فصل:....بارہ آئمہ کے خصائص پر رافضی کا کلام - ردِ رافضیت |…

فصل:....بارہ آئمہ کے خصائص پر رافضی کا کلام

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 13 از 13

یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ باقی لوگوں کی نسبت بیٹے کا رشتہ زیادہ قریبی ہوتا ہے۔تو پھر دور کے رشتہ کو قریبی رشتہ پر مقدم کیسے کیا جاسکتاہے ؟ جب کہ فضیلت اور خصوصیت توقرابت میں ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کے ہونے کو تسلیم کرلیا جاتا تو پھر آپ کے بعد ابراہیم رضی اللہ عنہ زندہ رہتے۔ دوسرے لوگوں نے حضرت انس کے ساتھ اس مسئلہ میں اختلاف کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا آپ کے بعد بھی کسی نبی کو پیدا کرنے کا ارادہ ہوتا تو اس کے لیے ضروری نہیں تھا کہ ابراہیم ہی نبی ہوتا۔

پھر یہ کہ حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا فدیہ کیوں قرار پائے حضرت حسن رضی اللہ عنہ یہ فدیہ کیوں نہیں بنے ؟ جب کہ احادیث میں واضح دلالت موجود ہے کہ ان دونوں بھائیوں میں سے حضرت حسن رضی اللہ عنہ افضل تھے۔ اس پر تمام شیعہ اور اہل سنت کا اتفاق ہے ۔ صحیح بخاری کی حدیث میں ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا کرتے تھے :

’’ اے اللہ ! میں اس سے محبت کرتا ہوں ‘ تو بھی اس سے محبت کر ؛ اور اس سے بھی محبت کر جو کوئی اس سے محبت کرے ۔‘‘[البخارِی:۷؍۱۵۹؛ کتاب اللِباسِ، باب السِخابِ لِلصِبیان۔ مسلِم: ۴؍۱۸۸۳؛ کتاب فضائِلِ الصحابۃِ، باب فضائِلِ الحسنِ والحسینِ رضی اللہ عنہما ، سننِ ابنِ ماجہ:۱؍۵۱المقدِمۃ، باب:۱۱، المسندِ ط۔المعارِف: ۱۳؍ ۱۲۹، المسندِ ط۔ الحلبِی: ۲؍۳۳۱۔]


صفحہ 13 از 13