فصل:....بارہ آئمہ کے خصائص پر رافضی کا کلام - ردِ رافضیت |…

فصل:....بارہ آئمہ کے خصائص پر رافضی کا کلام

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 6 از 13

﴿یٰنِسَآئَ النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْکُنَّ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ یُّضٰعَفْ لَہَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِ وَ کَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرًا o وَ مَنْ یَّقْنُتْ مِنْکُنَّ لِلّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ وَ تَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِہَآ اَجْرَہَا مَرَّتَیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَہَا رِزْقًا کَرِیْمًا o یٰنِسَآئَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآئِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِہٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا o وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّۃِ الْاُوْلٰی وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتِیْنَ الزَّکٰوۃَ وَ اَطِعْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیْرًا o وَاذْکُرْنَ مَا یُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِکُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ وَ الْحِکْمَۃِ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًاo﴾ (الاحزاب:۳۰۔۳۳)

’’اے نبی کی بیویو! تم میں سے جو بھی کھلی بے حیائی(کا ارتکاب)کرے گی اسے دوہرا دوہرا عذاب دیا جائے گا ۔ اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بہت ہی سہل(سی بات)ہے۔اور تم میں سے جو کوئی اللہ کی اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرے گی اور نیک کام کرے گی ہم اسے اجر(بھی)دوہرا دیں گے اور اس کے لئے ہم نے بہترین روزی تیار کر رکھی ہے۔اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم پرہیزگاری اختیار کرو تو نرم لہجے سے بات نہ کرو کہ جس کے دل میں روگ ہو وہ کوئی برا خیال کرے اور ہاں قاعدے کے مطابق کلام کرو۔اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ کا اظہار نہ کرو اور نماز ادا کرتی رہو اور زکوٰۃ دیتی رہو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت گزاری کرو۔اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ اے نبی کی گھر والیو! تم سے وہ(ہر قسم کی)گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے۔اور تمہارے گھروں میں اللہ کی جو آیتیں اور رسول کی جو احادیث پڑھی جاتی ہیں ان کا ذکر کرتی رہویقیناً اللہ تعالیٰ مہربانی کرنے والا خبردار ہے۔‘‘

اس سیاق و سباق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں امر و نہی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات اہل بیت میں شامل ہیں ۔کیونکہ آیت کے سیاق میں ان سے ہی خطاب کیا گیا ہے۔اورآیت میں ضمیرخطاب ﴿لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَیْتِ﴾ ضمیر مذکر سے معلوم ہوا کہ ازواج مطہرات کے علاوہ اس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ و فاطمہ رضی اللہ عنہا اور ان کے ابناء و احفاد بھی شامل ہیں ۔ آیت میں جمع مذکرکی ضمیر لائی گئی ہے؛ اس لیے کہ اس میں مذکر و مونث سب شامل ہیں ۔ان ازواج مطہرات کو اہل بیت میں سے ہونے کی وجہ سے خاص کیا گیاہے۔ اسی لیے باقی کے حضرات[علی و فاطمہ اور حسن و حسین رضی اللہ عنہم ]کوچادر کے نیچے داخل کرکے ان کے لیے دعا کی گئی ۔ 

جس طرح مسجد نبوی اور مسجد قبا دونوں کی اساس خلوص و تقویٰ پر رکھی گئی تھی، بلکہ مسجد نبوی اس وصف میں افضل واکمل تھی، جب آیت قرآنی:

﴿لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التَّقْوٰی مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْہِ فِیْہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَہَّرُوْا وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الْمُطَّہِّرِیْنَ ﴾ (التوبہ:۱۰۸)

’’البتہ جس مسجد کی بنیاد اول دن سے تقوی پر رکھی گئی ہے وہ اس لائق ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں اس میں ایسے آدمی ہیں کہ وہ خوب پاک ہونے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ خوب پاک ہونے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘

نازل ہوئی تو مسجد کے لفظ سے مذکورہ دونوں مساجد کو مراد لیا جانے لگا، بلکہ مسجد نبوی اس میں بدرجہ اولی شامل ہے۔پھر علماء کرام رحمہم اللہ کے مابین اختلاف واقع ہوا ہے کہ کیا آپ کی ازواج مطہرات بھی اہل بیت میں شامل ہیں ؟امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے اس بارے میں دو روایتیں منقول ہیں ۔ بروایت صحیح تر منقول ہے کہ ازواج مطہرات اہل بیت میں شامل ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے:

((اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اَزْوَاجِہٖ وَذُرِّیَّاتِہٖ )) [صحیح بخاری کتاب أحادیث الانبیاء باب (۱۰)، (حدیث:۳۳۶۹) ، صحیح مسلم۔ کتاب الصلاۃ۔ باب الصلاۃ علی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم بعد التشھد(حدیث:۴۰۷)]

دوسرے مقام پر یہ درود تفصیل کے ساتھ ہے ۔

جب کہ ان کے غلام اور باندیاں وغیرہ بلا اختلاف اہل بیت میں سے نہیں ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ صدقہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کے لیے مباح تھا۔ ابو رافع رضی اللہ عنہ کا شمار بھی آپ کے موالین میں سے ہوتا ہے۔اسی لیے انہیں صدقہ لینے سے منع کیا گیا؛ اس لیے کہ کسی قوم کے موالی انہی میں سے شمار ہوتے ہیں ۔ ان پر صدقہ حرام ہونے کا سبب بھی ان کو اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے مطابق پاک کرناہے۔ اس لیے کہ صدقہ لوگوں کا میل کچیل ہوتا ہے۔

اسی طرح ان کے لیے وجوب محبت کی تفسیر میں بھی غلطی ہوئی ہے۔صحیح بخاری میں حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کی بابت پوچھا گیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ قُلْ لَا اَسْاَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا اِِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبَی﴾ [الشوری ۲۳]

’’ کہہ دیجئے! کہ میں اس پر تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا مگر محبت رشتہ داری کی ۔‘‘

تو میں نے کہا : اس سے مراد یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے قرابت کا تعلق رکھنے والوں سے محبت کرو ۔‘‘

اس پر حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے : ’’ تم نے بہت جلدی کی۔ قریش کی کوئی بھی شاخ ایسی نہیں ہے جس کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلقِ قرابت داری نہ ہو۔[صحیح بخاری کتاب التفسیر۔ سورۃ الشوری۔ باب قولہ﴿الا المودّۃ فی القربیٰ﴾ (ح:۴۸۱۸)]

صفحہ 6 از 13