فتح مصر کے اہم دروس و عبر اور فوائد
علی محمد الصلابیحضرت عبادہ بن صامت انصاری رضی اللہ عنہ کی سفارت
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے جب قلعہ بابلیون کا محاصرہ کیا تو مقوقس نے حضرت عمروؓ کے پاس یہ خط لکھا:
’’تم ہمارے ملک میں گھس آئے ہو اور ہم سے لڑنے پر تلے ہو، ہمارے ملک میں تمہارا قیام طویل ہوگیا ہے، حالانکہ تم مٹھی بھر ہو اور روم کی مسلح افواج تم سے مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں، تم دریائے نیل کے گھیرے میں ہو اور ہمارے ہاتھوں میں قید ہو، اپنے کچھ آدمی ہمارے پاس بھیج دو کہ ہم سنیں وہ کیا کہتے ہیں، ممکن ہے کوئی ایسی صورت نکل آئے جو ہمارے اور تمہارے لیے یکساں پسندیدہ ہو اور یہ جنگ ختم ہو جائے پیشتر ازیں کہ رومی افواج تم پر چھا جائیں اور بات چیت کا کوئی پہلو اور کوئی فائدہ باقی نہ رہے۔ ہو سکتا ہے جنگ کا نتیجہ تمہاری خواہش اور امید کے برخلاف نکلے اور تمہیں ندامت اٹھانی پڑے، اس لیے اپنے نمائندے ہمارے پاس بھیجو کہ ان کے ذریعہ سے ہماری اور تمہاری پسند کی بات طے ہو جائے۔‘‘
جب مقوقس کے قاصد حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس اس کا خط لے کر آئے تو حضرت عمرو بن عاصؓ نے انہیں دو دن اور دو راتیں اپنے پاس روک لیا، مقوقس کو ان کے بارے میں تشویش لاحق ہوئی اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ’’آپ لوگوں کا کیا خیال ہے؟ کیا وہ سفیروں کو قید یا قتل کرتے ہیں اور ان کا مذہب انہیں اس بات کی اجازت دیتا ہے؟‘‘ جب کہ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کے روکنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ مسلمانوں کی حالت و حوصلہ مندی دیکھ لیں۔ دو دن کے بعد حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے انہیں اس مکتوب کے ساتھ واپس کیا:
’’ہمارے اور تمہارے درمیان صرف تین صورتیں ہیں:اسلام قبول کر لو اور اس صورت میں تم ہمارے بھائی ہو گے، ہمارے تمہارے حقوق یکساں ہوں گے اور اگر تمہیں یہ نامنظور ہے تو زیر دست بن کر جزیہ ادا کرو، ورنہ ہم صبر و استقلال کے ساتھ تم سے لڑیں گے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کر دے اور اللہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔‘‘
(عبادۃ بن الصامت صحابی کبیر و فاتح مجاہد: صفحہ 91)
جب مقوقس کے قاصد اس کے پاس گئے تو اس نے وفد سے مسلمانوں کا حال پوچھا، انہوں نے کہا: ہم نے ایک ایسی قوم دیکھی ہے جس کا ہر فرد زندگی سے زیادہ موت اور غرور سے زیادہ خاکساری کو پسند کرتا ہے۔ ان میں کوئی ایسا نہیں جو دنیا سے کوئی دلچسپی یا غرض رکھتا ہو، وہ زمین پر بیٹھتے ہیں، گھٹنوں کے بل بیٹھ کر کھاتے ہیں، ان کا امیر گویا انہی میں سے ایک ہے۔ ان میں شریف اور کمتر، آقا اور غلام کی کوئی تمیز نہیں۔ جب نماز کا وقت ہوتا ہے تو کوئی پیچھے نہیں رہتا۔ سب وضو کرتے ہیں اور خشوع وخضوع سے نماز پڑھتے ہیں۔
