فصل:....بارہ آئمہ کے خصائص پر رافضی کا کلام - ردِ رافضیت |…

فصل:....بارہ آئمہ کے خصائص پر رافضی کا کلام

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 12 از 13

پھر اگر مان لیا جائے کہ اونی لباس پہننا اطاعت گزاری اور قربت کاکام ہے۔توپھر اس صورت میں اونی لباس کو تواضع کے اظہار کے لیے فاخرانہ لباس کے نیچے چھپا کر پہننے کے بجائے اس کے اوپر پہننا افضل اور بہتر تھا۔ اس لیے کہ اندر میں اونی لباس پہننے میں صرف نفس کے لیے بلا فائدہ تکلیف ہے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اسی چیز کا حکم دیا ہے جو ان کے لیے زیادہ نفع بخش اور سہل ہو۔انہیں کسی ایسی چیز کا حکم نہیں دیا جس میں ان کے نفس کے لیے عذاب تو ہو مگر کوئی فائدہ نہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے :

’’ اللہ تعالیٰ انسان کے اس کے نفس کو عذاب دینے سے بے پرواہ و بے نیاز ہے۔ ‘‘[سنن ابي داؤد ۳؍۳۱۹؛ ِکتاب الإیمان ِ والنذورِ، باب من رأی علیہِ کفارۃ إِذا کان فِی معصِیۃ۔ وجاء الحدِیث مختصرا فِی: البخارِی:۸؍۱۴۲؛ کتاب الإیمانِ والنذرِ، باب النذرِ فِیما لا یملِکہ وفِی معصِیۃ۔وجاء مطولا فِی: سننِ التِرمِذِیِ:۳؍۴۶ کتاب الإیمانِ والنذورِ، باب فِیمن یحلِف بِالمشیِ ولا یستطِیع ، المسندِ ط۔الحلبِی: ۳؍۱۰۶۔]

[حضرت ابراہیم اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما ]

[اشکال ]: رافضی مضمون نگار رقم طراز ہے: ’’ایک روز سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھامے ہوئے تھے آپ کا لخت جگر ابراہیم رضی اللہ عنہ گود میں تھا، اسی اثناء میں حضرت جبریل تشریف لائے اور کہا کہ اللہتعالیٰ حسین و ابراہیم کو جمع نہیں ہونے دے گا، اس لیے آپ جس کو چاہیں پسند فرمائیں ، آپ نے فرمایا: حسین رضی اللہ عنہ کی موت کی صورت میں علی و فاطمہ اور میں تینوں روئیں گے اور اگر ابراہیم موت سے ہم کنار ہوا تو میں اکیلا آہ و بکا میں مبتلا ہوں گا، اس لیے میں ابراہیم کی موت کو ترجیح دیتا ہوں ۔‘‘ چنانچہ تین دن کے بعد ابراہیم فوت ہوگئے۔اور اس کے بعد جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ تشریف لاتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے :’’ مرحباً اور خوش آمدید جس کے بدلے میں نے اپنے بیٹے ابراہیم کا فدیہ پیش کیا ہے ۔‘‘

[جواب]: ہم کہتے ہیں : یہ روایت کسی بھی قابل اعتماد اہل علم نے نقل نہیں کی۔نہ ہی اس کی کوئی معروف سند ہے؛اورنہ ہی معروف کتب حدیث میں اس روایت کا کوئی نام و نشان ملتا ہے۔اس حکایت کو نقل کرنے والے نے اس کی کوئی سند ذکر نہیں کی اورنہ ہی اسے کسی معروف کتاب کی طرف منسوب کیا ہے۔ بلکہ شیعہ مصنف نے اپنی عادت کے مطابق ایک بے سند بات کی ہے اور بہت گھٹیا قسم کا جھوٹ بولاہے۔ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ منقولات میں سچی اور جھوٹی روایت میں فرق اس کی اسناد کی بنا پر ہوتا ہے ۔ورنہ یہ بھی محض ایک جھوٹا دعوی ہے ؛کئی ایک لوگوں نے اس طرح کے دیگر بھی دعوے کر رکھے ہیں۔

