فصل: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت اور ابن مطہر کے…

فصل: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت اور ابن مطہر کے خیالات پررد:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 3

’’ اہل سنت و الجماعت کے ہاں عقیدہ کے اصولوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جس چیز پر صحابہ کرام تھے ‘ اسے مضبوطی سے قائم رہیں ۔....یہاں تک کہ آپ نے فرمایا....: جو شخص مسند خلافت پر قابض ہو اور لوگ اس کی خلافت پر اجماع کر لیں ؛ اور اس کے خلیفہ ہونے پر راضی ہو جائیں ۔اور اسی طرح جو شخص بزور شمشیر خلیفہ بن بیٹھے؛ اور لوگ اسے مسلمانوں کا حکمران تسلیم کرلیں تو اس کو صدقات دینا جائز ہے، خواہ وہ نیک ہویا بد۔‘‘

فرماتے ہیں : اسحاق بن منصور کی روایت میں ہے؛ بیشک آپ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کے متعلق پوچھا گیا: ’’جو کوئی اس حال میں مرا کہ اس کا کوئی امام نہ ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔‘‘ اس کا کیا معنی ہے؟تو آپ نے پوچھا: تم جانتے ہو امام کیا ہے؟ امام وہ ہوتا ہے جس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہو؛ اور وہ سبھی کہتے ہوں : یہ امام ہے۔ اس کا معنی یہ ہے۔‘‘[فِی المسند ط. الحلبِیِ 4؍96 ولفظہ: ’’ من مات بِغیرِ إِمام مات مِیتۃ جاہِلِیۃ۔‘‘]

اور یہاں پر گفتگو دو چیزوں کے بارے میں ہے:

اول : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا امامت کا مستحق ہونا؛ اور یہ کہ آپ کی بیعت ان امور میں سے تھی جن کو اللہ تعالیٰ اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم پسند کرتے تھے۔ یہ بات نصوص اور اجماع کی روشنی میں ثابت ہے۔

دوم: جب آپ امام بن گئے ؛ یہ اس وقت ہوا جب اعیان حکومت اور اہل سطوت نے آپ کی بیعت کرلی؛ اور ایسے ہی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حق میں عہد لیا تو آپ بھی امام بن گئے کیونکہ لوگوں نے آپ کی بیعت کی اور اطاعت قبول کرلی۔ تصور کر لیجیے کہ اگر وہ لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کئے گئے عہد کو پورا نہ کرتے؛ اور ان کی بیعت نہ کرتے تو آپ امام نہ بن سکتے تھے؛ بھلے یہ طریقہ جائز تھایا ناجائز ۔

حلال اور حرام ہونے کا تعلق افعال سے ہے۔ جب کہ نفس ولایت اور سلطان ؍حکومت اصل میں یہ اس حاصل شدہ قدرت سے عبارت ہے۔ پھر یہ قدرت کبھی ایسے طریقے سے حاصل ہو جاتی ہے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا پسندیدہ طریقہ ہو؛ جیسا کہ خلفائے راشدین کو حکومت حاصل ہوئی تھی۔ اور کبھی یہ نافرمانی اور عصیان کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے جیسے ظالم اور جابر حکمرانوں کی حکومتیں ۔

چلیں اگریہ مان لیا جائے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ ایک گروہ نے آپ کی بیعت کر لی تھی۔ اور باقی سارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس بیعت کا انکار کرتے تھے؛ تو اس طرح تو آپ امام ؍ حاکم نہیں بن سکتے تھے۔ بیشک آپ امام اس وقت بنے جب جمہور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ کی بیعت کرلی ۔ اور یہ جمہور صحابہ وہ اہل شان و شوکت ؛ اہل حل و عقد تھے؛ جنہیں قدرت حاصل تھی۔ اسی لیے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا بیعت نہ کرنا کوئی نقصان دہ ثابت نہ ہوا۔ کیونکہ اس سے ولایت کے اصل مقصود پر کوئی قدح وارد نہیں ہوتی تھی۔ کیونکہ مقصود تو شوکت و سطوت اور قدرت ہوتی ہے؛ جن کی وجہ سے امت کی مصلحتیں پوری ہوسکتی ہوں ۔ اور یہ مقصد حضرات جمہور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بیعت کر لینے سے حاصل ہوگیا تھا۔

اب جو کوئی یہ کہتا ہو کہ کسی ایک یا دو یا چار افراد کی موافقت سے کوئی امام بن جاتا ہے؛ اور یہ لوگ اہل شوکت و سطوت اور اہل قدرت نہ ہوں ؛ تو یقیناً اس نے غلط بیانی کی ۔ جیسا کہ اس آدمی کا حال ہے جو گمان کرتا ہے کہ کسی ایک ؛ دو چار یا دس کا بیعت سے پیچھے رہ جانا نقصان دہ ہے؛ یہ بھی یقیناً غلط ہے۔

حضرات مہاجرین و انصار رضی اللہ عنہم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی تھی۔ یہ حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گہرے ہم راز اور دوست و انصار تھے۔ جن کی وجہ سے اسلام کو عزت او رقوت نصیب ہوئی۔ اور ان کے ساتھ مل کر مشرکین پر غلبہ پایا۔ اور جزیرہ عرب فتح ہوا۔ تو وہ جمہور جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی ؛ انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بھی بیعت کی ۔رہ گئی یہ بات کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ یا کوئی دوسرا بیعت کرنے میں سبقت لے گیا؛ تو ایسا بھی ضروری ہے کہ ان بیعت کرنے والوں میں سے کوئی ایک سبقت بھی لے جائے۔ اگر یہ با ت مان لی جائے کہ کچھ لوگ اس بیعت کو نا پسند کرتے تھے؛ تو پھر بھی اس سے بیعت سے مقصود پر قدح وارد نہیں ہوتی۔ کیونکہ آپ کے لیے نفس استحقاق تو ان شرعی دلائل کی روشنی میں ثابت ہے جو ثابت کرتے ہیں کہ آپ ہی اس منصب کے سب سے زیادہ حق دار تھے۔ اب شرعی دلائل کی موجودگی میں کسی کی مخالفت کچھ بھی نقصان دہ ثابت نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ نفس امامت کا حصول؛ اور اس کا وجود اہل شان و شوکت اور عمائدین اور قائدین کی بیعت اور اطاعت سے حاصل ہوگئی تھی۔

دین حق کے لیے راہ ہدایت دکھانے والی کتاب اور اس کی نصرت کرنے والی تلوار کا ہونا ضروری ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان گرامی ہے:

﴿لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنَاتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَہُمُ الْکِتٰبَ وَالْمِیزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ وَاَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْہِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِیَعْلَمَ اللّٰہُ مَنْ یَّنْصُرُہُ وَرُسُلَہُ بِالْغَیْبِ اِِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ ﴾ (الحدید25)

’’ بلا شبہ یقیناً ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلیلوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور ترازو کو نازل کیا، تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں ، اور ہم نے لوہا اتارا جس میں سخت لڑائی( کا سامان) ہے اور لوگوں کے لیے بہت سے فائدے ہیں اور تاکہ اللہ جان لے کہ کون دیکھے بغیر اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے۔ یقیناً اللہ بڑی قوت والا، سب پر غالب ہے۔‘‘

پس کتاب اللہ تعالیٰ کے احکام کو واضح کرتی ہے؛ کیا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور کس چیز سے منع کیا ہے۔ اور تلوار اس کی مدد ونصرت اور تائید کرتی ہے۔

صفحہ 2 از 3