فصل:....بارہ آئمہ کے خصائص پر رافضی کا کلام - ردِ رافضیت |…

فصل:....بارہ آئمہ کے خصائص پر رافضی کا کلام

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 9 از 13

[باقی رہا]شیعہ مصنف کا یہ کہنا کہ سورہ آل عمران کی آیت ﴿ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَکُمْ﴾ (آل عمران:۶۱) میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو نفس رسول قرار دیا گیا ہے؛ بالکل غلط ہے۔اس آیت میں انفس کا لفظ اسی طرح استعمال کیا گیا ہے کہ جس طرح مندرجہ ذیل آیات میں ۔قرآن میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ لَوْلَا اِذْ سَمِعْتُمُوْہُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِاَنْفُسِہِمْ خَیْرًا﴾ (النور:۱۲)

’’اسے سنتے ہی مومن مردوں عورتوں نے اپنے حق میں نیک گمانی کیوں نہ کی ۔‘‘

یہ آیت کریمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت میں قصہ افک میں نازل ہوئی۔یہاں پر مؤمنین میں سے کسی بھیمؤمن مرد یا عورت کو دوسرے مؤمن کی ذات [نفس]سے تعبیر کیا گیا ہے۔[البخارِیِ:۵؍۱۱۶ قالت عائِشۃ: کان رسول اللہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم إذا أراد سفرا أقرع بین أزواجِہِ، ....۔والحدِیث فِی: البخارِیِ:۳؍۱۷۳؛ کتاب الشہاداتِ، باب تعدِیلِ النِسائِ بعضِہِن بعضا، مسلِم:۴؍۲۱۲۹، ۲۱۳۸، کتاب التوبۃ، باب فِی حدِیثِ الِفۃِ ، المسند ط۔الحلبِی: ۶؍۱۹۴، ۱۹۷۔]

نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ فَتُوْبُوْ آاِلٰی بَارِئِکُمْ فَاقْتُلُوْآ اَنْفُسَکُمْ﴾ (البقرہ:۵۳)

’’ اب تم اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع کرو، اپنے آپ کو آپس میں قتل کرو۔‘‘

یعنی آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرو۔[دیکھو: تفسیر الطبری ط: المعارف ؛ ۲؍۷۲۔ اثر نمبر۹۳۴ ۔ ]نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَکُمْ لَا تَسْفِکُوْنَ دِمَآئَ کُمْ وَ لَا تُخْرِجُوْنَ اَنْفُسَکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ ﴾ (البقرہ:۸۳)

’’اور جب ہم نے تم سے وعدہ لیا کہ آپس میں خون نہ بہانا(قتل نہ کرنا)اورایک دوسرے کو جلاوطن مت کرنا۔‘‘

یعنی آپس میں ایک دوسرے کو اپنے شہروں سے نہ نکالنا ۔یہاں پر انفس [نفوس ] سے مراد اپنے بھائیوں کے نفس ہیں ؛ خواہ یہ بھائی چارہ نسبی ہو یا دینی ۔ ان آیات میں انفس سے نسبی یا دینی بھائی مراد ہیں ۔[اس آیت :﴿انفسنا و أنفسکم ﴾کی تفسیر کے لیے شیعہ علماء کی تفاسیر بھی دیکھیں ؛ ان سے یہ کلام ڈاکٹر احمد صبحی نے اپنی کتاب ’’شیعہ اثنا عشریہ اور نظریہ امامت ‘‘ ص ۲۷۷ پر نقل کیا ہے۔ ]

سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے فرمایا:((اَنْتَ مِنِّیْ وَاَنَا مِنْکَ )) [صحیح بخاری، کتاب الصلح، باب کیف یکتب ھذا ما صالح فلان (حدیث: ۲۶۹۹)، مطولاً ]