پھر اس سے یہ بھی کہا جائے گا کہ:اس روایت کے جھوٹ ہونے پر تمام محدثین کا اتفاق ہے۔

اس قسم کی باتیں جاہل لوگ کیا کرتے ہیں ، بھلاحضرت ابراہیم و حسین رضی اللہ عنہما کو جمع کرنے میں کونسا نقصان ہے جو حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو جمع کرنے میں نہیں ۔ اگر حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کی موت ابراہیم کی موت سے بڑھ کر تھی تو پھر حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی زندگی بھی ان سے بہت زیادہ بڑھ کر ہوتی۔ حالانکہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ زندہ رہے ۔

نیز یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حق باقی لوگوں کے حق سے بہت زیادہ اور بڑھ چڑھ کر ہے ۔اور حضرت علی رضی اللہ عنہ جانتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنی جان سے بڑھ کر محبوب ہیں ۔ اور آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی جان سے بڑھ کر محبت کرتے تھے۔ تو اس صورت میں اگر حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ مر جاتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ اس سے بہت زیادہ روتے جتنا وہ اپنے بیٹے حضرت حسین رضی اللہ عنہ پر روتے۔ ہاں اگر یہ کہا جائے کہ بیٹے کی محبت طبعی ہوتی ہے ؛ جس کو ختم کرنا ممکن نہیں ۔ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہی وصف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں موجود ہے۔ جب ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو آپ فرما رہے تھے :

’’آنکھ رو رہی ہے ۔ دل غمگین ہے ۔ اور ہم زبان سے صرف وہی کہیں گے جس سے ہمارا اللہ راضی ہوجائے۔ اے ابراہیم! ہم تیری جدائی پر غمگین ہیں ۔‘‘[البخارِیِ:۲؍۸۳؛ ِکتاب الجنائِزِ، باب قولِ النبِیِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم إنا بکِ لمحزونون ۔مسلِم:۴؍۱۸۰۷؛ ِکتاب الفضائِلِ، باب رحمتِہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم الصِبیان والعِیال وتواضعِہ، سنن أبِی داود:۳؍۲۶۲؛ ِکتاب الجنائِزِ، باب فِی البکائِ علی المیِتِ، وعن أسماء بِنتِ یزِید حدِیث مقارِب فِی المعنی فِی: سننِ ابنِ ماجہ:۱؍۵۰۶؛ کتاب الجنائِزِ، باب ما جاء فِی البکائِ علی المیِتِ۔]

یہ تو صحیح احادیث میں ثابت ہے ۔ پھر ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ آپ نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی جگہ اپنے بیٹے کی قربانی پیش کی ؛ اور ان کی جگہ اپنے بیٹے کی موت کو اختیار کیا؟

پھر کیا یہ بھی جائز ہے کہ ایک معصوم انسان کے بدلے کسی دوسرے معصوم کے خون کا بدلہ پیش کیا جائے؟

اگر ایسا کرنا جائز ہوتا تو اس کا الٹ کرنا زیادہ مناسب تھا۔ اس لیے کہ اگر کسی انسان کے پاس کچھ بھی نہ ہو صرف اتنا خرچہ ہو جو یا تو اپنے بیٹے پر خرچ کرے یا پھر اپنے نواسے وغیرہ پر خرچ کرے؛ تو باتفاق مسلمین اس پر اپنے بیٹے پر خرجکرنا واجب ہوتا ہے۔ اس اصول کے پیش نظر اگر واقعی ایسے ہی ہوتا کہ اپنے بیٹے یا نواسے میں سے کسی ایک کی موت کو اختیار کیا جائے تو آپ کو چاہیے تھا کہ اپنے بیٹے کا خیال رکھتے۔ خصوصاً جب کہ شیعہ کے ہاں اصل تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت ہے۔ اور حضرت علی اور حضرات حسن و حسین رضی اللہ عنہم کے بڑے فضائل میں سے ایک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت کو شمار کرتے ہیں ۔

صفحہ 12 از 13