فصل:....بارہ آئمہ کے خصائص پر رافضی کا کلام - ردِ رافضیت |…

فصل:....بارہ آئمہ کے خصائص پر رافضی کا کلام

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 13

’’ یا اللہ ! تو میرا رب ہے جب مجھے پانی کے لیے پیاس محسوس ہو ‘ اور تو ہی میرا کھانا ہے جب مجھے کھانے کی حاجت ہو۔‘‘اے میرے آقا! میرے لیے اس کے سوا کوئی نہیں ۔ شقیق بلخی کہتے ہیں : ’’ اللہ کی قسم ! میں نے دیکھا کنوئیں کا پانی بلند ہوا؛ آپ نے چھاگل لیا؛ اور اسے بھر لیا؛ پھر وضوء کرکے چار رکعت نماز پڑھی۔ پھر وہاں پر ایک ریت کے ٹیلے کے پاس چلے گئے آپ ایک ایک مٹھی [ریت ] بھرکر چھاگل میں ڈالتے اور اس سے پیتے جاتے ۔میں نے کہا: جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے فضل سے دیاہے ‘ اور جو آپ پر انعام کیا ہے ؛ اس میں سے مجھے بھی کچھ کھلا دیجیے۔آپ نے فرمایا: ’’ اے شقیق! ہم پر ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی ظاہری و باطنی نعمتیں جاری و ساری رہی ہیں ۔ اپنے رب سے اچھا گمان رکھیں ۔ پھر آپ نے مجھے وہ چھاگل پکڑا دیا۔میں نے جب اس میں سے پیا تو دیکھا کہ وہ ستو اور شکر تھا۔اللہ کی قسم ! میں نے اس سے میٹھا اور خوشبودارکبھی بھی نہیں پیا۔ میں نے خوب سیر ہوکر پیا ۔ پھر میں کئی دن ایسے ہی رہا ۔ نہ ہی مجھے کھانے کی خواہش ہوتی اور نہ ہی پیاس لگتی۔پھر میں نے آپ کو نہیں دیکھا یہاں تک کہ مکہ مکرمہ میں داخل ہوگئے۔ پھر ایک رات میں نے آپ کو میزاب کے قریب قبہ کے پاس دیکھا۔ آپ آدھی رات میں خشوع و خضوع کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے اور رو رہے تھے۔آپ ساری رات ایسے ہی روتے رہے ۔جب صبح طلوع ہوگئی تو آپ اپنی نماز کی جگہ پر بیٹھ گئے اور تسبیح میں مشغول ہوگئے۔پھر آپ نماز فجر کے لیے کھڑے ہوگئے۔ اور اس کے بعد بیت اللہ کے سات چکر لگائے۔ پھر آپ باہر نکل گئے تو میں بھی آپ کے پیچھے چل پڑا۔ میں نے دیکھا کہ آپ کے اموال سازو سامان اور غلام ہیں ۔ اب آپ کی وہ حالت نہیں تھی جو میں نے راستہ میں دیکھی تھی۔ لوگ آپ کے گرد گھوم رہے ہیں ‘ اور آپ کو سلام کرتے ہیں ‘ اور تبرک حاصل کرتے ہیں ۔ میں نے ان لوگوں سے کہا ہے : یہ کون ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : ’’ موسی بن جعفر ۔ میں نے کہا: مجھے بھی یہی تعجب ہورہا تھا کہ ایسے عجائب صرف کسی سید سے ہی صادر ہوسکتے ہیں ۔‘‘یہ حنبلی کی روایت ہے ۔

٭ آپ کے ہاتھ پر بشر الحافی نے توبہ کی۔قصہ یہ ہیکہ آپ کا بغداد کے ایک محلے سے گزر ہوا۔ آپ نے ساز و موسیقیاور گانے بجانے کی آوازیں سنی۔اور لوگ ایک گھر سے نکل رہے تھے۔ وہاں سے ایک لونڈی نکلی ۔ اس کے ہاتھ میں کوڑے والا تھیلاتھا۔ وہ اسے لیکر گلی میں سے گزری۔ آپ نے اس لونڈی سے کہا: اے لڑکی! اس گھر والا آزاد ہے یا غلام ؟ اس نے کہا: آزاد ہے ۔ تو آپ نے فرمایا: ’’ تم نے سچ کہا: اگر غلام ہوتا تو اپنے آقا سے ڈرتا۔جب وہ لونڈی واپس گھر میں گئی تو اس کے آقا نے جو کہ اس وقت نشہ کی حالت میں تھا؛ اس سے دیر سے آنے کی وجہ پوچھی ؟ تو اس نے کہا: ایک آدمی نے مجھ سے ایسے ایسے کہا ہے ۔ آپ یہ سن کر ننگے پاؤں موسی بن جعفر کے پیچھے نکل پڑے یہاں تک کہ انہیں جالیا او ران کے ہاتھ پر توبہ کی ۔‘‘ [انتہیٰ کلام الرافضی]

[سلسلہ جوابات]: ان باتوں کا جواب کئی طرح سے دیا جاسکتا ہے : 

پہلا جواب:....ہم شیعہ کا یہ دعویٰ تسلیم نہیں کرتے کہ انہوں نے یہ مذہب اہل بیت سے اخذ کیاہے؛نہ ہی اثنا عشریہ نے اور نہ ہی کسی دوسرے نے۔ کیونکہ شیعہ جن اصولوں میں بھی اہل سنت سے متفرق ہوئے ہیں ان تمام اصولوں اور فروعات میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ائمہ اہل بیت کی مخالفت کرتے ہیں ؛ جیسے توحید ؛ عدل اور امامت ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ائمہ اہل بیت صفات الٰہی اور تقدیر کا اثبات کرتے ؛خلفاء ثلاثہ کی خلافت اور حضرت ابو بکرو عمر رضی اللہ عنہما کی فضیلت کے قائل ہیں ۔ اسی طرح دیگر بھی کئی ایک مسائل ہیں جن میں رافضی مذہب تناقض کا شکار ہے؛جوکہ اہل علم کی کتابوں میں منقول موجود ہیں اس باب میں ائمہ اہل بیت سے منقول علوم کی معرفت سے پتہ چلتا ہے کہ رافضی اہل بیت کے مخالف ہیں موافق نہیں ہیں ۔

دوسرا جواب:....اس سے کہا جائے گا کہ : یہ بات معلوم شدہ ہے کہ رافضیوں کے مابین امامت؛ صفات الٰہیہ اور تقدیراورکئی ایک اصول دین کے مسائل پر بہت بڑا اختلاف پایا جاتا ہے۔ تو پھر ان میں سے کون سا قول اہل بیت سے ماخوذ ہے۔یہاں تک کہ مسئلہ امامت میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے اور اس باب میں ان کا اضطراب و اختلاف بڑا مشہور ہے۔

صفحہ 3 از 13