’’تم مجھ سے ہو ‘اور میں تجھ سے ہوں ۔‘‘

نیزنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ کسی غزوہ کے دوران جب قبیلہ اشعر کے لوگوں کا توشہ ختم ہوجاتا ہے تو وہ اپنے باقی ماندہ توشہ کو ایک چادر میں جمع کر کے اسے برابر برابر تقسیم کر لیتے ہیں اس لیے یہ میرے ہیں اور میں ان کاہوں ۔‘‘ [صحیح بخاری، کتاب الشرکۃ۔ باب الشرکۃ فی الطعام والنھد(حدیث:۲۴۸۶) صحیح مسلم۔کتاب فضائل الصحابۃ۔ باب من فضائل الاشعریین رضی اللّٰہ عنہم( حدیث: ۲۵۰۰)]

سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جلبیب رضی اللہ عنہ [رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی کی وجہ یہ تھی کہ صحابی حضرت جلبیب رضی اللہ عنہ ایک غزوہ میں گم ہوگئے اور آپ نے ان کو تلاش کرنے کا حکم دیا، تلاش کرنے پر آپ کی نعش ملی، سات مشرکین آپ کے ارد گرد مقتول پڑے تھے، ان کو ٹھکانے لگانے کے بعد آپ نے جام شہادت نوش کیا، یہ منظر دیکھ کر آپ نے ان کے حق میں دعائے خیر کی، نیز فرمایا: ’’ ھٰذَا مِنِّی وَاَنَا مِنْہُ ‘‘ ]کے بارے میں فرمایا:

((ھٰذَا مِنِّیْ وَاَنَا مِنْہُ۔))یہ دونوں رواتیں صحیح ہیں ۔[صحیح مسلم۔ کتاب فضائل الصحابۃ ۔ باب من فضائل جلبیب رضی اللّٰہ عنہ (ح: ۲۴۷۲)۔] ان کی تفصیل اپنی جگہ پر موجود ہے۔

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نکاح:

اس میں شبہ نہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نکاح سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ان کی عظمت و فضیلت کا موجب ہے، جس طرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی دونوں بہنوں کے ساتھ (یکے بعد دیگرے) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے باعث فضیلت ہے، اور نبی کا عقد مبارک حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی بیٹیوں کے ساتھ ان دونوں کی عزت افزائی کا موجب ہے، خلاصہ کلام یہ کہ چاروں خلفاء رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رشتہ مصاہرت[سسرالی] میں جکڑے ہوئے تھے۔

[اشکال ]: شیعہ مصنف لکھتا ہے:حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بہت سے معجزات صادر ہوئے۔‘‘[انتہیٰ کلام الرافضی]

[جواب]:اگر معجزات کے لفظ سے شیعہ مصنف کرامات مراد لیتا ہے جیسا کہ لوگ یہ اصطلاح استعمال کرتے ہیں ‘ تو اس میں شبہ نہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بہت سے صاحب کرامات اولیاء سے افضل تھے۔اورکرامات بہت سے ان اہل سنت والجماعت عوام سے بھی ثابت ہیں جو حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کوحضرت علی رضی اللہ عنہ پر ترجیح دیتے ہیں ۔توپھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کرامات کیسے ثابت نہیں ہوسکتیں ؟ اور صرف کرامات کا ہونا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ آپ سے دوسرا کوئی افضل نہیں ہے ۔ 

[حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق دعویء ربوبیت]:

[اشکال ]: شیعہ مصنف کا یہ قول کہ: ’’بہت سے لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ربوبیت کا دعویٰ کیا اور آپ نے انہیں قتل کروا دیا۔‘‘

[جواب]:یہ عقیدہ جہالت کی انتہاء ہے۔اس کی کئی ایک وجوہات ہیں :

پہلی وجہ:....سالار انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات بہر حال اکثر و اعظم تھے اور اللہ کا شکر ہے کہ آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی ایک نے آپ کو رب قرار نہ دیا۔

دوسری وجہ:....حضرت ابراہیم اورموسی رحمہم اللہ کے معجزات بہت بڑے اور بہت زیادہ ہیں ؛ لیکن ان میں سے بھی کسی ایک کو رب نہیں قرار دیا گیا ۔

تیسری وجہ:....ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت موسی علیہ السلام کے معجزات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات سے بہت زیادہ ہیں مگر پھر بھی ان دونوں میں سے کسی ایک کو بھی رب نہیں مانا گیا جیسا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں لوگوں نے غلو کیا۔

صفحہ 9 از 13