فصل:....بارہ آئمہ کے خصائص پر رافضی کا کلام - ردِ رافضیت |…

فصل:....بارہ آئمہ کے خصائص پر رافضی کا کلام

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 7 از 13

بنا بریں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، جس کا مفہوم یہ ہے کہ (اے نبی) آپ فرمائیں کہ میں اس کے سوا تم سے کچھ اجر طلب نہیں کرتا کہ ان قرابت دارانہ تعلقات کی بنا پر جو میرے اور تمہارے درمیان پائے جاتے ہیں تو مجھ سے الفت و محبت کا سلوک روا رکھو۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اہل بیت کے ایک بڑے فرد اور تفسیر قرآن کے علماء میں سے ہیں ۔یہ تفسیر آپ سے ثابت ہے ۔

قابل غور بات یہ ہے کہ مذکورہ آیت میں ’’ اِلَّا الْمَوَدَّۃَ لِذِی الْقُرْبٰی ‘‘کے الفاظ نہیں فرمائے بلکہ یوں فرمایا ’’ فِی الْقُرْبیٰ ‘‘حالانکہ جہاں اقارب مراد لینا مقصود ہوتا ہے وہاںلِذِوی الْقُرْبیٰ ‘‘کی تصریح ہوتی ہے،کیا آپ دیکھتے نہیں ہیں کہ جب اقارب مراد تھے؛ تو یہی الفاظ استعمال کئے ؛ جیسے اس آیت کریمہ میں ہے :

﴿وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّمَا عَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْئٍ فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہٗ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْقُرْبیٰ﴾ (الانفال:۳۱)

’’اور جان لو کہ تمہیں جو کچھ بھی مال غنیمت ملے؛ بیشک اس کا پانچواں حصہ اللہ کے لیے اور اس کے رسول کے لیے اور قریبی رشتہ داروں کے لیے ۔‘‘ [یہاں صراحۃً یہ الفاظ موجود ہیں ۔]

اگریہاں بھی قرابت داروں کی محبت مقصود ہوتی تو ﴿ وَلِذِی الْقُرْبیٰ﴾ : کے الفاظ استعمال کیے جاتے ۔یوں تو بولا ہی نہیں جا سکتا کہ: ﴿ الْمَوَدَّۃَ فِی ذوی الْقُرْبٰی﴾۔ تو پھر یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ ﴿ الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی﴾سے مرادا قرابت داروں کی محبت ہے۔ اس کی مزید وضاحت اس امر سے ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عمل پر کسی قسم کے اجر و بدلہ کے طلب گار تھے ہی نہیں ۔بیشک آپ کا اجر اللہ تعالیٰ پر ہے ۔ اور مسلمانوں پر لازم ہوتا ہے کہ آپ سے اور آپ کے اہل بیت سے موالات اوردوستی رکھیں ؛ لیکن اس کا ثبوت اس آیت سے نہیں دوسری آیات سے ملتا ہے ۔اہل بیت کے ساتھ ہماری دوستی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اجر میں داخل نہیں اس لیے آپ کہ اجر سے بے نیاز تھے اور صرف اللہتعالیٰ سے اجر طلب کیا کرتے تھے۔ 

نیز یہ آیت مکی ہے ؛ اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی ہی نہیں ہوئی تھی؛ اورنہ ہی اس وقت میں ان کی کوئی کسی قسم کی اولاد تھی۔