یہ سن کر مقوقس نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کی قسم کھائی جاتی ہے، یہ لوگ چاہیں تو پہاڑوں کو بھی اپنی جگہ سے ہٹا سکتے ہیں، ان سے کوئی نہیں لڑ سکتا۔ اگر آج ہم ان سے صلح نہ کر سکے جب کہ نیل نے انہیں گھیر رکھا ہے تو کل اس خطرے سے نکل جانے کے بعد انہیں صلح پر کیسے آمادہ کر سکیں گے؟ پھر اس نے اپنے قاصدوں کو مسلمانوں کے پاس کہلا بھیجا کہ اپنے نمائندے ہمارے پاس بھیجو، ہم ان سے گفتگو کریں گے، بہت ممکن ہے کوئی ایسا پہلو نکل آئے جس میں ہم تم دونوں کی بھلائی ہو۔ چنانچہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے دس افراد پر مشتمل ایک وفد بھیجا، ان میں ایک حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بھی تھے، حضرت عبادہؓ کا قد صرف دس بالشت تھا۔ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے رومیوں سے گفتگو کرنے کی ذمہ داری انہی کے سپرد کی اور انہیں حکم دیا کہ ان تین شرائط میں سے کسی ایک شرط کے سوا رومیوں کی کوئی تجویز منظور نہ کریں گے۔ اس لیے کہ امیرالمؤمنین رضی اللہ عنہ کی طرف سے ہمیں یہی حکم ملا ہے۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کا رنگ سیاہ تھا۔ جب یہ وفد کشتی پر سوار ہو کر مقوقس کے پاس پہنچا تو عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بات کرنے کے لیے آگے بڑھے۔ مقوقس، حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کا سیاہ رنگ دیکھ کر خوفزدہ ہوگیا اور کہا اس کالے کلوٹے شخص کومیرے پاس سے ہٹاؤ اور کسی اور کو آگے کرو جو مجھ سے بات کرے۔ وفد کے لوگوں نے کہا: یہ کالا کلوٹا شخص ہم سب سے زیادہ عقل مند اور عالم ہے وہی ہمارا سردار، ہم میں سب سے بہتر اور ہمارا رہنما ہے۔ ہم سب اسی کی بات اور رائے مانتے ہیں۔ مسلمانوں کے امیر نے اسے ہمارا ذمہ دار بنا کر بھیجا ہے اور کہا ہے کہ اس کی کسی بات اور رائے کی ہم مخالفت نہ کریں۔
مقوقس نے وفد والوں سے کہا: اس کالے کلوٹے کو اپنا سب سے افضل انسان ماننے کے لیے کیسے تیار ہو، بہتر تو یہ تھا کہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا ذمہ دار ہوتا؟ انہوں نے کہا: ہرگز نہیں۔ وہ اگرچہ تمہاری نگاہوں میں کالا کلوٹا ہے لیکن ہمارے نزدیک ان کا بہت اونچا مرتبہ ہے۔ وہ ہم سب سے پہلے اسلام لائے اور ہم سب سے زیادہ عقل مند و زیرک ہیں۔ کالا ہونا ہمارے نزدیک کوئی معیوب چیز نہیں ہے۔
