فصل:....بارہ آئمہ کے خصائص پر رافضی کا کلام - ردِ رافضیت |…

فصل:....بارہ آئمہ کے خصائص پر رافضی کا کلام

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 13

۲۔ جہاں تک آیت تطہیر کی تعلق ہے ؛ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :﴿ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیْرًا﴾ ’’اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ اے نبی کی گھر والیو! تم سے وہ(ہر قسم کی)گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے۔‘‘کا تعلق ہے اس میں نجاست کو دور کرنے کی خبر نہیں دی گئی، بلکہ پاکیزگی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے جیسے درج ذیل آیت میں ہے:

﴿ مَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیَجْعَلَ عَلَیْکُمْ مِنْ حَرَجٍ وَلٰکِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَہِّرَکُمْ ﴾ (المائدۃ : ۶)

’’اللہ تعالیٰ تمہیں تکلیف میں مبتلا نہیں کرنا چاہتا بلکہ پاک کرنا چاہتا ہے۔‘‘

نیز فرمایا:﴿یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُبَیِّنَ لَکُمْ وَ یَہْدِیَکُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَ یَتُوْبَ عَلَیْکُمْ وَ اللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌo وَ اللّٰہُ یُرِیْدُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْکُمْ وَ یُرِیْدُ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الشَّہَوٰتِ اَنْ تَمِیْلُوْا مَیْلًا عَظِیْمًاo یُرِیْدُ اللّٰہُ اَنْ یُّخَفِّفَ عَنْکُمْ وَ خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا ﴾ (النساء:۲۶۔ ۲۸)

’’اللہ تعالی چاہتا ہے کہ تمہارے واسطے خوب کھول کر بیان کرے اور تمہیں تم سے پہلے کے (نیک) لوگوں کی راہ پر چلائے اور تمہاری توبہ قبول کرے اور اللہ تعالیٰ جاننے والا حکمت والا ہے۔اور اللہ چاہتا ہے کہ تمہاری توبہ قبول کرے اور جو لوگ خواہشات کے پیرو ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم اس سے بہت دور ہٹ جاؤ۔ اللہ چاہتا ہے کہ تم پر تخفیف کر دے اور انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے ۔‘‘

مذکورۃ الصدرآیات میں ارادہ کا لفظ حکم دینے اور محبت و رضا کے معنوں میں استعمال اس کا ہوا ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جس بات کا ارادہ کیا تھا اسے عملی جامہ پہنا دیا۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ جس کی تطہیر کا ارادہ کرتے وہ پاک و صاف ہوجاتا۔ ہمارے معاصر شیعہ کے قول کے مطابق آیت کا مطلب بالکل واضح ہے۔ ہمارے زمانہ کے شیعہ معتزلہ کے ہم خیال ہیں اور ان کی ہم نوائی میں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایسی باتوں کا ارادہ بھی کرتا ہے، جو عالم وجود میں نہیںآتیں ،اور ایسی باتیں بھی وجود میں آجاتی ہیں ‘ جن کا اللہ تعالیٰ کوئی ارادہ نہیں کرتا۔ ان کے خیال میں آیت قرآنی اسی قبیل سے ہے:

﴿ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیْرًا﴾ (الاحزاب ۳۳)

’’اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ اے نبی کے گھر والیو! تم سے وہ(ہر قسم کی)گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے۔‘‘

آیت تطہیرکا مطلب یہ ہے کہ اگر اہل بیت شرعی اوامر و احکام پر عمل پیرا ہوں گے اور محرمات سے باز رہیں گے تو ان کو پاک کر دیا جائے گا۔اگر ایسا نہیں کریں گے تو انہیں پاک نہیں کیا جائے گا۔ان لوگوں [معتزلہ اور شیعہ قدریہ] کایہ بھی کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے افعال کا خالق نہیں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ان کو پاک کرنے اور ان سے نجاست کے دور کرنے پر قادر نہیں ہے۔ جب کہ تقدیر کا اثبات کرنے والے کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ ان تمام امور پر قادر ہے۔جب اللہ تعالیٰ انہیں افعال کا بجالانا اور ممنوعات کا ترک کرنا الہام کردے تو ان کے لیے پاکی حاصل ہوجائے گی؛ اور ان سے نجاست ختم کردی جائے گی۔

گویا ان کی تطہیر ان کے اپنے ارادوں اور افعال سے وابستہ ہے۔ وہ دلیل جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ بالا آیت امر ہے خبر نہیں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث ہے کہ آپ نے حضرت علی ، فاطمہ، اور حسن و حسین رضی اللہ عنہم کو چادر میں چھپا لیا، اور فرمایا:

’’ اے اللہ ! یہ بھی میرے اہل بیت ہیں تو ان سے بھی نجاست کو دور کر کے ان کو پاک کر دے۔‘‘ [صحیح مسلم۔ کتاب فضائل الصحابۃ باب فضائل اھل بیت النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم (ح:۲۴۲۴) عن عائشہ ، رضی اللّٰہ عنہا ، و مسند احمد (۶؍۲۹۲) سنن ترمذی۔ کتاب المناقب۔ باب ما جاء فی فضل فاطمۃ رضی اللّٰہ عنہا (ح:۳۸۶۷)و عن ام سلمۃ رضی اللّٰہ عنہا۔ کتاب تفسیر القران۔ باب و من سورۃ الاحزاب(ح:۳۲۰۵،۳۷۸۷) عن عمر بن ابی سلمۃ رضی اللّٰہ عنہ )]

[اس حدیث سے پتہ چلا کہ اللہ تعالیٰ نجاست کو دور کرنے اور پاک و صاف کرنے پر قادر ہے۔ نیز معتزلہ کے عین برخلاف یہ بھی ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ افعال العباد کا خالق ہے، مندرجہ ذیل آیت سے یہ بھی امر مستفاد ہوتا ہے، کہ مذکورۃ الصدرآیت میں حکم دیا گیا ہے، خبر نہیں بیان کی گئی]۔

یہ حدیث دو وجوہات کی بناپر ردرافضیت پر دلالت کرتی ہے :

پہلی وجہ:....نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طہارت اور پاکیزگی کے لیے دعا فرمائی ہے ؛ یہ دلیل ہے کہ ان لوگوں کو پاک کرنے کی ابھی تک خبر نہیں دی گئی تھی۔اگر ایسے ہی ہوتا تو پھر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی جاتی اور اس کا شکر بجا لایا جاتا۔محض دعاء پر اکتفاء نہ کیا جاتا۔

دوسری وجہ:....یہ دعا دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں پاک کرنے اور ان سے ناپاکی کے ختم کرنے پر قادر ہے۔اس میں یہ دلیل بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے افعال کاخالق ہے۔اس آیت کے سیاق سے ظاہر ہوتاہے کہ آیت کریمہ امر و نہی کو متضمن ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

صفحہ 5 از 13