باقی رہا آیت مباہلہ کا معاملہ ۔ صحیح بخاری میں ہے جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی اور حضرت فاطمہ اور حسن و حسین رضی اللہ عنہم کے ہاتھ پکڑ لیے تاکہ ان سے مباہلہ کریں ۔[صحیح مسلم ۴؍۱۸۷۱۔ والترمذي ۴؍۲۹۳۔] انہیں خاص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ دوسرے لوگوں کی نسبت آپ کے زیادہ قریبی تھے۔اور آپ کی کوئی نرینہ اولاد بھی نہ تھی جس کو آپ ساتھ لیکر مباہلہ کے لیے چلتے ۔لیکن آپ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں ارشاد فرمایا کرتے تھے : میرا یہ بیٹا سردار ہوگا۔‘‘پس یہ دونوں اور آپ کے بیٹے اور عورتیں مباہلہ کے لیے چلے۔ اس لیے کہ اس وقت تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باقی بیٹیاں وفات پاچکی تھیں ۔ مباہلہ کا قصہ اس وقت کا ہے جب نجران کا وفد حاضر خدمت ہوا تھا۔ یہ لوگ عیسائی تھے۔یہ فتح مکہ کے بعد سنہ ۹ہجری کا قصہ ہے۔ اسی بارے میں سورت آل عمران کے شروع کی آیات نازل ہوئیں ۔ اسی سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حج فرض کیاگیا۔اس سال کو وفود کا سال بھی کہا جاتا ہے ۔ جب سن آٹھ ہجری میں مکہ مکرمہ فتح ہوا تو ہر طرف سے وفود آنے شروع ہوگئے۔ یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کمالِ تعلق و صلہ پر دلالت کرتی ہے۔جیسا کہ اس قسم کی دلالت حدیث کساء میں بھی ہے۔ لیکن اس آیت کاتقاضا یہ بھی نہیں ہے کہ ان سے بڑھ کر کوئی بھی دوسرا افضل یا بڑا عالم نہ ہو۔ اس لیے کہ فضیلت کمال ایمان اور تقوی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ نہ کہ نسبی قرابت کی وجہ سے ۔ جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے:

﴿ اِِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ﴾ [الحجرات۱۳]

’’ بیشک اللہ کے ہاں تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے ؛ جوتم میں سے بڑا متقی ہو۔‘‘

اور یہ بات ثابت شدہ ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اس امت میں سب سے بڑے متقی اور کتاب و سنت کے بڑے عالم تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تواتر کے ساتھ منقول ہے آپ نے فرمایا:

’’ اگر میں نے اہل زمین میں سے کسی کو اپنا دوست بنانا ہوتا تو میں ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اپنا دوست بناتا۔‘‘[البخاري ۱؍۸۶۔ ومسلم ۴؍۱۸۵۴۔]

یہ مسئلہ دوسری جگہ پر پوری تفصیل کے ساتھ بیان ہو چکا ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ایک ہزار رکعات؟:

[اشکال ]: شیعہ مصنف کا یہ دعویٰ کہ:’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ شب و روز میں ایک ہزار رکعات پڑھا کرتے تھے۔‘‘

[جواب]: ایسا کہنا درست نہیں ۔ یہ دعوی مصنف کی جہالت اور حقائق سے لاعلمی پر دلالت کرتاہے۔

پہلی بات :....[یہ کہنا کہ ]آپ ایک را ت میں ایک ہزار نفل پڑھا کرے تھے ۔یہ کوئی فضیلت نہیں ہے ۔ اس کے عین بر خلاف صحیحین میں ثابت ہے کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم رات بھر میں ۱۳ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھا کرتے تھے۔[البخاري ۲؍۵۱؛ مسلم ۱؍۵۰۸۔]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا:

’’ سب سے بہترین قیام حضرت داؤد علیہ السلام کا تھا۔ آپ آدھی رات تک سوئے رہتے ۔ پھر ایک تیسرا حصہ قیام فرماتے ۔ اور پھر رات کا چھٹا حصہ سو جاتے۔‘‘[مسلم ۲؍۸۱۶۔ البخاري ۴؍۱۶۱؛ کِتاب الأنبِیائِ: باب: أحب الصلاِۃ ِإلی اللہِ صلاۃ داود ونصہ: أحب الصِیامِ إِلی اللہِ صِیام داود، کان یصوم یوما ویفطِر یوما، وأحب الصلاِۃ إِلی اللہِ صلاۃ داود، کان ینام نِصف اللیلِ ویقوم ثلثہ، وینام سدسہ۔]

نیز یہ بھی ثابت ہے کہ آپ صبح کو مرغ کی آذان سننے کے بعد بیدار ہوا کرتے تھے۔ اور یہ بھی ثابت ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ لوگوں کے بارے میں خبر ہوئی کہ:

صفحہ 7 از 13