پھر مقوقس نے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے کہا: اے کالے کلوٹے! آگے آؤ اور مجھ سے نرمی سے بات کرو، کیونکہ تمہارا سیاہ رنگ دیکھ کر مجھے ڈر لگتا ہے، اگر تم نے سخت لہجے میں بات کی تو میری گھبراہٹ اور خوف میں اضافہ کر دو گے۔ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور کہا: میں نے تمہاری بات سن لی، سنو! میرے پیچھے میرے ایک ہزار ساتھی ایسے ہیں جو میری ہی طرح کالے کلوٹے ہیں، بلکہ مجھ سے بھی زیادہ سیاہ اور ہیبت ناک منظر والے، اگر تم ان کو دیکھو گے تو مجھ سے زیادہ ان سے خوفزدہ ہو گے۔ میں تو ایسے وقت میں ذمہ دار بن کر آیا ہوں کہ اب میری جوانی ڈھل رہی ہے۔ اس کے باوجود اللہ کا فضل ہے کہ اگر ایک سو (100) دشمن میرے مقابلہ میں آجائیں تو میں ڈرنے والا نہیں ہوں اور اسی طرح میرے تمام ساتھی ہیں۔ ہمارے اندر یہ حوصلہ و ہمت اس لیے ہے کہ ہماری خواہش اور ہمارا مقصد صرف اللہ کے راستے میں جہاد کرنا اور اسی کی رضا جوئی ہے۔ اپنے دشمنوں اور اعدائے اسلام سے ہماری لڑائی کا مقصد دنیا طلبی اور زیادہ سے زیادہ دولت سمیٹنا نہیں ہے اور ایسا بھی نہیں کہ اللہ نے دنیا ہمارے لیے بالکل حرام کر دی ہے، بلکہ غنیمت میں ملنے والا مال ہمارے لیے حلال ہے۔ ہم میں سے کسی کو یہ پروا نہیں ہوتی کہ کس کے پاس سونے کا انبار ہے اور کس کے پاس درہم کا ایک سکہ۔ اس لیے کہ ہم دنیوی زندگی کا ماحصل یہ سمجھتے ہیں کہ چند لقمے کھانا ملے جس سے بھوک مٹائی جا سکے اور چادر ہو جسے اوڑھا جا سکے، اگر کسی کو یہی میسر ہے تو بس اس کے لیے یہی کافی ہوتا ہے اور اگر کسی کے پاس سونے کا انبار ہوتا ہے تو وہ سب کچھ اللہ کے راستے میں لٹا کر صرف اسی مختصر زندگی پر اکتفا کرتا ہے۔ اس لیے کہ دنیا کی نعمتیں دائمی نہیں ہیں، یہاں کی خوش حالی حقیقی نہیں ہے۔ حقیقی نعمت اور خوش حالی تو آخرت کی ہے، ہمارے رب اور ہمارے نبی نے ہمیں اس بات کا حکم دیا ہے اور ہم سے وعدہ لیا ہے کہ دنیا کی دولت کے ہم اتنے طلب گار بنیں جس سے ہماری بھوک مٹ جائے، جسم کی سترپوشی ہو جائے۔ ساری کوششوں اور تمام تر مصروفیات کا خلاصہ اللہ کی خوشنودی کی تلاش اور اس کے دشمنوں سے جہاد ہو۔
مقوقس نے یہ سن کر اپنے اردگرد بیٹھنے والوں سے کہا: کیا اس آدمی کی طرح تم نے کبھی کسی کی بات سنی؟ میں تو اس کی شکل دیکھ کر ہیبت میں پڑ گیا اور سب سے زیادہ اس کی بات خوفزدہ کر دینے والی ہے۔ مجھے لگ رہا ہے کہ اللہ نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو دنیا تباہ کرنے کے لیے بھیجا ہے اور یہ لوگ جلد ہی پوری دنیا پر قابض ہو جائیں گے۔
پھر حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوا اور کہا: اے فلاں! تم نے اپنے اور اپنے ساتھیوں کے بارے میں جو کچھ کہا میں نے سن لیا۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تمہاری کامیابی کا راز وہی ہے جو تم نے بتایا اور اپنی مفتوحہ اقوام پر تمہیں غلبہ اسی وجہ سے ملا ہے کہ دنیا انہیں زیادہ پیاری تھی اور وہ اس کے لیے زیادہ کوشاں تھے۔ تم سے لڑنے کے لیے رومیوں کی بے شمار افواج ہمارے پاس آرہی ہیں جو اپنی طاقت اور قہرسامانی کے لیے مشہور ہیں، انہیں قطعاً پروا نہیں ہوتی کہ کس سے مقابلہ اور کس سے لڑائی ہونی ہے، کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ ان کے مقابلہ پر آسکے۔ ہمیں معلوم ہے کہ تم اپنی کمزوری اور قلت تعداد کی وجہ سے ان کے سامنے نہ ٹھہر سکو گے، تمہیں یہاں پڑے ہوئے کئی مہینے ہوگئے ہیں اور معاش کی تنگی کے ساتھ ساتھ دوسری ضروریات نے بھی تم کو پریشان کر رکھا ہے، ہم تمہاری کمزوری، قلت تعداد اور بے سروسامانی کی وجہ سے تم پر ترس کھاتے ہیں اور تم سے اس شرط پر مصالحت کر لینے میں خوشی محسوس کرتے ہیں کہ سپاہیوں کو دو دو دینار اور تمہارے امیر کو سو (100) دینار اور خلیفہ کے لیے ایک ہزار دینار دیتے رہیں گے، تم اسے قبول کرو اور قہر آگیں طاقت مسلط ہونے سے پہلے یہاں سے چلے جاؤ۔
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کہا: اے فلاں! خود کو اور ساتھیوں کو دھوکے میں نہ ڈالو۔ رومی افواج کی کثرت اور ان کی مسلح پیش قدمی کی جو تم ہمیں دھمکی دے رہے ہو اور کہتے ہو کہ ہم ان کا مقابلہ نہ کر پائیں گے تو سن لو! میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ چیز ہمیں خوف نہیں دلا سکتی اور نہ ہمارے حوصلے پست کر سکتی ہے۔ اگر تم اپنی بات میں سچے ہو تو جان لو کہ اللہ کی قسم یہ چیز ان سے لڑنے میں ہمیں اور قوت دے گی اور ہمارے حوصلے بلند ہو جائیں گے۔ اس لیے کہ جب ہم اپنے رب کے پاس حاضر ہوں گے تو اپنے فرض سے بری الذمہ ہوں گے اور اگر ہم سب قتل کر دیے گئے تو اس کی خوشنودی اور جنت ہمارے نصیب میں آئے گی اور اس سے بڑھ کر نہ کوئی چیز ہمارے نزدیک محبوب ہے اور نہ آنکھوں کو ٹھنڈک دینے والی ہے۔ اس وقت ہم تمہاری وجہ سے دو میں سے ایک بھلائی ضرور پائیں گے اگر ہم تم پر فتح یاب ہوئے تو دنیا میں تم سے بہت زیادہ مال غنیمت ملے گا یا تم ہم پر فتح یاب ہوگے اور ہمیں آخرت کی بھلائی ملے گی۔ ہماری کوشش کے نتیجے میں دونوں میں سے آخر الذکر ہی ہمیں سب سے زیادہ محبوب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب عزیز میں ہم سے فرمایا ہے:
کَمۡ مِّنۡ فِئَةٍ قَلِيۡلَةٍ غَلَبَتۡ فِئَةً کَثِيۡرَةً بِاِذۡنِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِيۡنَ۞ (سورۃ البقرة آیت 249)
ترجمہ: نہ جانے کتنی چھوٹی جماعتیں ہیں جو اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آئی ہیں، اور اللہ ان لوگوں کا ساتھی ہے جو صبر سے کام لیتے ہیں۔
ہم میں سے ہر ایک مسلمان صبح و شام اپنے رب سے شہادت کے لیے دعا کرتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ اپنے شہر اور اہل وعیال کی طرف لوٹ کر نہ جائے۔ کوئی اپنے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتا۔ اپنے اہل و عیال کو اللہ کی حفاظت میں دے کر آیا ہے۔ ہماری فکر آگے کی ہوتی ہے۔
