فصل:....بارہ آئمہ کے خصائص پر رافضی کا کلام - ردِ رافضیت |…

فصل:....بارہ آئمہ کے خصائص پر رافضی کا کلام

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 11 از 13

توپھر اس صلح میں کونسی ایسی فضیلت تھی جس پر رافضہ ان کی تعریف و ثنا بیان کرتے ہیں ۔بلکہ زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا کہ آپ کو کمزوری کی وجہ سے جنگ کرنے سے معذور سمجھا جاتا۔ جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو صلح کی وجہ سے قابل تعریف سردار قراردیا ہے ‘ عاجز اور معذور نہیں کہا۔حضرت حسن رضی اللہ عنہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی نسبت لڑائی سے نہ ہی عاجز آگئے تھے اور نہ ہی کمزور پڑے تھے۔بلکہ آپ حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر قتال پر قادر تھے ؛ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اس وقت تک جنگ کی حتی کہ آپ کو شہید کردیا گیا۔جوکچھ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے کیا اگر ایسا کرنا افضل اور واجب ہوتا تو پھر حضرت حسن رضی اللہ عنہ اس واجب کو ترک نہ کرتے اور کمزوری کی وجہ سے پیچھے نہ ہٹتے۔اور اگر جوکچھ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے کیا تھا؛ وہی افضل اور زیادہ مناسب تھا تو یہ دلیل ہے کہ جنگ کو ترک کرنا اور صلح کرلینا ہی افضل تھا۔اور جو کچھ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے کیا وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ محبوب اور پسندیدہ تھا۔ اور اللہ تعالیٰ اہل تقو ی مؤمنین کے درجات کو آپس میں ایک دوسرے پر بلند کرتا ہے۔ اوریہ سب کے سب جنت میں ہوں گے۔ رضی اللہ عنہم ۔

پھر اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو امام بنایا تھا ؛ تو پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ان کو امام بنانا کیا معنی رکھتا ہے ؟ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کوامام مقرر کرنا معنی رکھتا ہے ؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ اورحضرت حسین رضی اللہ عنہ اس دنیا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو خوشبودار پھول تھے۔اور یہ بھی ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو ان کے والدین کے ساتھ اپنی چادر میں داخل کیا تھا اور دعائی فرمائی تھی:

’’ اے اللہ ! یہ بھی میرے اہل بیت ہیں ۔ ان سے ناپاکی کو دور کردے ؛ اور انہیں ہر طرح سے پاک کردے ۔‘‘

مباہلہ کے وقت آپ نے ان دونوں کو بھی ساتھ بلایا تھا۔ ان کے فضائل بہت زیادہ ہیں ۔اور آپ اہل ایمان کے بڑے جلیل القدر سرداروں میں سے ہیں ۔باقی رہا یہ دعوی کرناکہ یہ دونوں اپنے زمانے کے سب سے بڑے زاہد اور سب سے بڑے عالم تھے ؛ یہ دعوی بغیر دلیل کے ہے۔

[رافضی کا دعوی جہاد]

[اشکال ]: رافضی کا کہنا ہے : ’’ ان دونوں نے اللہ کی راہ میں حق کیساتھ جہاد کیاحتی کہ شہید کردیے گئے ۔‘‘ 

[جواب]: ان دونوں کے متعلق یہ دعوی جھوٹ ہے۔کیونکہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ یہ تمام معاملات حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو تفویض کرکے خود کنارہ کش ہوگئے تھے۔اس کے ساتھ ہی عراقی لشکر بھی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ چلے گئے ۔ آپ جنگ و قتال کو ہر گز پسند نہیں کرتے تھے یہ بات آپ کی سیرت سے صاف ظاہر ہے۔ 

آپ کی موت کے بارے میں بھی اختلاف ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ کو زہر دیکر مارا گیا۔یہی آپ کی شہادت اور آپ کے حق میں کرامت ہے۔لیکن آپ کی موت قتال کرتے ہوئے نہیں آئی۔

حضرت حسین رضی اللہ عنہ بھی جنگ و قتال کے لیے نہیں نکلے تھے۔ آپ کا خیال تھا کہ لوگ آپ کی اطاعت کریں گے۔ جب آپ نے دیکھا کہ لوگ آپ سے منہ موڑ چکے ہیں تو آپ نے تین مطالبات کیے :

۱۔ آپ کو واپس اپنے وطن جانے دیا جائے۔

۲۔ آپ کو محاذ جنگ پر جانے دیا جائے تاکہ دشمن سے جہاد کرسکیں ۔

۳۔ یا پھر آپ کو یزید کے پاس پیش ہونے دیا جائے۔

پس ان ظالموں نے ان تینوں میں سے ایک بات بھی نہ مانی ؛ بلکہ آپ سے گرفتاری پیش کرنے مطالبہ کیا تاکہ آپ کو قیدی بناکر یزید کے سامنے پیش کیاجائے۔ آپ نے ایسا کرنے سے انکار کردیا ‘ یہاں تک لڑتے ہوئے مظلومیت کے ساتھ شہید ہوگئے۔لیکن شروع میں آپ کا ارادہ ہر گز جنگ کرنے کا نہیں تھا۔

[اشکال ]:رافضی کا کہنا کہ : ’’ آپ فاخرانہ لباس کے نیچے اونی لباس پہنا کرتے تھے ۔‘‘ 

[جواب]:یہ قول بھی بالکل ویسے ہی ہے جیسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ آپ ایک رات میں ایک ہزار رکعت پڑھا کرتے تھے۔ اس میں کوئی فضیلت نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک سفید جھوٹ ہے۔اس لیے کہ کاٹن کے فاخرانہ لباس کے نیچے اونی لباس پہننے میں اگر کوئی فضیلت ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ضرور اپنی امت کی اس طرف رہنمائی فرماتے ۔ یا آپ خود ایسا کرتے ؛ یا پھر ایسا کرنے کا حکم دیتے ؛ یا پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ کے عہد مبارک میں ایسا کیا ہوتااور آپ نے اسے برقرار رکھا ہوتا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا ؛ اورنہ ہی ایسا کرنے کا حکم دیا؛ اور نہ ہی آپ کے عہد مبارک میں صحابہ کرام میں سے کسی ایک نے ایسے کیا۔تو ظاہر ہوا کہ اس فعل میں فضیلت کا کوئی پہلو نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سفر میں اپنے عام لباس کے اوپر اونی جبہ پہنا تھا۔صرف اونی جبہ پہننے میں کوئی فضیلت نہیں ہے اور نہ ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرف ہماری رہنمائی فرمائی ہے۔حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے کہا گیا : کچھ لوگ اونی لباس پہنتے ہیں ‘ اور کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اونی لباس پہنا کرتے تھے ۔ تو آپ نے فرمایا: ہمارے لیے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ دوسروں کے طریقوں سے بڑھ کر محبوب اور پسندیدہ ہے۔

علمائے کرام رحمہم اللہ کے مابین اختلاف ہے کہ کیااقامت کی حالت میں بغیر ضرورت کے اونی لباس پہننا مکروہ ہے یا نہیں ؟ جب کہ سفر میں اونی لباس پہننا اچھی بات ہے‘ اس لیے کہ سفر میں اس کی ضرورت ہوتی ہے۔

صفحہ 11 از 13