی طرف بڑھے، جو محفوظ و مضبوط قلعوں والا شہر تھا، وہاں رومی فوج کی بہت بڑی تعداد مقیم تھی، اس نے مسلمانوں کی آمد کی خبر سن کر اپنے قلعوں کے دروازے بند کر لیے اور مجبوراً مسلمانوں کے محاصرہ کو برداشت کرنے لگے۔ یہ محاصرہ ایک ماہ تک جاری رہا، لیکن مسلمانوں کو کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ ملی۔ طرابلس کے عقب میں شہر سے متصل سمندر بہتا تھا اور سمندر و شہر کے درمیان کوئی فصیل قائم نہ تھی۔ مسلمانوں کی ایک جماعت کو یہ راز معلوم ہوگیا اور پیچھے سے سمندر کی طرف سے شہر میں داخل ہوگئی۔ انہوں نے زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا، اب رومی فوج کے سامنے اپنی اپنی کشتیوں میں بھاگ کر پناہ لینے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہ تھا، وہ جونہی بھاگے، پیچھے سے حضرت عمرو بن عاصؓ نے ان پر حملہ کر دیا ان میں سے اکثر تہ تیغ کر دیے گئے، الا یہ کہ جو کشتیوں سے بھاگ نکلے، شہر میں موجود سامان و جائیداد کو مسلمانوں نے مال غنیمت کے طور پر حاصل کیا۔
طرابلس سے نمٹنے کے بعد حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے اپنی فوج کو قرب وجوار کے علاقوں میں پھیلا دیا۔ سیدنا عمروؓ کا ارادہ تھا کہ مغرب کی سمت فتوحات مکمل کر کے تیونس اور افریقہ کا رخ کریں۔ چنانچہ اس سلسلہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس خط لکھا۔ جب کہ سیدنا عمر فاروقؓ اسلامی لشکر کو نئے محاذ پر بھیجنے سے ہچکچاتے تھے اور خاص طور پر ایسی حالت میں جب کہ شام سے طرابلس تک تیزی سے فتوحات کے باعث مفتوحہ علاقوں کی طرف سے ابھی سیدنا عمرؓ بالکل مطمئن نہ ہوئے تھے۔ اس لیے آپؓ نے اسلامی لشکر کو طرابلس میں ٹھہر جانے کا حکم دیا۔ اس طرح سیدنا عمر فاروقؓ کے دور خلافت میں اسلامی سلطنت کا دائرہ دور دراز علاقوں کی سرحدوں کو چھونے لگا۔ اسلامی سلطنت مشرق میں دریائے جیحون اور دریائے سندھ سے لے کرمغرب میں افریقہ کے صحراؤں تک اور شمال میں ایشیائے کوچک کے پہاڑوں اور آرمینیہ سے لے کر جنوب میں بحر الکاہل اور نوبہ تک ایک عالمی ملک کی شکل میں دنیا کے نقشہ پر نمودار ہوئی، جس میں مختلف اقوام، ادیان وملل اور تہذیب و تمدن نے زندگی پائی اور سب نے اسلام کے سایۂ عدل و رحمت میں امن وسکون کی زندگی گزاری۔ وہ دین اسلام جس نے اپنے عقائد و عبادات اور تہذیب و تمدن کے مخالفین کو ہزاروں مخالفتوں کے باوجود اس دنیا میں مکمل حقوق عطا کیے اور ان کی زندگی کا پورا پورا احترام کیا۔
(الدولۃ الإسلامیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین صفحہ 231)