اور تمہارا یہ کہنا کہ معاش کی تنگی کے ساتھ ہم دوسری ضروریات میں الجھے ہوئے ہیں، تو جان لو کہ ہم بہت خوشحال ہیں، اگر پوری دنیا کی دولت ہمارے قبضہ میں آ جائے پھر بھی ہم موجودہ اسباب زندگی سے زیادہ کے خواہش مند نہ ہوں گے، تم کیا چاہتے ہو، اچھی طرح غور کر لو اور پھر ہمیں بتاؤ، ہمارے اور تمہارے درمیان تین چیزوں کے علاوہ کسی اور بات پر فیصلہ نہ ہوگا، ان میں سے کوئی ایک اختیار کر لو اور ہم سے باطل کے لیے امیدیں مت لگاؤ ہمارے امیر نے ہمیں یہی کہہ کر بھیجا ہے اور امیرالمؤمنین نے ان سے یہی کہا ہے اور اس سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہمیں حکم دیا، اسلام قبول کر لو کیونکہ اللہ کو اس کے علاوہ کوئی دین منظور نہیں، یہی اس کے انبیاء، رسولوں اور فرشتوں کا دین ہے۔ اس نے ہمیں حکم دیا کہ اس کی مخالفت اور دشمنی کرنے والوں سے ہم اس وقت تک لڑتے رہیں جب تک کہ وہ اسے قبول نہ کر لیں۔ اگر کوئی اسے قبول کر لیتا ہے تو اسے اور ہمیں یکساں حقوق حاصل ہوں گے اور وہ ہمارا دینی بھائی ہوگا، لہٰذا اگر تم اور تمہارے ساتھی بھی اسے قبول کر لیں تو دنیا و آخرت کی سعادتوں سے بہرہ مند ہو جائیں گے اور ہم تم سے جنگ نہیں لڑیں گے، تمہیں تکلیف دینا حلال نہیں سمجھیں گے اور نہ تم سے کوئی چھیڑ چھاڑ کریں گے۔
اور اگر جزیہ دینا منظور ہے تو ہمارے زیردست بن کر ہمیں جزیہ دو، ہمارا آپس میں ہماری اور تمہاری پسند کا اور جب تک ہم اور تم باقی ہیں ہر سال دینا ہوگا اور اگر کوئی تمہیں زک پہنچانا چاہے گا، تمہاری زمین غصب کرنا چاہے گا، تمہارے قتل کے درپے ہوگا یا مال لوٹنا چاہے گا تو ہم تمہاری طرف سے دفاع کریں گے۔ جب تک تم ہمارے ذمہ میں ہو ہم اسے پورا پورا نبھائیں گے۔ تمہارے لیے ہم پر یہی اللہ کا حکم نازل ہوا ہے اور اگر تم جزیہ دینا بھی نامنظور کرتے ہو تو ہمارے اور تمہارے درمیان تلوار ہی فیصلہ کرے گی۔ یہاں تک کہ ہم سب مر جائیں، یا تم پر غالب ہو جائیں۔ ہمارا وہ دین ہے جسے اللہ کے لیے مانتے ہیں، ہمارے اور اس کے مابین جو عہد ہے اس کی بنیاد پر اس کے سوا ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ تم اپنے بارے میں اچھی طرح غور کر لو۔
مقوقس نے کہا: یہ ایسا مطالبہ ہے جو ہرگز منظور نہیں، کیا تم زندگی بھر ہمیں اپنا غلام بنانا چاہتے ہو؟
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ایسے ہی ہے، تم کسی ایک کو اختیار کر لو۔
مقوقس نے کہا: کیا ان تینوں شرائط کے علاوہ کوئی اور شرط نہیں ہے جو ہمارے لیے قابل قبول ہو؟
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا دیے اور کہا: نہیں! آسمان و زمین اور پوری کائنات کے رب کی قسم ہے! ہمارے پاس تمہارے لیے ان تینوں کے علاوہ کوئی چوتھی شرط نہیں ہے، تم اپنے لیے جو چاہو اختیار کرو۔
یہ سب کچھ سننے کے بعد مقوقس اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوا اور کہا: وہ اپنی بات کہہ چکا، تمہارا خیال کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: کیا کوئی اس ذلت سے راضی ہو سکتا ہے؟ ان کا جو یہ کہنا ہے کہ ہم ان کا دین قبول کر لیں سو ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا، ہم مسیح بن مریم کے دین کو چھوڑ کر وہ دین ہرگز نہیں قبول کریں گے جسے ہم جانتے ہی نہیں اور وہ لوگ جو یہ چاہتے ہیں کہ ہم کو ہمیشہ غلام بنا کر رکھیں، سو مرجانا اس سے بہتر ہے، ہاں جس رقم کی پیشکش ہم نے بار بار کی ہے اگر اس کا دو گنا بھی دینا پڑے تو یہ ہمیں منظور ہے۔
