فصل:....بارہ آئمہ کے خصائص پر رافضی کا کلام - ردِ رافضیت |…

فصل:....بارہ آئمہ کے خصائص پر رافضی کا کلام

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 8 از 13

’’ ایک نے کہا میں رات بھر نماز پڑھا کروں گا، دوسرے نے کہا میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا، تیسرے نے کہا میں نکاح نہیں کروں گا اور عورت سے ہمیشہ الگ رہوں گا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : کیا تم لوگوں نے یوں یوں کہا ہے؟ اللہ کی قسم! میں اللہ تعالیٰ سے تمہاری بہ نسبت بہت زیادہ ڈرنے والا اور خوف کھانے والا ہوں ، پھرمیں روزہ رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں ، نماز پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں ، اور ساتھ ساتھ عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں ، یاد رکھو جو میری سنت سے روگردانی کرے گا، وہ میرے طریقے پر نہیں ۔‘‘[صحیح بخاری۔ کتاب التہجد۔ باب کیف صلاۃ النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم (ح:۱۱۳۸، ۱۱۴۰)، صحیح مسلم۔ کتاب صلاۃ المسافرین۔ باب صلاۃ اللیل (ح:۷۳۷،۷۳۸، ۷۶۴)]

آپ صلی اللہ علیہ وسلم ساری رات کے قیام کو ناپسند فرماتے تھے۔ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہہ رہے ہیں : میں دن کو روزہ رکھا کروں گا اور رات کو قیام کیا کروں گا تو آپ ان سے یوں مخاطب ہوئے:

’’ ایسا نہ کرنا۔اگر تم ایسا کرو گے توتیری آنکھوں میں گڑھے پڑ جائیں گے اور بدن کمزور ہو جائے گا۔ اور بیشک تیرے رب کا تجھ پر حق ہے ‘ اور تمہاری جان کا تم پر حق ہے؛ تمہاری ملاقات کے لیے آنے والے کا تم پر حق ہے۔ اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے۔پس ہر حق دار کو اس کا حق ادا کرو۔‘‘ [صحیح بخاری کتاب الصوم۔ باب حق الجسم فی الصوم، (حدیث:۱۹۷۵) صحیح مسلم۔ کتاب الصیام، باب النہی عن صوم الدھر،(حدیث:۱۱۵۹)]

پس ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ساری ساری رات عبادت کرنا مستحب یا پسندیدہ نہیں ہے۔بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت سنتوں کی روشنی میں ایسا کرنا مکروہ ہے۔ ایسے ہی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے روزہ رکھنے کا حکم بھی ہے۔بیشک افضل ترین روزے حضرت داؤد علیہ السلام کے روزے تھے ۔ آپ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کیا کرتے تھے۔

احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شب و روز میں تقریباً چالیس رکعات پڑھا کرتے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق کار سے بخوبی آگاہ تھے،اور بڑھ چڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی پابندی کرنے والے تھے ۔ آپ سے سنت کی مخالفت ممکن ہی نہیں ۔ پھر اس حد تک وہ آپ کی مخالفت کیوں کر کر سکتے تھے، بشرطیکہ ایک ہزار رکعات ادا کرنا ممکن بھی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ دیگر واجبات کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ ایک ہزار رکعات پڑھنا ممکن ہی نہیں ۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان مختلف قسم کے مشاغل میں گھرا رہتا ہے، جسم کی راحت و آرام سونا، کھانا پینا، وضو کرنا، وظیفہ زوجیت ادا کرنا، اہل و عیال کی دیکھ بھال کرنا، رعیت کے امور سے عہدہ بر آہونا، غرض یہ کہ دسیوں قسم کے لوازمات ہیں جن پربلا مبالغہ انسان کا نصف وقت صرف ہوجاتا ہے، ایک گھنٹہ میں اسی رکعات ادا نہیں کی جا سکتیں ، بجز اس کے کہ صرف سورہ فاتحہ پڑھی جائے اور وہ بھی بلا سکون و اطمینان کوے کی طرح ٹھونگیں ماری جائیں ۔ہمارے نزدیک حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مرتبہ اس سے کہیں بلند ہے کہ آپ نماز میں منافقوں کی طرح ٹھونگے مارنے لگیں اور اللہ کو بہت کم یاد کریں ، جیسا کہ بخاری و مسلم کی روایت میں مذکور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ یہ منافق کی نماز ہے کہ سورج کو بیٹھے دیکھتا رہتا ہے جب وہ شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان میں ہوتا ہے تو کھڑا ہو کر چار ٹھونگیں مارنے لگ جاتا ہے اس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کرتا مگر بہت تھوڑا۔‘‘ [صحیح مسلم:ح۱۴۰۷؛ کتاب المساجِدِ ومواضِعِ الصلاِۃ فِیہا، باب استِحبابِ التبکِیرِ بِالعصرِ سننِ ابِی داود:۱؍۱۶۷، کتاب الصلاِۃ، باب فِی صلاِ ۃ العصرِ، سننِ التِرمِذِیِ:۱؍۱۰۷؛ِکتاب الصلاِۃ، باب ما جاء فِی تعجِیلِ العصرِ؛ سننِ النسائِیِ: ۱؍۲۰۳؛ ِکتاب المواقِیتِ، باب التشدِیدِ فِی تأخِیرِ العصرِ ، المسندِ ط۔ الحلبِیِ: ۳؍۱۴۹۔ ]

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوّے کی طرح ٹھونگیں مارنے سے منع فرمایا ہے۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس قسم کی حکایات نقل کرنا مصنف کی جہالت کا آئینہ دار ہے۔پھر راتوں کو تہجد پڑھنا اور ایک رکعت میں قرآن ختم کرنا تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی ثابت ہے۔ اور آپ کی تہجد گزاری اور تلاوت قرآن صاف ظاہر ہے ۔

انفس سے کیا مراد ہے؟ :

[اشکال ]: شیعہ مصنف کہتا ہے:’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل ترین ہستی ہیں ۔‘‘ 

[جواب]: یہ فقط خالی [اور خیالی ]دعوی ہے ؛ جس میں اگلے اور پچھلے جمہور مسلمین کی مخالفت کی گئی ہے۔ [شیعہ کے پاس اس کی کوئی مستند دلیل نہیں ہے ؛ جب کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خود حضرت ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہما کو اپنے سے افضل مانتے تھے ]۔ 

[اشکال ]: شیعہ کا قول کہ : اللہ نے آپ کی ذات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات قرار دیااور فرمایا: ﴿وَ اَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَکُمْ ﴾ ’’اور ہمارے نفسوں کو اورتمہارے نفسوں کو ۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھائی بنا لیاتھا۔‘‘

[جواب] :[مذکورہ]حدیث مواخات سند کے اعتبار سے موضوع ہے؛ اس لیے کہ آپ نے کسی کو بھائی نہیں بنایا۔ مزید برآں مواخات کا رابطہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین کے درمیان آپس میں یا انصار کے مابین استوار نہیں تھا بلکہ مہاجرین و انصار کے درمیان تھا؛ جیسا کہ آپ نے سعد بن ربیع اور عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا۔اور سلیمان الفارسی اور ابو درداء رضی اللہ عنہما کے مابین ؛ جیسا کہ صحیحین میں ثابت ہے۔[البخارِی: ۵؍۳۱۳۲، کتاب مناقِبِ الأنصارِ، باب إِخائِ النبِیِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بین المہاجِرِین والأنصارِ:۵؍۶۹؛ کتاب مناقِبِ الأنصارِ،باب کیف آخی النبِی صلی اللّٰہ علیہ وسلم بین أصحابِہِ۔ مسلِم:۴؍۱۹۶۰؛ کتاب فضائِلِ الصحابۃِ، باب اخائِ النبِیِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بین صحابِہِ۔ سننِ التِرمِذِیِ: ۴؍۲۳ کتاب الزہدِ، باب: ۴۸۔]

صفحہ 8 از 13