مقوقس نے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میری قوم نے تمہاری بات کا انکار کر دیا، اب تمہارا کیا خیال ہے؟ اپنے امیر کے پاس جاؤ اور بتا دو کہ اس مرتبہ جتنا تمہارا مطالبہ ہو اتنا ہم دینے کو تیار ہیں، لوٹ جاؤ۔
حضرت عبادہؓ اور ان کے ساتھی اٹھے اور وہاں سے واپس ہوگئے۔
مقوقس نے اپنے قریب بیٹھنے والوں سے کہا: تم لوگ میری بات مان لو اور مسلمانوں کی تینوں شرائط میں سے کوئی ایک منظور کر لو۔ اللہ کی قسم! تم سب ان سے مقابلہ نہیں کر سکو گے، اور اگر اسے بخوشی ماننے کو تیار نہیں ہو تو یقیناً بہت جلد اس سے بھی بڑی چیز مجبوراً ماننا ہوگی۔
انہوں نے کہا: پھر ہم ان کی کون سی شرط مان لیں؟
مقوقس نے کہا: میں بتاتا ہوں، رہی یہ بات کہ اپنا دین چھوڑ کر دوسرا دین قبول کر لو تو میں اسے نہیں کہوں گا اور جہاں تک ان سے جنگ لڑنے کی بات ہے تو مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ تم ان کا مقابلہ اور ان کی طرح صبر نہیں کر سکتے۔ ایسی صورت میں تمہارے سامنے تیسری ہی شرط بچ رہی ہے۔
اس کے ساتھیوں نے کہا: تو کیا ہم ہمیشہ ان کے غلام بن کر رہیں؟
مقوقس نے کہا: ہاں! غلام رہو گے لیکن اپنے ملک کے مالک رہو گے، تمہاری جان و مال اور آل و اولاد کو حفاظت حاصل ہوگی اور یہ غلامی اس سے بہتر ہے کہ تمہارا ایک ایک آدمی مارا جائے یا تمہیں اس طرح غلام بنا لیا جائے کہ تم اور تمہارے اہل و عیال اپنے وطن میں نشانہ ستم بن جائیں اور مسلمان بھیڑ بکریوں کی طرح تمہیں بیچتے اور خریدتے رہیں۔
انہوں نے کہا: اس سے بہتر موت ہے۔
اور پھر فسطاط اور جزیرہ کو ملانے والے پل کو توڑنے کا حکم دیا اور قلعہ کی طرف لوٹ گئے جہاں بہت سارے قبطی اور رومی موجود تھے۔
مقوقس اور حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کے درمیان ہونے والی اس گفتگو میں حضرت عبادہؓ کی ذکاوت و دانائی اور اپنے حریف کے مقصد کو بھانپ لینے کی صلاحیت واضح ہوتی ہے، چنانچہ بات چیت کے نتائج پر اثر انداز ہونے اور اپنی دھونس جمانے کے لیے مقوقس کے اسلوب گفتگو سے قطعاً متاثر نہ ہوئے، بلکہ ترکی بہ ترکی اس کا جواب دیتے رہے، اپنے خیالات اور مقاصد کو صاف صاف پیش کرتے رہے، اس کی باتوں میں الجھ کر اسلام کی دعوت دینے سے غافل نہ ہوئے، اسلام کی طرف رغبت دلاتے رہے اور دیگر اقوام اور ادیان و مذاہب پر اسلام اور مسلمانوں کی فتح کا چرچا کرتے رہے۔ ان تمام باتوں کا مقوقس کے دل پر بہت اچھا اثر ہوا اور اسی وجہ سے اس نے مسلمانوں کے ساتھ صلح کر لینے کو پسند کیا۔
(أنصار فی العصر الراشدی: صفحہ 211)